- By محمد ثاقب
کرونا وائرس کے باعث معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں: اسٹیٹ بینک
پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی معیشت کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کی صورت حال میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ جس میں معیشت کی سست روی کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، روپے کی قدر میں کمی، بجٹ خسارے میں اضافہ اور غذائی و سماجی تحفظ جیسے خطرات شامل ہے جب کہ قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے قبل پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن تھی۔ بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے اثرات نظر آ رہے تھے۔ محصولات میں بہتری کے باعث ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہوا تھا۔ جس سے سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا تھا لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد لاک ڈاون اور اس سے پیدا شدہ صورت حال نے معیشت کو پہلے سے درپیش چلینجز کو مزید دشوار کر دیا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق اس کے باوجود پاکستانی معیشت کو کرونا وائرس سے اس طرح کے خطرات درپیش نہیں ہیں جیسا کہ دیگر اُبھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش ہیں۔
مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی کی قدر میں اب تک 3.3 فی صد کمی تک دیکھی گئی ہے۔ لیکن اب تک یہ کمی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال سے جنوبی افریقہ کی کرنسی میں 21.6 فی صد، ترکش لیرا میں 16.5 فی صد، بھارتی روپے اور تھائی بھات کی قدر میں 6.2 فی صد جب کہ ملائشین رنگٹ کی قدر میں 5.6 فی صد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی کا کرونا کے باعث انتقال
صوبہ سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
غلام مرتضیٰ بلوچ کو کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر 14 مئی کو نجی ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور سانس لینے میں دشواری پر انہیں کئی دن وینٹیلیٹر پر بھی رکھا گیا۔ تاہم، ان کی طبیعت سنبھل نہ سکی اور منگل کو ان کا انتقال ہوگیا۔
غلام مرتضیٰ بلوچ دو بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب رہنے کے علاوہ گڈاپ ٹاون کراچی کے ناظم بھی رہ چکے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی ضلع ملیر کے صدر کی حیثیت سے بھی پارٹی میں کافی فعال تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صوبائی وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دنوں میں بھی مرحوم نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔
مظفر آباد: لاک ڈاﺅن میں نرمی، کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے لاک ڈاﺅن میں نرمی دیتے ہوتے ہوئے حفاظتی تدابیر کے ساتھ کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دیدی ہے، جبکہ جمعہ اور منگل کو مکمل لاک ڈاون ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بدھ کو حکومت کی جانب سے ایس او پی جاری کیا جائے گا، جبکہ تعلیمی ادارے، عوامی اجتماعات، کھیل کے میدان، شادی ہالز، بیوٹی پارلرز بند رہیں گے۔
پاکستانی کشمیر کے وزیر اور حکومتی ترجمان، مصطفیٰ بشیر نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔
ترجمان نے کہا کہ 12 سال سے کم اور ساٹھ سال سے زائد افراد کے بازاروں میں آنے پر پابندی ہوگی۔ تاجروں پر محکمہ صحت کی ایس او پی فالو نہ کرنے کی صورت میں پانچ سے 15 ہزار کا جرمانہ ہو گا۔ درمیانی درجے کے ہوٹلوں کو خلاف ورزی کی صورت میں 15 ہزار اور بڑے ہوٹلوں کو ایک لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
مساجد، امام بارگاہوں میں ایس او پی تحت عبادت کی اجازت ہو گی۔ خریدار کیلئے ماسک نہ پہننے کی صورت میں تاجر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کرے گا۔ دکانداروں کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سے پندرہ ہزار جرمانہ ہوگا۔
کاروبار فجر سے اذان مغرب تک کھلے رکھے جا سکیں گے۔ بیکریز، سبزی و فروٹ، دودھ، دہی، گوشت، مرغی کی شاپس رات آٹھ تک کھلی رکھی جا سکیں گی۔
حفاظتی اقدامات کے حوالے سے جاری ہونے والی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔ ریسٹورنس کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندی ہو گی۔ بنک، پرائیویٹ ادارے کم سے کم سٹاف سے کیساتھ کام کریں گے اور سٹاف، کسٹمرز کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ یقینی بنائیں گے۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مجسٹریٹ موقع پر کاروبار سیل کرنےاور جرمانے کرنے کے مجاز ہوں گے۔ گھر سے باہر نکلنے والے شخص کو ماسک لازمی پہننا ہوگا خلاف ورزی پر پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا۔
چین نے کرونا وائرس سے متعلق معلومات تاخیر سے فراہم کی، عالمی ادارہ صحت
خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹیڈ پریس نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اندرونی طور پر عالمی ادارہ صحت کے حکام کرونا وائرس کے بارے چین سے ملنے والی معلومات پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے رہے۔ ان حکام نے اندرونی اجلاسوں میں اپنے ان خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ حکام سخت مایوسی کا شکار تھے۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس کا کہنا ہے کہ جنوری کے پورے مہینے عالمی ادارہ صحت چین کی سر عام تعریف کرتا رہا کہ اس نے کرونا وائرس کے سلسلے میں بر وقت مطلع کیا۔ اس نے بارہا چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے فوری طور پر وائرس کا جینیاتی نقشہ فراہم کیا۔ عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا کہ چین کا کام اور شفافیت بہت متاثر کن ہے۔
اے پی کے مطابق، پس پردہ کہانی بالکل مختلف تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے حکام کو مطلوبہ معلومات نہیں مل رہی تھیں اور وہ سخت مایوسی کے شکار تھے۔
تعریفوں کے باوجود حقیقت یہ تھی کہ چین نے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جینیاتی نقشہ دبائے رکھا۔ اور اس وقت تک تین ملکوں کی تجربہ گاہوں میں ان معلومات کو مکمل طور سے ڈی کوڈ کر لیا گیا۔ اندرونی دستاویزات اور انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ چین کے پبلک ہیلتھ نظام پر نہ صرف سخت کنٹرول تھا بلکہ مسابقت بھی جاری تھی۔ چین کی سرکاری لیبارٹری نے اسے اس وقت جاری کیا جب اس سے قبل ایک اور لیبارٹری اس کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کر چکی تھی۔
چین نے مریضوں اور کیسیز کے بارے میں مواد کو بھی روکے رکھا اور تقریباً دو ہفتوں بعد عالمی ادارہ صحت کو تفصیلی طور پر فراہم کیا۔