کرونا وائرس کے ایک تہائی مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں
نیویارک کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کیسز پر تحقیق سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں اور 15 فیصد کو ڈائیلیسس کی ضرورت پڑجاتی ہے۔
یہ تحقیق ریاست نیویارک میں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورک، نارتھ ویل ہیلتھ کے ماہرین نے کی ہے۔ اس میں ہزاروں مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے نتائج طبی جریدے کڈنی انٹرنیشنل میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ لکھنے والوں میں شامل ڈاکٹر کینار جھویری شامل ہیں جو ہوفسٹرا نارتھ ویل، گریٹ نیک میں نیفرولوجی کے معاون سربراہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 36٫6 فیصد مریضوں کے گردوں میں اس قدر خرابی پیدا ہوئی کہ وہ کام کرنے اور جسم سے فضلہ خارج کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان میں سے 14٫3 فیصد مریضوں کو گردوں کی صفائی کے لیے ڈائیلیسس کی ضرورت پڑی۔
یہ کرونا وائرس کے مریضوں میں گردے کے مسائل پر اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ ڈاکٹر جھویری نے کہا کہ چونکہ دوسرے اسپتالوں کو بھی کیسز کی نئی لہر کا سامنا ہے اس لیے وہ ان کی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
کرونا وائرس کی نئی مؤثر دوا، ریمڈیسیویئر
طبی ماہرین کو توقع ہے کہ وائرس کے خلاف پہلے سے موجود ایک دوا کرونا انفکشن کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس دوا کا نام ریمڈیسیویئر ہے۔ سائنس دانوں کا ایک گروپ اسے پانسہ پلٹنے والی دوا کے طور پر دیکھ رہا ہے جب کہ کئی دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک عارضی سہارا ہے اور مؤثر دوا کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
اب تک کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریمڈیسیویئر سے مرض کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ مگر یہ دوا اس لیے بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کی جا سکتی, کیونکہ فی الحال یہ صرف اسپتال میں ڈاکٹر کی نگرانی میں دی جا سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ایریزونا کالج آف میڈسن فونکس کے ایک کارڈیالوجسٹ اور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر ریمنڈ ووزلی کہتے ہیں کہ اس وقت ہر کسی کو یہ دوا نہیں مل سکتی، کیونکہ اس کی فراہمی بہت محدود ہے۔
محدود سپلائی کی وجہ سے امریکہ کی وفاقی حکومت نے یہ دوا 13 ریاستوں کے ان اسپتالوں کو فراہم کی ہے جہاں کوویڈ 19 کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر تجربات جاری رکھیں اور اس کے نتائج کا تبادلہ کریں۔
- By محمد ثاقب
امریکی دواساز ادارہ اور فیروز سنز لیبارٹریز 'ریمڈیسیویئر' دوا تیار کریں گی
پاکستان کی فیروزسنز لیبارٹریز نے امریکی داو ساز ادارے سے مل کر کرونا وائرس کی دوا، ریمڈیسیویئر تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریمڈیسیویئر کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لئے تجرباتی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔
فیروزسنز لیبارٹریز کے اعلامئے کے مطابق، اس کی ماتحت کمپنی، بی ایف بائیوسائینسز، امریکی دوا ساز کمپنی گائےلیڈ سائنسز کے ساتھ مل کر دوا کی تیاری اور فروخت کرے گی، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو اس مرض کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔
امریکی دواساز کمپنی نے اسی طرح کا معاہدہ بعض بھارتی کمپنیوں کے ساتھ بھی مل کر کیا ہے، جس کے ذریعے دوا تیار کرکے 127 ترقی پزیر ممالک میں تقسیم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت کمپنیوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی سہولت بھی دی گئی ہے، تاکہ دوا کی تیاری بڑے پیمانے پر اور تیزی سے ممکن ہو سکے۔
فیروزسنز لیبارٹریز کے چیف ایگزیکٹو، عثمان خالد وحید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ معاہدے کا مقصد انسانیت کو درپیش اس خطرناک وائرس کا مقابلہ کرنا ہے؛ اور یہ دوا اس کے لئے امید کی پہلی کرن ثابت ہوسکتی ہے۔
کرونا وائرس اور سماجی فاصلہ، مرکزی لندن میں کاروں کا داخلہ بند
لندن کے مرکزی تجارتی علاقے'سکوئر میل' میں کچھ سڑکوں پر کاروں کی آمد و رفت بند کی جا رہی ہے، تاکہ پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے مزید جگہ بنائی جا سکے اور وہ سماجی فاصلہ قائم رکھ کر وہاں چل پھر سکیں۔
اس فیصلے کا مقصد لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھنے کے بعد لندن کے اس اہم مصروف علاقے میں زندگی کے معمولات بحال کرنے میں مدد دینا ہے۔
برطانیہ نے اس ہفتے لاک ڈاؤن کی کئی پابندیاں نرم کر دی ہیں، لیکن لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو افراد اپنے گھروں سے کام کر سکتے ہیں، انہیں گھر سے ہی کام جاری رکھنا چاہیے۔ برطانیہ کے مالیاتی شعبے کے زیادہ تر کارکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد مارچ کے مہینے سے ہی اپنے گھروں سے کام کر رہے ہیں۔
برطانیہ کا مرکزی بینک، بینک آف انگلینڈ، لندن اسٹاک ایکس چینج اور دیگر بہت سے مالیاتی اداروں کے دفاتر لندن کے مرکزی حصے سکوئرمیل میں واقع ہیں۔ اس حصے میں کام کرنے والوں کی تعداد کا تخمینہ سوا پانچ لاکھ ہے۔ یہاں فٹ پاتھ اور پیدل چلنے کے راستے اتنے تنگ ہیں کہ ایک دوسرے کے درمیان سماجی فاصلہ قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔
کونسلرز آف لندن سٹی کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیدل چلنے والوں کے راستوں کو کشادہ کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت کچھ سڑکوں کو کاروباری اوقات میں کاروں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔