رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:04 17.9.2020

سندھ: دو کالجز میں عملے کے 8 افراد کے ٹیسٹ مثبت

پاکستان کے صوبۂ سندھ کے ضلع مٹیاری میں دو کالجز کے عملے کے آٹھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ کالجز کے عملے کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دونوں کالجز کو بند کر دیا گیا ہے۔

20:26 17.9.2020

کرونا وبا 'کنٹرول سے باہر' ہو چکی ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا اب 'کنٹرول سے باہر' ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کرونا کی مؤثر اور قوتِ خرید میں آنے والی ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اس وقت دنیا کی سیکیورٹی کے لیے کرونا وائرس ہی سے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ایک طرف جہاں مختلف ممالک میں سائنس دان اور ماہرینِ طب کرونا وائرس کی مؤثر ویکسین تیار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس عالمی وبا کے لیے کوئی اکسیر نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

20:27 17.9.2020

امریکہ میں کرونا ویکسین کی دستیابی سے متعلق متضاد دعوے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے ماحول میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے وہیں کرونا ویکسین کے معاملے پر بھی بحث گرم ہے۔

ویکسین کی فراہمی سے متعلق امریکہ کے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن' (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے ایک بیان دیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر ردِعمل دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق رابرٹ ریڈفیلڈ نے کانگریس میں سماعت کے دوران بتایا ہے کہ کرونا کی ویکسین نومبر یا دسمبر میں بہت محدود پیمانے پر دستیاب ہو گی اور ابتدائی طور پر صرف طبّی عملے کے ارکان اور ہائی رسک افراد کو یہ ویکسین دی جائے گی۔ لیکن یہ جلد بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیے

21:38 17.9.2020

ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دو درجن سے زائد تعلیمی ادارے بند

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے پر حکومت نے دو درجن سے زائد تعلیمی ادارے بند کر دیے ہیں جب کہ کئی تعلیمی اداروں کو احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

کرونا پر قومی سطح پر نظر رکھنے والی اتھارٹی 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' کے مطابق ان میں سے 16 تعلیمی ادارے خیبر پختونخوا، ایک اسلام آباد اور پانچ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہیں۔

سندھ کے علاقے مٹیاری میں دو کالجز کے اسٹاف کے آٹھ ارکان کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں سیل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح صوبائی دارالحکومت کراچی میں بھی کئی اسکولوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے پر بند کر دیا گیا ہے۔

سندھ کے محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حکومت صورتِ حال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر کسی بھی کلاس میں کسی بچے کا کرونا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو کلاس میں موجود تمام طلبہ اور اس کے قریبی رشتہ داروں کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

ان کے بقول اسی طرح اگر کسی استاد کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے تو جن کلاسز کو وہ پڑھا رہے ہیں، ان کے تمام بچون کا ٹیسٹ بھی سرکاری خرچے پر کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا تدریسی عمل بحال کرنا بھی بہت ضروری تھا کیوں کہ طلبہ کو سیکھنے کے عمل سے زیادہ دن دور نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلے مرحلے میں 15 سمتبر سے کالجز، جامعات اور نویں اور دسویں جماعتوں کے لیے اسکولز کھولے گئے ہیں۔ دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اس سے چھوٹے کلاسز کے بچوں کا تعلیمی سلسلہ شروع کیا جائے گا۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG