رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی کمپنی امریکی ادارے سے مل کر 'ریمڈیسیویئر' بنائے گی


فائل فوٹو

پاکستان کی فیروزسنز لیبارٹریز نے امریکی داو ساز ادارے سے مل کر کرونا وائرس کے مریضوں کو دی جانے والی دوا 'ریمڈیسیویئر' تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریمڈیسیویئر کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے تجرباتی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔

فیروزسنز لیبارٹریز کے اعلامیے کے مطابق اس کی ماتحت کمپنی 'بی ایف بائیو سائنسز' امریکی دوا ساز کمپنی 'گائے لیڈ سائنسز' کے ساتھ مل کر دوا کی تیاری اور فروخت کرے گی، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو اس مرض کی تباہ کاریوں سے بچانا ہے۔

امریکی دواساز کمپنی نے اسی طرح کا معاہدہ بعض بھارتی کمپنیوں کے ساتھ بھی مل کر کیا ہے، جس کے ذریعے دوا تیار کرکے 127 ترقی پزیر ممالک میں تقسیم کی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت کمپنیوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کی سہولت بھی دی گئی ہے، تاکہ دوا کی تیاری بڑے پیمانے پر اور تیزی سے ممکن ہو سکے۔

فیروزسنز لیبارٹریز کے چیف ایگزیکٹو، عثمان خالد وحید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ معاہدے کا مقصد انسانیت کو درپیش اس خطرناک وائرس کا مقابلہ کرنا ہے؛ اور یہ دوا اس کے لئے امید کی پہلی کرن ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوا کی تیاری کے بعد کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والے فرنٹ لائن پر کھڑے ڈاکٹرز کو ایک طریقہ دستیاب ہوگا جس کے ذریعے وہ مریضوں کی جان بچا سکیں۔ دوا کی تیاری کے لئے، ہنگامی بنیادوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جس کے لئے، متعلقہ امریکی ادارے ایف ڈی اے اور جاپانی اداروں نے بھی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی پاکستان کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی بھی اس دوا کی تیاری کی منظوری دے دے گی، جس کے بعد اس پر کام کا باقاعدہ آغاز ہو سکے گا۔

چیف ایگزیکٹو فیروزسنز لیبارٹریز نے بتایا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کس قدر جلد یہ دوا تیاری کے مراحل طے کرنے کے بعد مارکیٹ میں مہیا ہوگی۔ اس کی قیمت کیا ہوگی۔ تاہم، ان کی کمپنی سالانہ اس دوا کی 40 سے 50 لاکھ کی تعداد میں خوراک تیار کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؛ اور وقت کے ساتھ ساتھ ہم اس دوا کی تیاری کے لئے ادارے کی صلاحیت کو مزید بڑھانا پڑے گا۔

دوا کی افادیت بتاتے ہوئے، عثمان خالد وحید کا کہنا تھا کہ اب تک کے تجزئے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دوا اس مرض کا مکمل علاج تو نہیں، لیکن امریکہ میں اس دوا کے استعمال سے دو طرح کے فوائد ضرور سامنے آئے ہیں۔ ایک، دوا کے استعمال سے مریض تیزی سے صحتیاب ہوئے ہیں اور ان کے ہسپتالوں میں قیام کے عرصے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ دوئم، اس کے استعمال سے اموات میں بھی کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ یہ تجزئے ابھی بہت ہی محدود پیمانے پر ہیں اور اس بارے میں ریسرچ جاری ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کے مرض کی شدت کو سامنے رکھتے ہوئے پانچ سے دس روز تک اس دوا کے استعمال کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ یہ بھی تحقیق کی جا رہی ہے کہ دیگر کون سی ایسی ادویات ہیں جن کے مشترکہ استعمال سے اس دوا کے مزید بہتر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق، وہ پر اعتماد ہے کہ دوا کی تیاری شروع ہونے پر اس سے پاکستان اور دیگر ممالک میں مریضوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں گی۔

ریمڈیسیویئر دوا بنیادی طور پر افریقہ میں پھیلنے والے ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لئے تیار کی جا رہی تھی۔ تاہم، دنیا بھر میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر جنوری ہی سے اس دوا کی تیاری اور تجربات کا عمل جاری تھا۔

گائے لیڈ سائنسز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، لائسنسنگ ایگریمنٹ کے تحت دنیا بھر میں پانچ کمپنیوں کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے حقوق دئیے گئے ہیں اور یہ لائسنس اس وقت تک رائلٹی فری (مالکانہ حقوق سے مبریٰ) ہوگا جب تک عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس سے پیدا شدہ ہنگامی صورتحال کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا جاتا یا پھر کوئی اور ایسی دوا یا ویکسین تیار نہیں ہوجاتی جس سے اس وبا کا بہتر علاج ممکن ہو سکے۔

تاہم، ابھی تک اس دوا کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا استعمال مضر اثرات سے مکمل طور پر محفوظ اور پر اثر ہوگا۔ لیکن اس کے استعمال سے مریضوں کے صحتیاب ہونے کی شرح میں 30 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG