رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:53 18.9.2020

پاکستان میں 700 سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص

12:39 18.9.2020

ملائیشیا: کرونا کے باعث فوڈ ڈلیوری کے کاروبار میں اضافہ

12:33 18.9.2020

بھارت میں مزید 96 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 96 ہزار سے زیادہ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس طرح بھارت میں کیسز کی کل تعداد 52 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے شکار 1174 مریض چل بسے جس کے بعد عالمی وبا سے بھارت میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 84 ہزار 372 تک پہنچ گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 41 لاکھ سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور اب بھی ملک میں 10 لاکھ سے زیادہ ایکٹو کیسز ہیں۔

21:38 17.9.2020

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دو درجن سے زائد تعلیمی ادارے بند

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے پر حکومت نے دو درجن سے زائد تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جب کہ کئی تعلیمی اداروں کو احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

کرونا پر قومی سطح پر نظر رکھنے والی اتھارٹی 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' کے مطابق ان میں سے 16 تعلیمی ادارے خیبر پختونخوا، ایک اسلام آباد اور پانچ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہیں۔

سندھ کے علاقے مٹیاری میں دو کالجز کے اسٹاف کے آٹھ ارکان کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی دارالحکومت کراچی میں بھی کئی اسکولوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر بند کر دیا گیا ہے۔

سندھ کے محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حکومت صورتِ حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی بھی کلاس میں کسی بچے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو کلاس میں موجود تمام طلبہ اور اس کے قریبی رشتہ داروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

ان کے بقول اسی طرح اگر کسی استاد کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو جن کلاسز کو وہ پڑھا رہے ہیں، ان کے تمام بچون کا ٹیسٹ بھی سرکاری خرچے پر کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا تدریسی عمل بحال کرنا بھی بہت ضروری تھا کیوں کہ طلبہ کو سیکھنے کے عمل سے زیادہ دن دور نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے مرحلے میں 15 سمتبر سے کالجز، جامعات اور نویں اور دسویں جماعتوں کے لیے اسکولز کھولے گئے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اس سے چھوٹے کلاسز کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG