رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے باعث معیشت کو شدید چیلنجز درپیش ہیں: اسٹیٹ بینک


فائل فوٹو

پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملکی معیشت کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد کی صورت حال میں شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ جس میں معیشت کی سست روی کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، روپے کی قدر میں کمی، بجٹ خسارے میں اضافہ اور غذائی و سماجی تحفظ جیسے خطرات شامل ہے جب کہ قرضوں کا بوجھ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے قبل پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن تھی۔ بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے اثرات نظر آ رہے تھے۔ محصولات میں بہتری کے باعث ترقیاتی اخراجات میں اضافہ ہوا تھا۔ جس سے سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بھی بڑھ رہا تھا لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد لاک ڈاون اور اس سے پیدا شدہ صورت حال نے معیشت کو پہلے سے درپیش چلینجز کو مزید دشوار کر دیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق اس کے باوجود پاکستانی معیشت کو کرونا وائرس سے اس طرح کے خطرات درپیش نہیں ہیں جیسا کہ دیگر اُبھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش ہیں۔

پاکستانی روپے کی قدر میں کمی

مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی کرنسی کی قدر میں اب تک 3.3 فی صد کمی تک دیکھی گئی ہے۔ لیکن اب تک یہ کمی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال سے جنوبی افریقہ کی کرنسی میں 21.6 فی صد، ترکش لیرا میں 16.5 فی صد، بھارتی روپے اور تھائی بھات کی قدر میں 6.2 فی صد جب کہ ملائشین رنگٹ کی قدر میں 5.6 فی صد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

صحت اور تعلیم پر کم خرچ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں صحت اور تعلیم کے میدان میں اب بھی کم رقم خرچ ہو رہی ہے۔

اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارت میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 7.3 فی صد، چین میں 9.2 فی صد، ایران میں 12.7 فی صد اور بنگلہ دیش میں 4.3 فی صد ان شعبوں میں خرچ ہوتا ہے۔ جب کہ پاکستان میں تعلیم اور صحت کے میدان میں مجموعی قومی پیداوار کی خرچ شدہ رقم کا تناسب 5.8 فی صد ہے۔ موجودہ صورت حال میں صحت عامہ کا مضبوط نظام اور عوام کا اس بارے میں شعور رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ٹڈی دل کی فصلوں پر یلغار سے کسان پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:51 0:00

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 10 میں سے 4 افراد غربت کا شکار ہیں۔ جس سے ملک میں کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں طویل لاک ڈاؤن سے غذائی اور سماجی تحفظ جیسے چیلنجز سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بعض معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود بھی پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ 2016 میں پاکستان کے قرضہ جات کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا 78 فی صد تھا جو دسمبر 2020 میں بڑھ کر 94 فی صد تک ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عمل سے حکومت کو متعلقہ سیکٹرز میں خرچ کرنے کی استعداد میں بری طرح رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔ ایک طرف قرضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے اور دوسری جانب ملکی معیشت میں کھپت کا تناسب خطے کے دیگر ممالک سے بھی زیادہ ہے جس سے ہماری مجموعی قومی پیداوار کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں کھپت کا تناسب 95 فی صد ہے جب کہ چین میں 53 فی صد، بھارت میں 71 فی صد، بنگلہ دیش میں یہ تناسب 77 فی صد ہے۔

اسی طرح ملکی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ یعنی 78 فی صد غیر رسمی ملازمتیں فراہم کرتا ہے جس سے اس طرح کی ملازمتیں کرنے والوں کی بے روزگاری کی شرح بڑھنے اور آمدنی میں کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں معیشت کی سست روی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مثبت اثر افراط زر پر بھی پڑا ہے جس میں جنوری کے بعد بتدریج کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں شرح سود کو بھی کم کرنے میں مدد ملی ہے۔

'برآمدات میں کمی سے صورت حال سنگین'

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نکلنے کے لیے آنے والے بجٹ میں ضروری ہو گیا ہے کہ ان طبقات کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو اب تک ٹیکس دینے سے بچتے رہے ہیں۔

معاشی امور کے ماہر اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کرونا وائرس کے بعد مزید دِگرگُوں صورت حال سے دوچار ہو چکی ہے۔

ان کے بقول ملک کی برآمدات میں اپریل میں 47 فی صد کمی واقع ہوئی جب کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے جانے والی رقوم میں کمی کی وجہ سے روپے کی قدر گزشتہ ایک ہفتے میں کم ہوئی ہے۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہماری معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے بتایا کہ مئی کے مہینے میں محصولات کی مد میں 30 فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔ اسی طرح اپریل میں بھی 50 فی صد کے لگ بھگ کمی دیکھنے میں آئی۔

ان کے مطابق بجٹ خسارہ 4 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ جو مجموعی قومی پیداوار کا 9.5 فی صد سے بھی زائد ہے۔ دوسری طرف اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم تو ہوا لیکن اب اپریل کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ دوبارہ بڑھ کر 60کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔

'زرعی شعبے اور آئی پی پیز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے'

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے حکومت کو اب کچھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو اس سے پہلے نہیں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے اور محصولات میں کمی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کے امیر طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ امیر طبقے کو پاکستان نے بہت فائدے پہنچائے ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے میں ان کا بھی ہاتھ ہو۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں امیر طبقے پر واضح طور پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے ورنہ صورت حال سے نکلنے کے لیے زیادہ امیدیں نہیں رکھنی چاہیئیں۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا کہ ملک میں زرعی شعبہ، جو معیشت کا 20 فی صد بنتا ہے یعنی یہ شعبہ تقریبا 8ہزار ارب روپے سالانہ کماتا ہے مگر اس سے ہمارا ٹیکس محض دو ارب روپے جمع ہوتا ہے۔ یہ شعبہ ہمیشہ ٹیکس دینے سے بچتا رہا ہے۔ باقی معیشت جو 30 ہزار ارب روپے پر مشتمل ہے، اس سے 1400 ارب روپے ٹیکس جمع ہوتا ہے۔

ان کے بقول اس صورت حال سے انداز ہوتا ہے کہ ملک کے بڑے زمین دار بالکل ٹیکس نہیں دیتے۔ وقت آگیا ہے کہ ان سے گزارش کی جائے کہ خدارا ملک کا ساتھ دیں اور اب ٹیکس دیں۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق ملک میں کام کرنے والے نجی بجلی گھر پچھلے 25 سال سے بغیر ٹیکس ادا کیے کام کر رہے ہیں جب کہ اسی دوران انہیں 1500 ارب روپے کا فائدہ حاصل ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے بے شمار ایسے شعبے ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ میں لانا اب انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔ وقت آ چکا ہے کہ ایسے شرفا جنہوں نے ملک پر قبضہ کر رکھا ہے ان سے جان چھڑائی جائے۔ ان کے خلاف اسی طرح کا ایکشن لینے کی ضروری ہے جیسا کہ چینی مافیا کے خلاف رپورٹ تیار کرکے ان کا محاسبہ کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر پاشا کا کہنا ہے کہ ایک جانب جہاں ٹیکس نیٹ میں اضافے کی ضرورت ہے وہیں حکومت کو اپنے اخراجات جو 900 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، ان میں خاطر خواہ کمی لانے کی ضرورت ہے۔

سابق وفاقی وزیر کے مطابق 18ویں ترمیم کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ وفاقی حکومت کے اخراجات کم ہوں گے لیکن 10 سال میں اس میں کمی ہونے کے بجائے بے تحاشہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان کے بقول وفاقی حکومت کے سول اخراجات کا تخمینہ 930 ارب روپے کے قریب ہے جس میں آسانی سے 200 سے 300 ارب روپے کمی لائی جا سکتی ہے اور پھر یہ رقم ترقیاتی اخراجات یا سماجی شعبے میں خرچ کرکے غربت میں کمی کی جا سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG