- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں عید سے قبل عائد کردہ پابندیاں بحال
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر کے مطابق تجارتی مراکز اور دکانیں کھولنے سے متعلق طے شدہ ایس او پیز پر دوبارہ عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ شام پانچ بجے کے بعد میڈیکل اسٹورز اور دیگر دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں گی۔
ان کے بقول دکانیں ہفتے میں چار دن (پیر، منگل، بدھ اور جمعرات) شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی جب کہ حجام اور سیلون ہفتے میں تین دن (جمعہ، ہفتہ اور اتوار) کھلے رہیں گے۔
پشاور کے مختلف بازاروں میں ایس او پیز کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوزی کو روکنے کے لیے آرڈیننس لایا گیا ہے جس میں ذخیرہ اندوزوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں جن میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔
کرونا وائرس: مدافعتی نظام اور انسانی خلیوں پر تازہ تحقیق
ایسے میں جب کرونا وائرس کے بارے میں ابھی تک قیاس آرائیاں چل رہی ہیں اور بظاہر مفروضوں کی بنیاد پر ہی تحقیق کا کام ہو رہا ہے، سائنسدان کوویڈ نائنٹین کی گتھی سلجھانے کے لئے انسان کے مدافعتی نظام پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ ایک نئے مطالعے نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ مختلف مدافعتی نظام کرونا وائرس پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
انسان کا یہ نظام کروڑوں ایسے خلیوں پر مشتمل ہے جنھیں ٹی سیلز کہا جاتا ہے، قائم ہے جو جسم میں داخل ہونے والے کسی بھی وائرس کی شناخت کرنے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
مائیکروسافٹ اور بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے کوویڈ نائنٹین کے انفیکشن کی صورت میں اس بات کی پہچان کی جاسکے گی کہ جسم میں موجود یہ خلیے کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔
وائس آف امریکہ کی نامہ نگار ٹینا ٹرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو یکساں طور پر تشخیص اور علاج معالجے کو بہتر بنانے اور ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔
سیاٹل میں مقیم کرسٹی کراس ان لوگوں میں شامل ہیں جن میں کرونا وائرس کے انفیکشن کا پہلے پہل پتا چلا تھا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں اور اب وہ اس وائرس پر تحقیق کے ایک پروجیکٹ سے منسلک ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنا خون نکلوانا پسند نہیں۔ لیکن اس سائنسی تحقیق کے لئے میں ایسا کرنے میں خوشی محسوس کررہی ہوں۔ اس طبی مطالعے کو ایمیون ریس کا نام دیا گیا ہے۔
کرونا وائرس کے اثرات امریکی سینیٹ کے انتخابات پر بھی پڑ رہے ہیں
صدر اور کانگریس کی نشستوں کے لیے نومبر 2020ء اب زیادہ دور نہیں۔ مگر کرونا وائرس کی وجہ سے وہ روایتی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ سینیٹ میں اس بار کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی سیاسی مبصرین کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بہرحال، عالمگیر وبا کے ماحول میں اس انتخابی مہم کا انداز جدا گانہ ہوگا۔
امریکہ میں صدر کے انتخاب کے ساتھ سینیٹ کے ایک تہائی امیدواروں کا بھی چناو ہوگا اور اس کے نتائج امریکی سیاست میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہوں گے۔
اس وقت سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے، مگر ان کی برتری اتنی کم ہے کہ اگلے انتخاب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرنے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں اور ان کی ری پبلکن پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھتی ہے تو پھر صدر ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔
اس الکشن میں سب سے اہم لیکن نامعلوم عنصر کرونا وائرس ہے۔ تجزیہ کار یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ اگر اس سال موسمِ خزاں میں کرونا وائرس کی ایک اور لہر آگئی تو امریکی ووٹرز کا رجحان کس پارٹی کی طرف پلٹ جائے گا۔ ابھی تک جو جائزے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہوا ہے کہ کرونا وائرس نے ووٹرز کی تعداد پر اثر ڈالا ہے۔
اس الکشن میں چند ریاستیں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی ویکسین کے انسانوں پر تجربات کا آغاز
جنوبی کرہ ارض میں کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کے انسانوں پر اولین تجربات کا آسٹریلیا میں آغاز ہوگیا ہے۔ میلبرن اور برسبین میں اس تجربے میں 18 سے 59 سال کے 131 رضاکار شریک ہیں۔
ممکنہ ویکسین کو این وی ایکس کوو 2373 کا نام دیا گیا ہے اور اسے امریکی بایوٹیک کمپنی نوواویکس نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے ماہرین نے چین میں وبا پھوٹنے کے بعد جنوری میں دوا پر کام شروع کر دیا تھا۔ ویکسین کا مقصد جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط اور وائرس کو بے اثر کرنے والی اینٹی باڈیز کو موثر بنانا ہے۔
اگر ویکسین کے تجربات کامیاب رہے تو امید ہے کہ سال کے آخر تک اس کی 10 کروڑ اور آئندہ سال ڈیڑھ ارب خوراکیں فراہم کی جاسکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین معجزوں کے مانند ہیں اور آبادی کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
ڈاکٹر پال گریفن وبائی امراض کے ماہر اور آسٹریلیا میں ویکسین کے تجربات میں شریک ہیں۔ انھیں توقع ہے کہ دوا کامیابی سے وائرس پر حملہ کرے گی اور چند ماہ میں دستیاب ہوجائے گی۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے اینٹی باڈیز کی مختلف اقسام اور ان کی تعداد پر غور کیا، مریضوں کے بلڈ ٹیسٹ کرکے ان کا جائزہ لیا اور لیبارٹری میں بہت سے تجربات کیے تاکہ ظاہر ہوسکے کہ ویکسین وائرس کو بے اثر کردیتی ہے۔ جو کمپنی ویکسین بنارہی ہے وہ اس کی وسیع پیمانے پر پیداوار کی تیاری شروع کرچکی ہے۔ اگر ہم نے اسے محفوظ اور موثر ثابت کردیا تو ممکنہ طور پر اس سال کے آخر تک بڑی تعداد میں خوراکیں دستیاب ہوں گی۔