رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:39 13.4.2020

سرحد مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان

پاکستان کی نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) نے پاکستان کی تمام سرحدیں مزید دو ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیصلے کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے تمام بارڈرز کو مزید دو ہفتے بند رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے-

سرحد بند رکھنے کا فیصلہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کیا گیا ہے-

14:04 13.4.2020

پنجاب کے محکمہ صحت کی لاک ڈاون میں توسیع کی سفارش

کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب کے محکمہ صحت نے صوبائی حکومت کو لاک ڈاؤن کو مزید بڑھانے کی سفارش کی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق لاک ڈاؤن کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ پنجاب کے سیکریٹری محمد عثمان یونس کے مطابق صوبہ پنجاب میں کرونا کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن کے اچھے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

ان کے بقول محکمہ صحت پنجاب نے حکومت کو لاک ڈاؤن میں مزید اضافے کی سفارش کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عثمان یونس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن میں اضافے کی سفارش کا فیصلہ ماہرین صحت نے ایک اجلاس میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لاک ڈاؤن ختم کر دیا جاتا ہے تو لوگ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلیں گے۔ جس سے مختلف جگہوں پر رش ہو گا جو ایک خطرناک صورت حال کا باعث بن سکتی ہے۔

14:36 13.4.2020

وزیراعلیٰ سندھ کا لاک ڈاؤن میں توسیع کا فیصلہ وفاق کو کرنے پر زور

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں ماہرین نے کرونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کے لیے مزید دو ہفتے کے لیے لاک ڈاؤن کو بڑھانے کی تجویز دی ہے۔

سید مراد علی شاہ کے مطابق یہ فیصلہ وفاقی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فیصلے پر عمل درآمد میں کوئی ابہام پیدا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ وہ ہر فیصلہ کرسکتے ہیں مگر اس معاملے پر اکیلے فیصلہ نہیں کریں گے۔ اس پر وفاق تمام لوگوں کی مشاورت سے فیصلہ کرے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے امداد امید سے کم ملی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر وہ اکیلے بیٹھ کر فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اگر وفاقی سطح پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ بروقت کرلیا جاتا تو آج جیسی صورت حال نہ ہوتی۔

ان کے بقول اس معاملے پر قومی سطح پر ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے۔

14:50 13.4.2020

خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن کے مستقبل کے بارے میں ابہام

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں مارچ کے تیسرے ہفتے سے جاری لاک ڈاؤن کا دورانیہ منگل کو ختم ہو رہا ہے۔

صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن جاری رکھنے یا ختم کرنے کے بارے میں واضح اعلان نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے تجارتی اور کاروباری حلقوں میں کافی ابہام پایا جاتا ہے۔

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے تجارتی اور کاروباری تنظیموں کا ایک اجلاس گزشتہ جمعے کو ہوا تھا جس میں لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اجلاس میں شریک مختلف تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے جاری رہنے سے ان کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اس لئے اس پر نظر ثانی کی جائے۔

پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سیکریٹری جنرل حاجی غلام علی جو اجلاس میں شریک تھے، نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ لاک ڈاؤن کے لیے طریقہ کار وضع کرے۔ تمام تاجر اور دکان دار اس طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل درآمد کرنے کے پابند ھوں گے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال کے پیش نظر لاک ڈاؤن جاری رکھنے کی تجویز پیش کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG