رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے اثرات امریکی سینیٹ کے انتخابات پر بھی پڑ رہے ہیں


کیپیٹل بلڈنگ

صدر اور کانگریس کی نشستوں کے لیے نومبر 2020ء اب زیادہ دور نہیں۔ مگر کرونا وائرس کی وجہ سے وہ روایتی گہما گہمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ سینیٹ میں اس بار کس جماعت کو اکثریت حاصل ہوگی سیاسی مبصرین کے لیے اندازہ لگانا مشکل ہے۔ بہرحال، عالمگیر وبا کے ماحول میں اس انتخابی مہم کا انداز جدا گانہ ہوگا۔

امریکہ میں صدر کے انتخاب کے ساتھ سینیٹ کے ایک تہائی امیدواروں کا بھی چناو ہوگا اور اس کے نتائج امریکی سیاست میں ایک خاص اہمیت کے حامل ہوں گے۔

اس وقت سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے، مگر ان کی برتری اتنی کم ہے کہ اگلے انتخاب میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرنے لیے پورا زور لگا رہے ہیں۔ اگر صدر ٹرمپ دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں اور ان کی ری پبلکن پارٹی سینیٹ میں اپنی اکثریت کھو بیٹھتی ہے تو پھر صدر ٹرمپ کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنا خاصا مشکل ہو جائے گا۔

اس الکشن میں سب سے اہم لیکن نامعلوم عنصر کرونا وائرس ہے۔ تجزیہ کار یہ پیش گوئی نہیں کر سکتے کہ اگر اس سال موسمِ خزاں میں کرونا وائرس کی ایک اور لہر آگئی تو امریکی ووٹرز کا رجحان کس پارٹی کی طرف پلٹ جائے گا۔ ابھی تک جو جائزے ہوئے ہیں ان سے ظاہر ہوا ہے کہ کرونا وائرس نے ووٹرز کی تعداد پر اثر ڈالا ہے۔

اس الکشن میں چند ریاستیں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔

ریاست الاباما میں صدر ٹرمپ کے سابقہ اٹارنی جنرل جیف سیشینز ری پبلکن پارٹی کے امیدوار ہیں مگر پارٹی کے اندر ان کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان کی جگہ کوئی اور امیدوار نامزد ہو جائے۔ ری پبلکن امیدوار کا مقابلہ ڈیموکریٹ سینیٹر ڈگ جونز سے ہوگا، یہ ایک کانٹے کا مقابلہ ہو گا۔

اسی طرح، ایری زونا میں ری پبلکن امیدوار مارتھا میک سیلی کا مقابلہ ڈیموکریٹ مارک کیلی سے ہوگا۔ یہ سیٹ بھی ری پبلکن پارٹی کے لیے نازک ثابت ہوگی۔ کیلی نے الکشن مہم کے لیے امریکہ میں سب سے زیادہ چندہ جمع کیا ہے ان کے پاس اکیاون ملین ڈالر ہیں جبکہ میک سیلی کے پاس صرف اٹھارہ ملین ڈالر ہیں۔ صدر ٹرمپ بھی یہاں زیادہ مقبول نہیں ہیں۔

ریاست کولوراڈو میں بھی ری پبلکن امیدوار کوری گارڈنر کا مقابلہ ڈیموکریٹ جان ہیکن لوپر سے ہے، جنہیں ابتدائی جائزوں کے مطابق سبقت حاصل ہے۔ دوسری طرف، ریاست مین میں ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز چار بار منتخب ہو چکی ہیں۔

انہیں اس بار سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ نارتھ کیرولائینا میں پچھلی بار ری پبلکن سینیٹر ٹام ٹیلیس بڑی معمولی اکثریت سے جیتے تھے اور اس بار بھی انہیں کئی دشواریوں کا سامنا ہے، خاص طور سے عام ووٹرز ڈیموکریٹ پارٹی کے طرف دار ہوتے جا رہے ہیں۔

نومبر میں ہونے والے انتخابات کی غیر یقینی صورت حال کی سب سے اہم وجہ کرونا وائرس کا زور ہے۔ انتخابات کے قریب اس کا کیا رنگ ہوتا ہے، اس کے بارے میں سیاست دانوں اور سیاسی مبصرین کے علاوہ سائنس دان بھی یقینی پیش گوئی نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم، ایک بات واضح ہے کہ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں کے لیے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی دوڑ شدت اختیار کرے گی۔ انتخابی مہم کا انداز یقیناً ماضی سے بہت مختلف ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG