کرونا کے دور میں کرسمس کی تیاریاں
دنیا بھر میں کرونا وبا کی وجہ سے عائد سماجی پابندیوں کے باعث کرسمس کے رنگ بھی پھیکے پڑ گئے ہیں۔ تاہم لوگ احتیاطی تدابیر کے تحت کرسمس کی خوشیاں منانے کے لیے پرجوش ہیں۔
111: پاکستان میں کرونا کے سبب چھ ماہ کے عرصے میں ایک دن کی ریکارڈ اموات
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ گزشتہ چھ ماہ میں کسی ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے 30 جون کو 118 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ اس کے بعد اموات کی شرح میں بتدریج کمی آئی اور رواں ماہ تک کسی بھی دن 100 یا اس سے زائد اموات نہیں ہوئیں۔
رواں ماہ 15 دسمبر کو 105 اموات ہوئی تھیں۔ جب کہ گزشتہ روز وبا سے مزید 111 افراد ہلاک ہوئے ہیں جو کہ چھ ماہ میں ایک دن میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 9668 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں ایک دن میں سب سے زیادہ 153 اموات 20 جون کو ہوئی تھیں۔
کیا ویکسین کرونا کی نئی قسم کے لیے بھی کارگر ہو گی؟
امریکہ میں 70 سے 80 فی صد آبادی کو کرونا ویکسین لگانے کا منصوبہ ہے۔ برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم کے سامنے آنے کے باوجود ماہرین کو توقع ہے کہ یہی ویکسین نئے وائرس کے لیے بھی کارگر ثابت ہو گی۔ فائزہ بخاری کی رپورٹ
بھارت آئندہ ہفتے آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دے سکتا ہے: رپورٹ
بھارت برطانوی دوا ساز ادارے آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار ہونے والی کرونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری آئندہ ہفتے دے سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین کی خوراکیں تیار کرنے والی بھارتی کمپنی نے حکام کو تمام ڈیٹا فراہم کر دیا ہے۔ جس کے بعد امید ہے کہ آئندہ ہفتے یہ ویکسین بھارت میں منظور ہو جائے گی۔
'رائٹرز' کے مطابق اسے دو باخبر ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ بھارت آسٹرازینیکا کی ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن سکتا ہے۔ جب کہ دوسری جانب برطانیہ میں اس ویکسین کے ٹرائلز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا ابھی تک جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔
خیال رہے کہ بھارت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ویکسینز تیار کرنے والا ملک ہے۔ آسٹرازینیکا کی ویکسین کی خوراکیں بھارت میں سیرم نامی ایک کمپنی تیار کر رہی ہے جو ویکسین تیار کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔
بھارت میں 'فائزر' اور 'بھارت بائیو ٹیک' نامی کمپنیوں کی تیار کردہ دو مزید ویکسینوں کے استعمال کی اجازت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
آسٹرازینیکا کی تیار کردہ ویکسین کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کم آمدنی اور گرم موسم والے ملکوں میں کافی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ کیوںکہ یہ ویکسین دیگر کے مقابلے میں سستی ہے، اس کی ترسیل آسان ہے اور عام ریفریجریٹر کے درجۂ حرارت پر زیادہ عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔
بھارت کی 'سینٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول اتھارٹی' نے رواں ماہ تین ویکسینوں کی منظوری کی درخواستوں کا جائزہ لیا تھا اور تمام کمپنیوں کو مزید ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔
رائٹرز کے ذرائع کے مطابق سیرم نے اتھارٹی کو مکمل ڈیٹا فراہم کر دیا ہے جب کہ فائزر اور بھارت بائیو ٹیک سے مزید ڈیٹا ملنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارت کے محکمۂ صحت کے عہدے دار آسٹرازینیکا کی ویکسین کے معاملے پر اپنے برطانوی ہم منصبوں سے براہِ راست رابطے میں ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ ویکسین کی منظوری آئندہ ہفتے دے دی جائے گی۔