رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:46 10.7.2020

کرونا کے دور میں سنگاپور میں انتخابات

18:03 10.7.2020

امریکہ: صدر ٹرمپ کی اسکول نہ کھولنے پر امداد میں کٹوتی کی دھمکی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو ریاستیں موسم خزاں تک اسکول نہیں کھولیں گی، ان میں اسکولوں کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں یورپ میں کھولے جانے والے اسکولوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں جو اسکول نہیں کھولے جائیں گے، انہیں وفاق کی طرف سے ملنے والی امداد میں کٹوتی کی جا سکتی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ کا اشارہ کس امداد کی طرف ہے۔ کیوں کہ امریکی آئین کے مطابق پرائمری اور سیکنڈری تعلیم فراہم کرنا ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے کچھ سپلیمنٹری امداد بھی دی جاتی ہے۔

04:57 11.7.2020

کیا کرونا وائرس دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟

خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ یونیورسٹی کالج لندن کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ نانٹین کے 43 کیسز کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ ان مریضوں کو سٹروک ہوا، ان کے اعصاب کو نقصان پہنچا یا دیگر کوئی دماغی بیماری لاحق ہوگئی۔

اب تک کووڈ نائنٹین کو ایسی ہی بیماری سمجھا جا رہا تھا کہ جیسے یہ سانس کی بیماری ہو اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہو، مگر اب نیورو سائنٹسٹ اور برین سپیشلسٹ اس کے دماغ پر ہونے والے اثرات کو دیکھ کرتشویش محسوس کر رہے ہیں۔

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی کے نیورو سائنٹسٹ ایڈرین اووین نے تو اس تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کہ دنیا میں لاکھوں افراد کے کووڈ نائنٹین میں مبتلا ہونے کے بعد اگر ایک سال کے عرصے میں صحتیاب ہونے والے دس ملین افرد کی بھی ذہنی صلاحیت بگڑتی ہے تو یہ ان کی نہ صرف روز مرہ زندگی کو متاثر کرے گی بلکہ ان کی کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہو گی۔ یونیورسٹی کالج لندن کا یہ مطالعہ ایک مؤقر جریدے، 'برین' میں شائع ہوا ہے۔

اس کے بارے میں ایریزونا کی مڈ ویسٹرن یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور نیورالوجسٹ ڈاکٹر فرخ قریشی کا کہنا ہے کہ ہمیں یہ تو علم ہو گیا تھا کہ کرونا وائرس سے فالج یا سٹروک بھی ہو سکتا ہے خاص طور پر نوجوانوں میں مگر اس مطالعے میں خاص طور پر جس بیماری کا ذکر کیا گیا ہے وہ اے ڈی ای ایم یا اکیوٹ ڈیمائلیٹنگ اینسی فیلو مائی لائٹس کہلاتی ہے اور زیادہ تر بچوں میں پائی جاتی ہے۔ بڑوں میں کبھی کبھار ہی دیکھی جاتی تھی اس کے مریضوں کی تعداد اب بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری دماغ اور سپائنل کورڈ دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ مختلف لوگوں میں اس کی علامات مختلف ہوتی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ عام علامتیں ہیں غنودگی، نیند، کنفیوژن، ہیلیو سی نیشن، جسم کے دائیں یا بائیں حصے یا بازو میں کمزوری اور جس حصے میں سپائنل کورڈ متاثر ہوئی ہو اس سے نچلا دھڑ کمزور یا سن ہو سکتا ہے۔ نظر دھندلی ہو سکتی ہے اور یہ سب علامات ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔

05:01 11.7.2020

عالمی وبا کے خلاف جنگ میں بھارت کہاں کھڑا ہے؟

وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے باوجود بھارتی حکام اسے تشویش ناک قرار نہیں دے رہے۔ بھارت کی وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وائرس پر نظر رکھنے اور اسے محدود کرنے میں ان کی پالیسی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت میں کرونا وائرس سے ہر دس لاکھ میں 13 افراد ہلاک ہو رہے ہیں جب کہ امریکہ اور برازیل میں یہ شرح دس لاکھ میں بالترتیب 400 اور 320 اموات ہیں۔

ناقدین سرکاری اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں حقیقی گنتی معلوم کرنا ناممکن ہے، کیونکہ ملک میں اعداد و شمار اکھٹے کرنے کا کوئی مستند اور قابل بھروسہ انتظام موجود نہیں ہے۔

بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 43 فی صد اموات کا تعلق 30 سے 60 سال کی عمر کے گروپ سے ہے۔ کرسچن میڈیکل کالج ولور کے ایک ماہر وبائی امراض ڈاکٹر جے پرکاش کہتے ہیں کہ یہ وبا بڑی عمر کے افراد کے لیے زیادہ مہلک ہے۔ غالباً وائرس سے بڑی عمر کی ہلاکتوں کا ڈیٹا یا تو نامکمل ہے یا اکھٹا نہیں کیا جا سکا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں صحت سے متعلق ڈیٹا ریاستی سطح پر جمع کیا جاتا ہے۔ جنوبی ریاست کیرالہ وہ ریاست ہے جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کے تین مریض تشخیص ہوئے تھے۔ اسے ایک ماڈل ریاست کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہاں قرنطینہ مراکز قائم ہوئے اور ان سے رابطے میں رہنے والوں کا ریکارڈ رکھا گیا اور اسی ریاست میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں میں بھی تیزی دکھائی گئی، جب کہ دوسری جانب دہلی ہے۔ اگرچہ یہ دارلحکومت ہے لیکن جس طرح وہاں عالمی وبا کا بندوبست کیا گیا اور جس تیز رفتاری سے وہاں وائرس پھیلا، اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ حتیٰ کہ اسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لیے جگہ نہ رہی اور پھر ریلوے کی 500 بوگیوں کو عارضی اسپتال میں تبدیل کرنا پڑا۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر دشنو داس کہتے ہیں کہ بھارت میں اعداد و شمار جمع کرنے کا کوئی مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔

عالمی وبا کے پھیلاؤ کے دوران چین کے ساتھ سرحدی تنازع بھی صورت حال پر اثرانداز ہوا اور حکام کی توجہ اس اہم مسئلے سے ہٹ کر سرحدوں پر مرکوز ہو گئی۔ اسی طرح کاروباروں کی بندش سے پیدا ہونے والی بے روزگاری اور اقتصادی حالات بھی وبا کے پھیلاؤ پر اثر انداز ہوئے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف عالمی جنگ میں اپنا کردار نبھا رہا ہے اور اس وقت اس کی تیار کردہ 7 ویکسینز مختلف تجرباتی مراحل میں ہیں جن میں بھارتی بائیو ٹیک کی ایک ویکسین بھی شامل ہے جس کے بارے میں بھارت کی میڈیکل ریسرچ کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانوں پر اس کے تجربات کے نتائج ملک کے یوم آزادی 15 اگست کو سامنے آئیں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG