رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

14:11 11.5.2020

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلی ہلاکت

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے باعث پیر کو پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔

وائرس کے باعث مرنے والے 85 سالہ شخص کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانولہ سے تھا۔ وہ دو مئی کو بیٹے سے ملنے مظفرآباد آئے تھے۔

محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ریپڈ رسپانس ٹیم نے اس شخص کی نشاندہی کرکے ٹیسٹ کیا تھا جو مثبت آیا۔

ڈاکٹر ندیم کے مطابق مذکورہ شخص کو دو روز قبل قرنطینہ سینٹر منتقل کیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کشمیر میں کرونا وائرس کے پہلے مریض تھے جن کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر ندیم نے بتایا کہ اس شخص کا تعلق ویسے تو گوجرانوالہ سے تھا لیکن کشمیر میں ان کا علاج ہوا جب کہ یہاں ان کا انتقال ہوا۔ اس لیے ان کا شمار پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وائرس سے مرنے والوں میں ہوگا۔

15:17 11.5.2020

پشاور میں لاک ڈاؤن میں نرمی، لوگوں نے بازاروں کا رخ کر لیا

15:30 11.5.2020

لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کے بعد کاروباری سرگرمیاں بڑی حد تک بحال

16:30 11.5.2020

بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں بحال، احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جا رہا

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پیر کو لاک ڈاﺅن میں نرمی کے تیسرے روز تمام کاروباری مراکز، دکانیں اور مارکیٹیں کھل گئی ہیں تاہم ماضی کی طرح رمضان کے دنوں میں نظر آنے والا رش کہیں بھی نہیں ہے۔

تاجر بازاروں میں رش نہ ہونے کی وجہ گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاﺅن کے باعث لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہونا بتا رہے ہیں۔

شہر کی کسی بھی دُکان میں حکومت کی طرف سے بتائی گئی ہدایات کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔

حکومت نے ماسک پہننا، دُکان کے سامنے چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہونا، دکان میں ایک ہی وقت میں چار سے زائد افراد کا نہ ہونا اور سینی ٹائزر کا استعمال وغیرہ لازمی قرار دیا ہے تاہم ان ہدایات پر کہیں بھی عمل نہیں ہو رہا۔

اتوار کی شام صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ اور مرکزی انجمن تاجران کے رہنماﺅں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں تاجروں پر صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے یہ بات واضح کی تھی کہ دکان داروں نے اگر طے شدہ شرائط پر عمل نہ کیا تو دوبارہ سخت لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا جائے گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG