88 ممالک میں موجود ایک لاکھ پاکستانی وطن واپسی کے خواہش مند
حکومت پاکستان کے مطابق اس وقت 88 ممالک میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی وطن واپس آنا چاہ رہے ہیں لیکن ابوظہبی سے آنے والی پرواز کے 50 فی صد مسافروں میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد حکومتی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کیا بیرون ملک موجود زیادہ تر پاکستانی کرونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔
اتحاد ایئر ویز کی پرواز اسلام آباد ایئر پورٹ پر 28 اپریل کی شام پہنچی۔ جہاز سے اترنے پر 209 مسافروں کی تھرمل اسکیننگ کی گئی۔ اس دوران کسی بھی مسافر میں کرونا کی کوئی علامات یا بخار موجود نہ تھا۔ جس کے بعد ان مسافروں کو راولپنڈی میں فاطمہ جناح یونیورسٹی میں بنائے گئے قرنطینہ منتقل کیا گیا۔
اس قرنطینہ سینٹر میں موجود ایک مسافر جس کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اندازہ نہیں کہ ہمیں یہ وائرس متحدہ عرب امارات میں لگا یا پھر پاکستان آتے ہوئے لگا ہے۔ ہم وہاں ایک ہی کمرے میں 8 سے 10 لوگ ساتھ رہائش پذیر تھے۔
وزیر اعظم کے مشیر معید یوسف کہتے ہیں کہ 88 ممالک میں پاکستانی موجود ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے 90 فی صد متحد عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں مقیم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک پھنسے افراد کی واپسی کا فیصلہ متعلقہ ملک میں ہمارے سفیر کرتے ہیں۔ ہم محفوظ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک پھنسے تمام پاکستانیوں کو واپس لانا چاہتے ہیں۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز نے کچھ عرصہ قبل کرونا ٹیسٹ منفی آنے کی رپورٹ کے ساتھ مسافروں کو لانے کی اجازت دی تھی لیکن کچھ دن بعد ہی اس پالیسی کو بدلنا پڑا کہ ہزاروں افراد کرونا ٹیسٹ کروانا چاہ رہے تھے لیکن امریکہ اور یورپ میں ان کے ٹیسٹ نہیں ہو پا رہے تھے۔
- By محمد ثاقب
کراچی میں ڈاکٹر کی ہلاکت کی وجہ ڈیوٹی افسر کی غیر ذمہ داری قرار
کراچی میں اتوار کو مبینہ طور پر وینٹی لیٹرز نہ ملنے کے باعث ہلاک ہونے والے ڈاکٹر کی موت کا ذمہ دار سول اسپتال میں ایمرجنسی ڈیوٹی پر تعینات میڈیکل افسر (ڈاکٹر) کو قرار دیا گیا ہے۔
تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ میڈیکل افسر نے اس بارے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس پر اس کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے رہائشی 65 سالہ ڈاکٹر فرقان، جو کرونا کا شکار تھے۔ ان کی حالت بگڑنے پر اتوار کے روز سول اسپتال لایا گیا۔ جہاں کرونا کنٹرول روم میں تعینات ڈاکٹر جگدیش نے ان کا معائنہ کیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے 14 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ تحقیقات کے بعد کمیٹی نے اخذ کیا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ڈاکٹر سید فرقان اسپتال میں داخل ہونے سے کترا رہے تھے۔ تاہم اہل خانہ اور دوستوں کے اصرار پر جب انہیں اسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹر جگدیش نے معائنے کے بعد انہیں داخل کرنے کے بجائے اس ڈاکٹر سے رجوع کرنے کو کہا جنہوں نے اسپتال آنے سے قبل ڈاکٹر فرقان کو ایڈمٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
کمیٹی کے مطابق اس دوران مریض کو ایمبولینس ہی میں چھوڑ دیا گیا اور پھر مریض ایک بار پھر کسی اور اسپتال کے بجائے گھر چلے گئے۔ لیکن گھر پہنچنے پر طبیعت مزید خراب ہونے کی صورت میں ڈاکٹر فرقان کو ٹرائیمکس اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ڈاکٹر فرقان خود بھی پریکٹس کرتے تھے ۔ تاہم وہاں پر تعینات ڈاکٹرز نے انہیں اسپیشلسٹ کئیر اور وینٹیلیشن کی رائے دی۔ جس کے بعد مریض ایک بار پھر گھر واپس جانے پر اصرار کرنے لگے لیکن جب انہیں ڈاؤ میڈیکل کالج کے اوجھا کیمپس پہنچایا گیا تو راستے ہی میں ان کی موت واقع ہوچکی تھی۔
تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے ڈاکٹر فرقان کی موت کی اصل وجہ ابلاغ کی کمی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیوٹی افسر ڈاکٹر جگدیش کو فوری طور پر انہیں داخل کرنا چاہیے تھا کیونکہ مریض مزید کسی سفر کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں اس روز آئی سی یو میں 9 بیڈز خالی موجود تھے۔
تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اگرچہ میڈیکل افسر کا یہ عمل جان بوجھ کرکرنے کے زمرے میں نہیں آتا لیکن بہرحال یہ ایک غیر ذمہ داری ہے۔ جس کے لیے کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ڈاکٹر کے خلاف محکمہ صحت کے قوانین کے تحت محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے ڈاکٹر فرقان کی موت پر میڈیا میں صوبے میں وینٹی لیٹرز اور اسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لیے مختص بیڈز کی کمی کے معاملے پر سخت تنقید کے بعد تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔ ادھر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹرفرقان کے انتقال کے معاملے پر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انکوائری رپورٹ کے مطابق سزائیں دینے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس وقت ملک میں کرونا کے مریض 22 ہزار سے زائد ہیں لیکن اطلاعات ہیں کہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہماری نمائندہ گیتی آرا انیس موجود ہیں راولپنڈی کے علاقے راجہ بازار میں جہاں سے وہ بتا رہی ہیں کہ سرکاری پابندیوں کا بازار میں کس حد تک اطلاق ہو رہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے اموات 200 سے زیادہ
پاکستان میں بدھ کو کرونا وائرس کے مزید 664 مریضوں کی تصدیق ہوئی جبکہ اس میں مبتلا 18 افراد دم توڑ گئے ہیں۔ ان میں 9 مریضوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے تھا جہاں اموات کی مجموعی تعداد 203 تک پہنچ گئی ہے۔
ملک بھر میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 544 ہوگئی ہے جن میں سندھ کے 157، پنجاب کے 156، بلوچستان کے 21، اسلام آباد کے 4 اور گلگت بلتستان کے 3 مریض شامل ہیں۔ آزاد کشمیر میں کسی کا انتقال نہیں ہوا۔
بدھ کو کرونا وائرس کے 10 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک ملک بھر میں 2 لاکھ 32 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 23214 مثبت آئے ہیں۔
اب تک ملک میں 6281 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے 3073، سندھ کے 1671، خیبرپختونخوا کے 939، گلگت بلتستان کے 282، بلوچستان کے 206، اسلام آباد کے 56 اور آزاد کشمیر کے 54 شہری شامل ہیں۔