کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 45 لاکھ ہوگئی
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد جمعرات کو 45 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ 3 لاکھ 10 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ وائرس سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 17 لاکھ ہوگئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق امریکہ میں مزید 1400 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ اس طرح اموات کی کل تعداد ساڑھے 86 ہزار سے بڑھ گئی جبکہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 14 لاکھ ہے۔ امریکہ میں ایک کروڑ 5 لاکھ شہریوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔
24 گھنٹوں کے دوران برازیل میں 460، برطانیہ میں 428، فرانس میں 351، میکسیکو میں 294، اٹلی میں 262، اسپین میں 217 اور کینیڈا میں 166 افراد ہلاک ہوئے۔ برطانیہ میں کم از کم 41 ہزار، اٹلی میں 31 ہزار، فرانس اور اسپین میں 27 ہزار اور برازیل میں ساڑھے 13 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اب تک پانچ ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ مریض شفایاب ہوچکے ہیں جن میں امریکہ 3 لاکھ سے زیادہ تعداد کے ساتھ سرفہرست ہے۔
دنیا کو کرونا وائرس کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا: عالمی ادارۂ صحت
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس ختم ہونے والا نہیں اور دنیا کو اس وبا کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہو گا۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور وبا پر قابو پانے کے لیے کئی ممالک لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کی طرف جا رہے ہیں۔ تاہم ماہرین مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے وبا کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے بھی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو سنگین قرار دیا ہے۔
ادارے کے ہنگامی حالات کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے بدھ کو جنیوا میں ورچوئل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس انسانیت میں سرایت کر چکا ہے اور اب یہ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ اس پر کب تک قابو پایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا سے اب تک ایچ آئی وی ختم نہیں ہوا اور اب اسے کرونا وائرس کی صورت میں ایک وبا کا چیلنج درپیش ہے جو جلد ختم ہونے والا نہیں ہے۔
حکومتی 'ایس او پیز' پر عمل درآمد، ایک جائزہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا۔ لیکن، معاشی حالات کے پیش نظر حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا پڑ رہی ہے؛ اور حکومت مختلف ایس او پیز کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت کون کون سے سی 'ایس او پیز' حکومت نے جاری کیں اور ان پر عمل درآمد کس حد تک ہو رہا ہے؟
اس کا جائزہ لیتے ہیں:
مساجد اور مدارس کی ایس او پیز
مساجد اور مذہبی مقامات وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حکومت مذہبی عناصر سے مزاحمت کے خطرہ کے باعث ان تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے ٹھیک کرنا چاہتی تھی. لیکن, اس کے باوجود تمام مذاکرات ہونے کے بعد بھی بعض علما کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کی گئیں. لیکن, حکومت صرف اعلانات ہی کرتی رہی اور اب بھی بعض مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
امریکہ میں مزید 30 لاکھ افراد بیروزگار، کل تعداد پونے 4 کروڑ
امریکہ میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کا زوال جاری ہے اور محکمہ محنت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک بھر میں مزید 29 لاکھ 81 ہزار افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔ اس طرح دو ماہ میں ذریعہ آمدن سے محروم ہوجانے والوں کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مارچ کے وسط میں ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ، چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ اور ساتویں ہفتے میں 32 لاکھ شہری بے روزگار ہوئے تھے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بحران میں مزید کم از کم ایک کروڑ افراد کی آمدنی کے ذرائع ختم ہوئے ہیں۔ لیکن، یا تو وہ بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں یا ان کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔
محکمہ محنت کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ تمام ریاستوں میں یکساں انداز سے بیروزگاری بڑھی ہے اور ان ریاستوں میں بھی کمی نہیں آئی جہاں کاروبار کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ کنیٹی کٹ میں گزشتہ ہفتے تین لاکھ افراد کا روزگار ختم ہوا۔ جارجیا میں یہ تعداد 2 لاکھ 41 ہزار اور فلوریڈا میں 2 لاکھ 21 ہزار رہی۔
کانگریس معیشت کو سہارا دینے کے لیے تین مالیاتی پیکج منظور کر چکی ہے اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس جمعہ کو تین ہزار ارب ڈالر کا ایک اور پیکج پیش کرنے والے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ری پبلکنز اس کے بجائے چاہتے ہیں کہ معیشت کو کھول دیا جائے۔
لیکن، عالمی ادارہ صحت اور صحت عامہ کے ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ کاروبار کھولنے میں جلدی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پیر کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران انتھونی فاؤچی سمیت وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے ارکان نے اس انتباہ کو دوہرایا تھا۔