متفقہ حکمت عملی طے کیے بغیر پارلیمانی اجلاس ملتوی
پاکستان میں کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے بلائے گئے غیر روایتی اجلاس بغیر کسی حکمت عملی کے اختتام پذیر ہوئے۔
ملک میں دو ماہ کے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بلائے گئے، جو ایک ہفتے تک جاری رہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ہر ایک دن کے وقفے کے ساتھ تین دن منعقد ہوا، جبکہ سینیٹ اراکین محض دو دن کی کارروائی کا حصہ بن سکے۔
پارلیمنٹ کے ان اجلاسوں میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کے روایتی تکرار کے علاوہ کسی حکمت عملی پر اتفاق ہوا نہ ہی اس حوالے سے کوئی قرارداد لائی جا سکی۔
قائد ایوان، وزیر اعظم عمران خان اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف دونوں ہی اس غیر روایتی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
حزب اختلاف اور حکومتی جماعت نے پہلے سے اتفاق کیا تھا کہ اس غیر معمولی اجلاس میں نہ تو قانون سازی ہو گی، نہ سوالات پوچھے جائیں گے اور نہ ہی کوئی توجہ دلاؤ نوٹس یا تحریک التوا پیش کی جائے گی۔
اتفاق رائے کے مطابق، حزب اختلاف نے اس اجلاس میں بعض اوقات اراکین کی قلیل تعداد کے باوجود، کورم کی نشاندہی کرنے سے بھی اجتناب کیا۔
چین: لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں کمی، ہزاروں جانیں بچ گئیں
چین کے ایک صنعتی شہر ووہان میں اس سال کے شروع میں کرونا وائرس پھیلنے کے فوراً بعد حکومت نے وہاں سخت لاک ڈاؤن سے لوگوں کو گھروں میں رہنے اور ٹرانسپورٹ کو سڑکوں سے ہٹانے کے اقدامات کیے تھے۔ اگرچہ عالمی وبا سے چین میں ساڑھے چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، لیکن دوسری جانب فضائی آلودگی کم ہونے سے ان ہزاروں لوگوں کی جانیں بھی بچیں، جن کا عام حالات میں ہلاک ہونے کا امکان تھا۔
چین میں سخت لاک ڈاؤن کے دو نمایاں نتائج برآمد ہوئے۔ اول یہ کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی اور دوسرا یہ کہ ملک بھر میں فضائی آلودگی نصف کے قریب کم ہوئی۔ چین کے کئی بڑے شہروں کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں کیا جاتا ہے۔
ییل سکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے لاک ڈاؤن کے دوران چین کے شہروں کی فضائی آلودگی کے ڈیٹا پر تحقیق کی ہے جو سائنسی جریدے لینسٹ کے حالیہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 فروری سے 14 مارچ تک چین میں سڑکوں سے گاڑیاں ہٹانے سے ملکی فضا میں نمایاں بہتری اور آلودگی میں نصف سے زیادہ کمی ہوئی۔ فضائی آلودگی چین کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے جو ہر سال ہزاروں زندگیاں نگل لیتا ہے۔
ترکی میں تشویش کے ماحول میں بندشوں میں نرمی
کرونا وائرس کی عالمی وبا سے متاثرہ متعدد ملکوں میں عائد بندشوں کو مرحلہ وار نرم کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں ترکی بھی شامل ہے، جہاں حکومت کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس کو کنڑول کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
تاہم، ماہرین بدستور پس و پیش میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معمول کی سرگرمیوں پر بندشوں میں نرمی قبل از وقت اقدام ہو سکتا ہے۔ ترکی میں بھی یہی صورتحال ہے جہاں گرچہ اموات میں کمی واقع ہوئی ہے اور انفیکشن کی شرح بھی نیچے چلی گئی ہے، لیکن تشویش اپنی جگہ برقرار ہے۔
ترک حکومت نے فی الوقت بدھ کے دن چودہ سال سے کم عمر بچوں کو چار گھنٹے کے لئے باہر جانے کی اجازت دیدی ہے۔ اس کے بعد ہی بیشتر بچوں کی پہلی منزل آئس کریم کی دوکانیں تھیں جہاں سات ہفتوں سے اپنے گھروں میں عملاً قید بچوں نے اپنے لئے تفریح کا سامان پیدا کیا۔ اسی طرح، حکومت نے پنسٹھ برس سے اوپر کی عمر کے لوگوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اتوار کے دن چار گھنٹے کے لئے اپنے گھروں سے باہر جاسکتے ہیں۔
لاک ڈاؤن سے 75 فیصد نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا
رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے سے پتا چلا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث اپنے گھروں میں بند نوجوانوں کی ایک چوتھائی تعداد پریشان اور متفکر ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کہ حالات کب معمول پر آئیں گے۔
برطانیہ کی رائل سوسائٹی فار پبلک ہیلتھ یعنی آر ایس پی ایچ کے تحت کرائے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 18 سے 24 سال کے نوجوان لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کی صورت حال سے معمر افراد کی نسبت زیادہ پریشان ہیں جن کی عمریں 75 سال سے زیادہ ہیں۔ معمر افراد میں کرونا وائرس سے پریشانی کی شرح 47 فی صد ہے۔
مجموعی طور پر اس عالمی وبا کے دوران معمر افراد کی نسبت نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل زیادہ پیدا ہو رہے ہیں۔ سروے میں اکثر نوجوانوں کا کہنا تھا کہ گھر میں بند رہنے سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے، ان کا موڈ خراب رہنے لگا ہے، اور وہ ذہنی لحاظ سے خود کو اچھا محسوس نہیں کرتے۔
62 فی صد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ خود کو زیادہ تنہا محسوس کرتے ہیں اور تنہائی کا احساس انہیں اکثر پریشان کرتا ہے، جب کہ 65 سے 74 برس کی عمر کے گروپ میں سے صرف 21 فی صد نے یہ کہا وہ اس قرنطینہ میں وہ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔