- By محمد ثاقب
کراچی کی سینٹرل جیل میں کرونا سے 40 افراد متاثر
کراچی کی سینٹرل جیل میں 35 قیدیوں اور عملے سمیت 40 افراد کے کرونا کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بعض قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد تمام قیدیوں کے ٹیسٹ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ادھر سندھ حکومت نے سینٹرل جیل ہی میں قائم انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی قیدیوں کو پیش نہ کرنے کے لیے خط لکھ دیا ہے۔
اس سے قبل ان عدالتوں میں قیدیوں کو مستقل پیش کیا جارہا تھا تاہم کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے خدشے کے باعث جیل ہی میں موجود انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے بھی پیر کے روز مقدمات کی سماعت بغیر کاروائی کے ملتوی کر دی۔
سینئر سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل کراچی حسن سہتو نے انسداد دہشت گردی عدالتوں کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ جیل میں قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ شروع کیے جا چکے ہیں لہذا قیدیوں اور اسٹاف کی جانوں اور صحت کے تحفظ کے پیش نظر عدالتوں میں قیدیوں کو پیشی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
خط کے مطابق جیل میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق سینٹرل جیل کراچی میں اس وقت موجود قیدیوں کی تعداد 3500 ہے۔ جن میں سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق ایک ہزار سے زائد قیدیوں کے کرونا ٹیسٹ کرائے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 35 قیدی وبا کا شکار ہیں۔
جیل حکام کے مطابق تمام ٹیسٹ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ایسٹ کی زیر نگرانی کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سینٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کی گنجائش 2400 کے لگ بھگ ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں قیدیوں کے لیے سماجی فاصلہ برقرار رکھنا کس قدر مشکل ہے۔
- By ضیاء الرحمن
پنجاب میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قواعد و ضوابط جاری
حکومت پنجاب نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری حضرات کے لیے قواعد و ضوابط (ایس او پیز) جاری کر دیے ہیں۔
قواعد و ضوابط کے مطابق دکان یا کاروباری مراکز پر صابن سے ہاتھ دھونے یا سینیٹائز کرنے کی سہولت مہیا کرنا لازم ہے۔ دکان کا عملہ بار بار صابن سے ہاتھ دھونے کے اصول پر عمل کرے گا۔
اسی طرح دکان دار کرنسی نوٹ لیتے یا دیتے وقت پولیتھین کے دستانے استعمال کریں گے۔
سیکریٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر کی جانب سے جاری کرہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دکان میں صرف اتنے گاہک داخل ہونے دیے جائیں کہ افراد کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ یقینی بنایا جا سکے۔ دکان کے باہر اور کیش کاؤنٹر پر تین فٹ دوری کے دائرے لگا کر بھیڑ پر قابو پایا جائے۔ جلد از جلد گاہک نمٹانے کے لیے کاوش کی جائے۔ چھوٹی دکان کے اندر گاہک کو داخل نہ ہونے دیں۔
مراسلے میں ریڑھی اور گلی گلی گھوم کر کاروبار کرنے والوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ خریدار کو ایک میٹر دور کھڑا کریں اور ریڑھی کے گرد بھیڑ نہ جمع کریں۔ گاہک کو ریڑھی اور وزن کرنے والے کانٹے کو ہاتھ نہ لگانے دیں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملبوسات، کاسمیٹکس اور فیشن سے متعلقہ دکان میں اسے پہن کر چیک کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ خریدا ہوا مال واپس نہ کرنے کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔
- By سہیل انجم
بھارت: شہروں سے مزدوروں کی دیہات واپسی کا سلسلہ جاری
بھارت میں لاکھوں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور اپنی عارضی قیام گاہوں سے نکل کر گھروں کو جانے کے لیے نیشنل ہائی ویز اور دیگر سڑکوں پر موجود ہیں۔ وہ مختلف ذرائع نقل و حمل سے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
بہت سے مزدور سیکڑوں کلومیٹر کا سفر پیدل طے کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ 25 مارچ کو پہلے لاک ڈاون کے نفاذ کے بعد سے ہی جاری ہے۔ اس دوران مختلف حادثوں میں متعدد مزدور ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔
حکومت نے پہلے ان مزدوروں کے اپنے ابائی علاقوں میں واپس جانے پر پابندی عائد کر دی تھی مگر پھر اجازت دے دی گئی۔ مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی گئیں جو اب تک حکومت کے مطابق کئی لاکھ مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچا چکی ہیں۔
اسی دوران حکومت نے لاک ڈاون 4.0 کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ ہی اقتصادی سرگرمیاں شروع کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
اس کا مقصد جہاں ایک طرف معیشت کی گاڑی کو آگے بڑھانا ہے وہیں گھروں کی طرف لوٹ رہے مزدوروں کو روکنا بھی ہے۔ لیکن مزدوروں نے جو رخ اختیار کیا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ فی الحال رکنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ مزدور میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی واپسی کو ناممکن بتاتے ہیں۔ بلکہ بعض مزدوروں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ وہ اب واپس شہروں میں نہیں جائیں گے۔ انہیں ان لوگوں سے بڑی شکایت ہے جہاں وہ کام کرتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی انہیں دھتکار دیا گیا اور کہا گیا کہ اب ان کے لیے کام نہیں ہے۔ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ ان کے کھانے پینے اور رہنے سہنے کا کوئی انتظام حکومت یا جن کے لے وہ کام کرتے تھے، کی جانب سے نہیں کیا گیا۔
ان مزدوروں کو مکان مالکان سے بھی بہت شکایت ہے جو ان سے کرایہ مانگ رہے ہیں اور ادا نہ کر پانے کی صورت میں انہیں گھروں سے نکال رہے ہیں۔
ایسے مزدوروں کی بھی تعداد کافی ہے جو اپنا سب کچھ فروخت کرکے اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ ایسے لوگ واضح انداز میں کہتے ہیں کہ وہ گاؤں میں محنت مزدوری کر لیں گے لیکن اب شہر نہیں آئیں گے۔
کرونا وائرس کی شروعات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
دنیا بھر میں کرونا وائرس کی شروعات کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ تاہم چین نے کہا ہے کہ ایسا اقدام قبل از وقت ہو گا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ کرونا وائرس بدستور پھیل رہا ہے۔
یورپین یونین کی طرف سے تیارہ کردہ ایک قرارداد متوقع طور پر اس ہفتے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں منظور کر لی جائے گی۔ یہ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کا نگران ادارہ ہے۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بارے میں جامع تحقیقات کی جائیں کہ کرونا وائرس کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس سے نمٹنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کس حد تک مؤثر تھے۔
آسٹریلیا ایسی تحقیقات کے مطالبے میں پیش پیش رہا ہے اور آسٹریلوی وزیر خارجہ میریسے پین نے کہا ہے کہ ان کا ملک غیر جانب دار، آزاد اور جامع تحقیقات کی خواہش رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اس مطالبے کی بڑھتی ہوئی حمایت سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔
کرونا وائرس کی نشاندہی سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں گزشتہ دسمبر میں ہوئی تھی جس کے بعد یہ دنیا بھر میں پھیل گیا۔
اس وائرس سے اب تک دنیا بھر میں 315000 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 47 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔
یورپ سمیت متعدد ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے نتیجے میں انہوں نے لاک ڈاؤن اور مختلف بندشیں ختم کر دی ہیں۔