سیاہ فام امریکیوں کو کرونا ویکسین پر اعتماد کیوں نہیں؟
امریکہ میں سیاہ فام کمیونٹی کرونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 'سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول' کے مطابق سفید فام شہریوں کے مقابلے میں سیاہ فام افراد میں کرونا وائرس سے ہلاکت کا امکان تین گنا زیادہ دیکھا گیا ہے۔ لیکن اکثر سیاہ فام کرونا ویکسین میں دلچسپی نہیں لے رہے؟ کیوں؟
'پاکستان میں کرونا ویکسین سے متعلق بھی منفی پروپیگنڈے کا خدشہ ہے'
وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں پاکستان میں بہت جلد کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین دستیاب ہو گی جو مرحلہ وار لوگوں کو لگائی جائے گی۔
وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ دیگر ادویات یا ویکسین کے منفی پروپیگنڈے کی طرح کرونا ویکسین کے بارے میں بھی پاکستان میں منفی پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ کرونا وائرس کی وبا اور اِس کے پھیلاؤ میں اتنے عوامل کارفرما ہیں کہ اس کے پھیلاؤ میں اُتار چڑھاؤ یا وبا کے عروج کا تعین سپر کمپیوٹر بھی نہیں کر سکتا۔
کرونا کی دوسری پر ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کا عروج کب تک آئے گا۔
ان کے بقول کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکولوں کی بندش سمیت، شادی ہالز میں ان ڈور سرگرمیوں کی بندش جیسے اہم اقدامات کیے گئے۔ لہذٰا ان اقدامات سے لامحالہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی۔
امریکہ میں لوگ کرونا ویکسین کیوں نہیں لگوانا چاہتے؟
امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فی صد امریکی ویکسین لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ لیکن ان میں سے بیشتر پہلے دوسروں پر اس کے اثرات دیکھنا چاہتے ہیں۔ ویکسین سے متعلق سب سے زیادہ عدم اعتماد امریکہ کی سیاہ فام کمیونٹی میں نظر آتا ہے۔
ویکسین کی دو ارب خوراکیں آئندہ سال تقسیم کرنے کا عندیہ
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اعلان کیا ہے کہ کرونا ویکسین کی لگ بھگ دو ارب خوراکیں محفوظ کر لی گئی ہیں۔ جنہیں 190 ملکوں میں مساوی طور پر تقسیم کیا جائے گا۔
ڈبلیو ایچ او اور دنیا کے کئی ممالک کے اشتراک سے کرونا ویکسین کی مساوی تقسیم کے منصوبے 'کوویکس' کے تحت دو ارب خوراکوں میں سے ایک ارب 30 کروڑ ترقی پذیر ممالک کو فراہم کی جائیں گی۔
خیال رہے کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت کچھ ترقی یافتہ ممالک میں کرونا ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے بعد ترقی پذیر اور غریب ممالک اس انتظار میں ہیں کہ وہاں ویکسین کب آئے گی۔
'کوویکس' کو امیر اور غریب ملکوں کے درمیان طبی آلات اور ویکسین کی تقسیم میں عمومی طور پر آنے والی اسی تاخیر کو مد نظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا تھا اور اس میں ویکسین کی تیاری میں مصروف کئی دوا ساز کمپنیاں شامل ہیں۔
'کوویکس' میں شامل 'گلوبل ویکسین الائنس اینڈ امیونائزیشن' کے سربراہ ڈاکٹر سیتھ بارکلی کا کہنا ہے کہ وہ کرونا ویکسین کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔