کرونا وائرس: کئی ممالک میں صحافیوں کو مشکلات کا سامنا
صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے صحافیوں کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لہذا صحافیوں کے لیے مشکلات کی بجائے آسانیاں پیدا کی جائیں کیوں کہ صحافی بھی دیگر فرنٹ لائنرز کی طرح اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی شہر نیویارک میں 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' کی ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایڈووکیسی کیری پیٹرسن کا کہنا تھا کہ بہت سی حکومتیں کرونا وائرس کی صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
کیری پیٹرسن کا مزید کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اصل تصویر سامنے آ رہی ہے کہ کس طرح حکومتیں صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہے اور حقیقی معلومات کو لوگوں کے سامنے نہیں لاتیں۔
ان کے بقول صحافی لوگوں کے فائدے کی معلومات سامنے لا رہے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنا کام جاری رکھیں۔
وبا کے باعث افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی تیز ہونے کا امکان
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ملیحہ لودھی کہتی ہیں کہ افغانستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے امریکی فورسز کی واپسی کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ پھر چاہے بین الافغان مذاکرات میں خاطر خواہ کامیابی نہ بھی ملے، تب بھی یہ عمل جاری رہنے کی توقع ہے۔
پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کے دوران ملیحہ لودھی نے کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح افغانستان کو بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ لیکن اس وقت افغانستان میں دو سیاسی متحارب فریق شراکت اقتدار کے کسی معاملے پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔
ان کے نزدیک بین الافغان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ہے۔ ان کے نزدیک مذاکرات شروع نہ ہونے کی ایک اور وجہ صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کے درمیان چپقلش ہے۔
یاد رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت افغان حکومت نے طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا جس کے بدلے میں طالبان افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی رہا کرنے کے پابند تھے۔ جس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہونا تھا۔ لیکن یہ عمل مکمل نہیں ہو سکا ہے اورنہ ہی بین الافغان مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
اٹلی میں کاروبار جزوی طور پر بحال
اٹلی یورپ کا وہ ملک ہے جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔مگر دو ماہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد اب اس قابل ہے کہ ملک میں کاروبار جزوی طور پر کھولے جا سکیں۔
پیر چار مئی کو اٹلی کے 40 لاکھ باشندے کام پر واپس آئے۔ ان میں تعمیراتی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے کے کارکن شامل ہیں۔ اس کے علاوہ روم اور اس کے گرد و نواح میں ٹریفک کی آمدورفت بھی جاری ہو گئی ہے اور سڑک کنارے وینڈرز بھی نظر آنے لگے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لوگوں میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی ہے اور وینڈرز اور دیگر چھوٹے کاروباری لوگ بہت زیادہ پر امید نہیں، مگر پھر بھی خوش ہیں کہ دکان تو کھلی، گاہک بھی آ ہی جائیں گے۔
کرونا وائرس: صدارتی انتخاب میں ٹرمپ اور بائیڈن کی الجھنیں
کرونا وائرس کے نتیجے میں دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح امریکہ میں بھی زندگی کے تمام اہم شعبوں پر گہرے اثرات بدستور جاری ہیں جن میں نومبر کا صدارتی انتخاب بھی شامل ہے۔ الیکشن کو جب کہ تقریبا چھ مہینے ہی رہ گئے ہیں، معمول کی سیاسی سرگرمیاں جو ایسے موقع پر دیکھنے آتی رہی ہیں، وہ لاک ڈاون کی وجہ سے عام نظر نہیں آ رہی اور بظاہر میڈیا خاص کر ٹیلی ویژن تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ ملک میں جب کہ بعض کاروبار کھل رہے ہیں، بائیڈن اور ٹرمپ دونوں کو اس انتخاب میں کامیابی کے لئے اپنے اپنے طور پر چیلنجوں کا سامنا ہے، دونوں فی الوقت اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ انتخابی مہم کا نقشہ کس طرح بنایا جائے۔
ابھی جب کہ کرونا وائرس بدستور انسانی جانوں کو نگلتا جا رہا ہے اس بات کے لئے بھی احتجاج اور دباؤ بڑھ رہا ہے کہ زبردست اقتصادی بحران کے پیش نظر کاروباری زندگی کو جلد بحال کیا جانا چاہئے
لیکن ماہرین کے مطابق بندش کا خاتمہ بہرحال اتنا آسان فیصله بھی نہیں۔ اس فیصلے پر مختلف آرا اور سوچ پائی جاتی ہے، مثلاً اوہائیو کی ریاست کے گورنر مائیک ڈیوین کا کہنا ہے کہ یہ ایک توازن رکھنے والی بات ہے۔ ہمیں معیشت کو بحال کرنا ہے تو دوسری جانب لوگوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔