رسائی کے لنکس

logo-print

سیمنٹ اور گوشت کا کاروبار کیوں؟


فوجی فرٹیلائزر کی تیار کردہ کیمیاوی کھاد ’سونا یوریا‘۔ فائل فوٹو

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ دنیا کی کوئی فوج کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوتی۔ پاک فوج کیوں سیمنٹ اور گوشت فروخت کر رہی ہے؟ انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کو فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران دیے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی نے فوج کے کاروبار کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے دو سال پہلے ایوان میں اس بارے میں دریافت کیا تھا۔ تب وزیر دفاع خواجہ آصف تھے جنہوں نے قومی اسمبلی میں ایک تقریر کے دوران فوج پر کڑی تنقید کی تھی۔

فرحت اللہ بابر کے سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ فوج تقریباَ پچاس اقسام کے کاروبار کر رہی ہے جن میں رہائشی کالونیاں، اسکول، اسپتال، ریستوران، اصطبل، شوگر ملیں، بینک اور ایئرلائنز کے علاوہ دلیہ، کھاد، سیمنٹ، دودھ، ایندھن، انشورنس اور ایڈورٹائزنگ کا بزنس بھی شامل ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ وہ سیکریٹری دفاع کو طلب کر کے اس بارے میں تفصیل پوچھیں گے۔ وہ پیسے تاجر کی طرح کمانا چاہتے ہیں اور عزت مسلح افواج جیسی چاہتے ہیں۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو سے جو بھی کاروباری سرگرمی کنٹرول ہو رہی ہے وہ قانون کے تحت ہو رہی ہے۔ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور دوسرے ادارے کمپنیز ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت کام کر رہے ہیں۔ عدالت یا تو ان قوانین کو غیر آئینی قرار دے ورنہ اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا۔

عرفان قادر نے یہ بات یاد دلائی کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں ہے۔

سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا کہ پاک فوج بطور فوج کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں۔ یہ کام دو ادارے کرتے ہیں جن میں ایک ٹرسٹ اور ایک فاؤنڈیشن ہے۔ ان میں فوج سے ریٹائر ہو جانے والے لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ ان فلاحی اداروں سے فوج کو کوئی مالی منافع نہیں ملتا۔

تجزیہ کار عائشہ صدیقہ پاک فوج کی کاروباری سرگرمیوں پر ایک کتاب لکھ چکی ہیں۔ 2007 میں شائع ہونے والی اس کتاب میں بتایا گیا تھا کہ مختلف اقسام کے کاروبار میں پاک فوج کے سرمائے کی مالیت بیس ارب ڈالر ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان نے اس کتاب میں شامل اعدادوشمار کو غلط قرار دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG