رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: مدافعتی نظام اور انسانی خلیوں پر تازہ تحقیق


مدافعتی نظام پر جاری تحقیقی کام

ایسے میں جب کرونا وائرس کے بارے میں ابھی تک قیاس آرائیاں چل رہی ہیں اور بظاہر مفروضوں کی بنیاد پر ہی تحقیق کا کام ہو رہا ہے، سائنسدان کوویڈ نائنٹین کی گتھی سلجھانے کے لئے انسان کے مدافعتی نظام پر توجہ مرکوز کررہے ہیں۔ ایک نئے مطالعے نے اس بات کا تجزیہ کیا ہے کہ مختلف مدافعتی نظام کرونا وائرس پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

انسان کا یہ نظام کروڑوں ایسے خلیوں پر مشتمل ہے جنھیں ٹی سیلز کہا جاتا ہے، قائم ہے جو جسم میں داخل ہونے والے کسی بھی وائرس کی شناخت کرنے کے بعد اس کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

مائیکروسافٹ اور بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے کوویڈ نائنٹین کے انفیکشن کی صورت میں اس بات کی پہچان کی جاسکے گی کہ جسم میں موجود یہ خلیے کس طرح ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی نامہ نگار ٹینا ٹرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو یکساں طور پر تشخیص اور علاج معالجے کو بہتر بنانے اور ویکسین کی تیاری میں مدد مل سکتی ہے۔

سیاٹل میں مقیم کرسٹی کراس ان لوگوں میں شامل ہیں جن میں کرونا وائرس کے انفیکشن کا پہلے پہل پتا چلا تھا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں اور اب وہ اس وائرس پر تحقیق کے ایک پروجیکٹ سے منسلک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مجھے اپنا خون نکلوانا پسند نہیں۔ لیکن اس سائنسی تحقیق کے لئے میں ایسا کرنے میں خوشی محسوس کررہی ہوں۔ اس طبی مطالعے کو ایمیون ریس کا نام دیا گیا ہے۔

پروجیکٹ سے منسلک چیف میڈیکل افسر لانس بالڈو کا کہنا ہے کہ یہ ریسرچ تشخیص اور انٹی باڈی ٹیسٹ کے موجودہ طریقہ کار سے مختلف ہے۔ ہم خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کرونا وائرس سے جسم کے نظام پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا تجزیہ کیا جائے گا کہ مختلف لوگوں کا مدافعتی نظام کوویڈ نائنٹین کے انفیکشن کی صورت میں کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ان کے ٹی نامی خلیوں کی کیفیت پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

سائنسدان بتاتے ہیں کہ مدافعتی نظام کے اولین خلیے کوویڈ نانٹین سمیت کسی بھی وائرل انفیکشن کی صورت میں حرکت میں آجاتے ہیں۔ ان خلیوں کے ابتدائی ردعمل کا اگر پتا چلا لیا گیا تو اس سے کرونا وائرس کی جلد سے جلد اور بہتر تشخیص میں مدد ملے گی۔

سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ٹی نامی خلیوں کے ردعمل کا پتا لگنے سے اس وائرس کے بہتر علاج اور ویکسین کی تیاری کا بھی سراغ مل سکے گا۔

اس ریسرچ کے لئے فی الحال امریکہ کے چوبیس شہروں میں ایک ہزار رضاکاروں کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے لئے افریقہ اور یورپ سے بھی کم سے کم تین ہزار طبی نمونے حاصل کئے جائیں گے۔ ان سے حاصل ہونے والے وسیع اعداد و شمار کے تجزئے کے لئے مائیکروسافٹ کی جدید سہولتوں سے استفادہ کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس کے راز سے پردہ اٹھانے کے لئے مختلف زاویوں سے ریسرچ جبکہ تیزی سے جاری ہے، انسانی مدافعتی نظام کے ساتھ اس کے تعلق پر تازہ سائنسی مطالعے کو بھی خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG