نیو یارک: موسم خزاں میں اسکول کھولنے کا فیصلہ
امریکہ کے شہر نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو کا کہنا ہے کہ موسمِ خزاں میں طلبہ ہفتے میں دو یا تین دن اسکول جا سکیں گے جب کہ باقی دنوں میں آن لائن کلاسز ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسکولوں کے تمام طلبہ ایک ہی وقت میں اسکول نہیں جا سکیں گے۔
نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران میئر بل دی بلاسیو کا کہنا تھا کہ تمام اسکول رواں ماہ 31 جولائی تک اپنے پلان جمع کرائیں جس کے بعد حکومت اگلے ماہ اگست کے پہلے ہفتے میں اسکول کھولنے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔
کرونا کے دور میں سنگاپور میں انتخابات
امریکہ: صدر ٹرمپ کی اسکول نہ کھولنے پر امداد میں کٹوتی کی دھمکی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو ریاستیں موسم خزاں تک اسکول نہیں کھولیں گی، ان میں اسکولوں کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں یورپ میں کھولے جانے والے اسکولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں جو اسکول نہیں کھولے جائیں گے، انہیں وفاق کی طرف سے ملنے والی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ کس امداد کی طرف ہے۔ کیوں کہ امریکی آئین کے مطابق پرائمری اور سیکنڈری تعلیم فراہم کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے کچھ سپلیمنٹری امداد بھی دی جاتی ہے۔
کیا کرونا وائرس دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ نانٹین کے 43 کیسز کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ ان مریضوں کو سٹروک ہوا، ان کے اعصاب کو نقصان پہنچا یا دیگر کوئی دماغی بیماری لاحق ہوگئی۔
اب تک کووڈ نائنٹین کو ایسی ہی بیماری سمجھا جا رہا تھا کہ جیسے یہ سانس کی بیماری ہو اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہو، مگر اب نیورو سائنٹسٹ اور برین سپیشلسٹ اس کے دماغ پر ہونے والے اثرات کو دیکھ کرتشویش محسوس کر رہے ہیں۔
کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ ایڈرین اووین نے تو اس تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کہ دنیا میں لاکھوں افراد کے کووڈ نائنٹین میں مبتلا ہونے کے بعد اگر ایک سال کے عرصے میں صحتیاب ہونے والے دس ملین افرد کی بھی ذہنی صلاحیت بگڑتی ہے تو یہ ان کی نہ صرف روز مرہ زندگی کو متاثر کرے گی بلکہ ان کی کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو گی۔ یونیورسٹی کالج لندن کا یہ مطالعہ ایک مؤقر جریدے، 'برین' میں شائع ہوا ہے۔
اس کے بارے میں ایریزونا کی مڈ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور نیورالوجسٹ ڈاکٹر فرخ قریشی کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تو علم ہو گیا تھا کہ کرونا وائرس سے فالج یا سٹروک بھی ہو سکتا ہے خاص طور پر نوجوانوں میں مگر اس مطالعے میں خاص طور پر جس بیماری کا ذکر کیا گیا ہے وہ اے ڈی ای ایم یا اکیوٹ ڈیمائلیٹنگ اینسی فیلو مائی لائٹس کہلاتی ہے اور زیادہ تر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ بڑوں میں کبھی کبھار ہی دیکھی جاتی تھی اس کے مریضوں کی تعداد اب بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری دماغ اور سپائنل کورڈ دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ مختلف لوگوں میں اس کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ عام علامتیں ہیں غنودگی، نیند، کنفیوژن، ہیلیو سی نیشن، جسم کے دائیں یا بائیں حصے یا بازو میں کمزوری اور جس حصے میں سپائنل کورڈ متاثر ہوئی ہو اس سے نچلا دھڑ کمزور یا سن ہو سکتا ہے۔ نظر دھندلی ہو سکتی ہے اور یہ سب علامات ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔