- By علی فرقان
کرونا وائرس کے باعث فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس ملتوی
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو بتایا ہے کہ تنظیم کا علاقائی اجلاس جو جون میں بیجنگ میں منعقد ہونا تھا ملتوی کردیا گیا ہے۔
اجلاس ملتوی ہونے سے اسلام آباد کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے حوالے سے ایکشن پلان پر جواب کے لیے چار ماہ کا مزید وقت دے دیا گیا ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بتایا ہے کہ ایشیا پیسفک گروپ کا جون میں بیجنگ میں ہونے والا مشترکہ ورکنگ گروپ جائزہ اجلاس ملتوی کردیا گیا۔
یہ اجلاس عالمی وبا کے باعث پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر ملتوی کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان عابد قمر نے تصدیق کی ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مدت میں اکتوبر کے آخر تک توسیع کر دی ہے۔
خیال رہے کہ فروری میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے تدارک کے اقدامات کا جائزہ لیا تھا جب کہ 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے مزید چاہ ماہ کی مہلت دی تھی۔
تنظیم نے پاکستان کے اقدامات اور سیاسی عزم کو سراہا تھا جب کہ یہ بھی واضح کیا تھا کہ 27 میں سے 13 نکات پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے زور دیا تھا کہ پاکستان تیزی سے ایکشن پلان کے تمام نکات کو جون 2020 تک مکمل کرے۔ ورنہ اسے نگرانی کے دائرہ اختیار کی فہرست یعنی بلیک لسٹ میں ڈالا جاسکتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے مزید اقدامات پر زور دیتے ہوئے پاکستان کو جون تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- By قمر عباس جعفری
کرونا وائرس سے گلگت بلتستان کی سیاحت اور تجارت متاثر
پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں کو کرونا وائرس کی وبا نے جہاں متاثر کیا ہے ان کی معیشتوں کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان کے ایک نہایت خوبصورت اور دور افتادہ خطے گلگت بلتستان پر بھی اس کے منفی اثرات پڑے ہیں۔
یہ علاقہ دنیا کے خوبصورت ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ اسی وجہ سے سیاحوں کی جنت مانا جاتا ہے۔
دنیا بھر سے سیاح بہت بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں لیکن کرونا وائرس نے اس وقت اس حسین علاقے کو بالکل سنسان کر دیا ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ عبدالحفیظ نے ایک انٹرویو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ سیاحوں کا سیزن اپریل میں شروع ہوتا ہے اور بڑی تعداد میں سیاح یہاں پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ نومبر کے آغاز تک چلتا ہے۔
خیال رہے کی علاقے کی معیشت کا انحصار سیاحت سے آمدنی اور چین کے ساتھ ہونے والی تجارت پر ہے۔
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ایران سے جو پانچ ہزار زائرین واپس آئے تھے۔ ان کو مختلف مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا۔ ساٹھ ہوٹلوں کے کئ سو کمروں میں لوگوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
ان کے بقول جو لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں ان کے علاج اور قرنطینہ میں رکھنے کا عمل جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ اس سال گلگت بلتستان کو سیاحت کے شعبے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک کے دوسرے صوبوں سے گلگت بلتستان کے وہ لوگ جو وہاں ملازمتیں کرتے تھے۔ اب بے روز گار ہوکر واپس آ رہے ہیں۔ ان کی تعداد چار ہزار سے بڑھ چکی ہے اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
'گھر تو جا رہے ہیں لیکن کرونا کا ڈر بھی ہے'
کرونا وائرس کے باعث پاک افغان سرحد کی بندش سے کئی افغان شہری پاکستان میں پھنس گئے تھے۔ لیکن اب سرحد کھلنے کے بعد یہ لوگ اپنے وطن واپس جا رہے ہیں۔ ہمارے نمائندے مرتضیٰ زہری چمن بارڈر پر موجود ایک ایسے ہی خاندان سے ملوا رہے ہیں جنہیں وطن واپسی کی خوشی ہے، لیکن وہ کرونا وائرس کے خوف سے بھی دوچار ہیں۔
کرونا سے سب سے پہلے متاثر ہونے والے چینی شہر ووہان میں زندگی معمول پر آنے لگی
کرونا وائرس کا آغاز چین کے صوبے ہوبئی کے شہر ووہان سے ہوا تھا۔ وائرس کا علم ہوتے ہیں انتظامیہ نے نہ صرف ووہان بلکہ ہوبئی صوبے میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ اب پابندیاں بتدریج نرم کی جا رہی ہیں۔ ووہان شہر میں بھی زندگی معمول پر آنے لگی ہے۔