کوئٹہ میں ڈاکٹروں پر پولیس کا لاٹھی چارج
پولیس نے حفاظتی کٹس کی دستیابی کے لیے احتجاج کرنے والے کئی ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو لاٹھی چارج کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے رویے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے سروسز کا بھی بائیکاٹ کر دیا۔
کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی کے خلاف سول اسپتال سے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کیا۔
اس موقع پر پولیس نے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر لاٹھی چارج کر دیا اور کئی کو گرفتار بھی کر لیا۔
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ڈاکٹروں اور طبی عملے کے ارکان کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر یاسر خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ طبی عملے کے ساتھ پولیس نے دہشت گردوں کا والا سلوک کیا اس لیے وہ تمام سروسز کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں۔
ان کے بقول، پولیس نے 150 سے زائد ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس کو گرفتار کیا ہے۔
جنہیں مختلف تھانوں میں منتقل کیاگیا ہے۔
صوبے میں وینٹیلیٹرز نہ ہونے کے برابر ہیں: وزیرِ اعلیٰ سندھ
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 14 اپریل کے بعد صوبے میں لاک ڈاؤن ختم ہوگا یا نہیں، یہ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ ان کے بقول حکومت کو ادراک ہے کہ لاک ڈاؤن زیادہ عرصہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ دیکھیے کرونا وائرس سے متعلق صورتِ حال پر وزیرِ اعلیٰ سندھ کا وائس آف امریکہ کے ساتھ انٹرویو
- By علی فرقان
پاکستان میں اب تک 35 ہزار افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ ہو چکے ہیں
کرونا وائرس کے باعث پیدا شدہ صورتِ حال اور حکومتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے قائم پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں جاری ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے سربراہ جنرل افضل نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک ملک بھر میں 35 ہزار افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ ملک بھر میں 137 اسپتالوں کو کرونا وائرس کے لیے مختص کیا گیا ہے جب کہ 22 لیباٹریاں اس وبا سے متاثرہ افراد کے ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں 3800 سے زائد وینٹی لیٹر موجود ہیں جن میں سے 2200 پبلک سیکٹر اور باقی پرائیویٹ سیکٹر کے پاس ہیں۔ نو اپریل کو مزید 500 وینٹی لیٹر پاکستان پہنچ جائیں گے۔ مزید 2000 وینٹی لیٹر ہمسایہ ملک چین سے منگوائے جائیں گے۔
ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی حفاظتی کٹس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اب تک 29 ہزار حفاظتی کٹس صوبوں کو مہیا کر دی گئی ہیں اور پی آر سی کٹس تمام اسپتالوں کے سربراہان کو جمعرات تک بجھوائی جائیں گی۔
امریکہ میں اہم ترین ہفتے کا آغاز، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
امریکہ میں اعلیٰ طبی حکام کی جانب سے متنبہ کیے گئے اس ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اس میں سب سے زیادہ اموات ہونے کا خدشہ ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں کرونا سے متاثرہ نیویارک میں اموات میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے جس کے بعد بعض طبی ماہرین امید ظاہر کر رہے ہیں کہ اس ہفتے میں اس قدر جانی نقصان نہیں ہوگا جس قدر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔
نیو یارک کے بعد امریکی ریاست لوزیانا میں بھی صورتِ حال خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ریاستی گورنر کے مطابق آئندہ تین دن میں لوزیانا میں مزید مریضوں کے لیے وینٹی لیٹرز دستیاب نہیں ہوں گے۔ ریاست میں عالمگیر وبا کے کیسز 13 ہزار سے تجاوز کر چکے ہیں جب کہ 500 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔
پینسلوینیا، کولاراڈو اور واشنگٹن ڈی سی میں بھی اموات میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی سرجن جنرل جیرم ایڈمز نے نشریاتی ادارے 'فاکس نیوز' سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہفتہ امریکہ میں انتہائی سخت ہفتہ ہوگا جب کہ کئی لوگوں کے لیے افسوس ناک بھی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بہت دوستانہ انداز میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا پرل ہاربر والا لمحہ ہو گا یا گیارہ ستمبر والے حالات ہوں گے۔ اس سے کوئی ایک علاقہ متاثر نہیں ہو گا۔