رسائی کے لنکس

کرونا وائرس جنگ عظیم دوم کے بعد بدترین انسانی بحران ہے: اقوامِ متحدہ

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس جنگ عظیم دوم کے بعد انسانیت کے لیے بدترین بحران بن کر سامنے آٰیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس نے منگل کو جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والا معاشی اور سیاسی عدم استحکام دنیا میں امن کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وبا سے دنیا میں ہر شخص کو خطرات لاحق ہیں۔ کرونا وائرس کے معاشی نقصانات کے طور پر دنیا میں کساد بازاری کی ایسی صورتِ حال پیدا ہوگی جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے ممکنہ طور پر دنیا میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور تنازعات بڑھیں گے۔ اس لیے یہ جنگ عظیم دوم کے بعد سے اب تک کا سب سے مشکل بحران ہے۔

کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشتیں بھی دباؤ میں ہیں۔ (فائل فوٹو)
کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بندش کی وجہ سے دنیا کی بڑی معیشتیں بھی دباؤ میں ہیں۔ (فائل فوٹو)

اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے مزید کہا کہ کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے مؤثر ردعمل کی ضرورت ہے۔ جو صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب تمام لوگ یک جہتی سے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں اور سیاسی مقاصد سے پاک ہوجائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ انسانیت داؤ پر لگی ہے۔

انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں لیکن ہماری رفتار سست ہے۔ اگر ہمیں اس وائرس کو ہرانا ہے تو ہمیں تیزی سے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ نے کرونا وائرس سے متاثر غریب اور ترقی پذیر ممالک کی معاشی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ یہ کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 75 سال قبل جب سے اقوامِ متحدہ بنی ہے، یہ عالمی وبا اب تک کا سب سے سخت امتحان ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں اور 'کووڈ 19' سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ آٹھ لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں جب کہ 40 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔

اٹلی: قبرستانوں میں جگہ ہے، نہ اسپتالوں میں

اٹلی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس آج سے ٹھیک دو ماہ پہلے یعنی 29 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا۔
1/9 اٹلی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس آج سے ٹھیک دو ماہ پہلے یعنی 29 جنوری کو رپورٹ ہوا تھا۔
مزید Show less
اٹلی کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں عالمی سطح پر امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جب کہ یورپ میں یہ پہلے نمبر پر ہے۔
2/9 اٹلی کرونا وائرس سے متاثرہ کیسز میں عالمی سطح پر امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے جب کہ یورپ میں یہ پہلے نمبر پر ہے۔
مزید Show less
اٹلی میں کرونا وائرس کے 12384 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں طویل لاک ڈاؤن ہے۔ 
3/9 اٹلی میں کرونا وائرس کے 12384 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ ملک بھر میں طویل لاک ڈاؤن ہے۔ 
مزید Show less
وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں حتیٰ کہ دکانوں اور مارکیٹس میں داخلے سے پہلے لوگوں کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔
4/9 وائرس کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں حتیٰ کہ دکانوں اور مارکیٹس میں داخلے سے پہلے لوگوں کا جسمانی درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔
مزید Show less
اٹلی کے قبرستان میں کام کرنے والے گورکھنوں اور دیگر افراد نے حفاظتی ماسک پہن کر اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔
5/9 اٹلی کے قبرستان میں کام کرنے والے گورکھنوں اور دیگر افراد نے حفاظتی ماسک پہن کر اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے۔
مزید Show less
اٹلی کے شہر وینس میں واقع گرینڈ کینل میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب لوگ گھروں تک محدود ہیں۔
6/9 اٹلی کے شہر وینس میں واقع گرینڈ کینل میں سناٹا چھایا ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کے سبب لوگ گھروں تک محدود ہیں۔
مزید Show less
سپرمارکیٹس میں خریداری کی غرض سے آنے والوں کو مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
7/9 سپرمارکیٹس میں خریداری کی غرض سے آنے والوں کو مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔
مزید Show less
کرونا وائرس کے سبب روم کا آرک اور کنسٹنائن ویران پڑا ہے۔ طویل لاک ڈاؤن کے باعث لوگ یہاں کا رخ نہیں کرتے۔
8/9 کرونا وائرس کے سبب روم کا آرک اور کنسٹنائن ویران پڑا ہے۔ طویل لاک ڈاؤن کے باعث لوگ یہاں کا رخ نہیں کرتے۔
مزید Show less
اٹلی کی حکومت نے لوگوں سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ہے۔
9/9 اٹلی کی حکومت نے لوگوں سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی ہے۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

دنیا کی نصف کے قریب آبادی کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاؤن، کرفیو اور دیگر پابندیوں کی زد میں ہے۔

امریکہ میں بھی کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ امریکہ میں چار ہزار کے لگ بھگ اموات ہو چکی ہے جب کہ کیسز چین کے مقابلے میں دو گنا ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی آئندہ دو ہفتوں کو مشکل اور تکلیف دہ وقت قرار دے چکے ہیں جب کہ امریکہ میں انسداد کرونا وائرس کی ٹاسک فورس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس وبا سے ملک میں دو لاکھ تک ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG