رسائی کے لنکس

logo-print

نیب قانون کی کئی دفعات غیر اسلامی ہیں: اسلامی نظریاتی کونسل


فائل فوٹو

اسلامی نظریاتی کونسل (آئی آئی سی) نے حالیہ دنوں میں جاری ہونے والے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس کے حوالے سے کہا ہے کہ نیب کا عمومی تصور اسلامی اصولِ احتساب سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ نیب قانون شہریوں میں سنگین قسم کے امتیاز پر مبنی ہے۔ قومی احتساب بیورو کا ملزمان کو ہتھکڑی لگانا، میڈیا پر تشہیر کرنا اور حراست میں رکھنا غیر شرعی ہے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے کہا کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ نیب تب حرکت میں آتا ہے جب کروڑوں اربوں روپے کی بدعنوانی کے شواہد جمع ہوتے ہیں۔ اسلامی اصولوں میں مالی اختیارات کے غلط استعمال کا ابتدا ہی سے سد باب ضروری ہے۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ نیب کے قانون میں سقم ہیں۔ نیب قوانین کو اسلامی قوانین سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات شریعت سے متصادم ہیں۔

ان کے بقول نیب آرڈیننس کی دفعات 14ڈی، 15اے اور 26 غیر اسلامی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو ہتھکڑی لگانا، اس کی ذرائع ابلاغ پر تشہیر اور حراست میں رکھنا غیر شرعی ہے۔ اس کے علاوہ بے گناہ کو ملزم ثابت کرنا، وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات غیر اسلامی ہیں۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا تھا کہ ہم ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ پرائمری اسکول سے ہی بچوں کے لیے ماہرِ نفسیات کی ضرورت ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے تجویز کیا کہ ابتدائی مرحلے میں پولیس یا کم از کم ایک خصوصی سیل اس مقصد کے لیے قائم کیا جائے۔ دوسرے مرحلہ میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں جو فوری اور جلد ازجلد سماعت کے مراحل مکمل کرکے سخت سزا کے نفاذ کو یقینی بنا سکیں۔

'زبردستی مذہب تبدیلی غیر اسلامی'

اسلامی نظریاتی کونسل نے زبردستی مذہب کی تبدیلی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جبری مذہب کی تبدیلی غیر اسلامی اور غیر آئینی ہے۔

اس حوالے سے کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ مذہب کی جبری تبدیلی اسلام کے خلاف ہے۔ اس سلسلے میں اقلیتی مذہبی رہنماؤں کی آرا حاصل کریں گے۔

ان کے مطابق زبردستی تبدیلی مذہب نہ صرف احکام اسلامی سے متصادم ہے بلکہ آئین پاکستان کی دفعہ 30 کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کونسل نے سوشل میڈیا پر توہین مذہب کے خلاف قومی اسمبلی کی قرارداد کی تائید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر توہین آمیز مواد اپ لوڈ کرنے پر پابندی لگائی جائے۔

'مشرف کی لاش ڈی چوک لانا عدالتی فیصلہ نہیں'

سابق صدر اور پاکستان فوج کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے حوالے سے خصوصی عدالت کے فیصلے پر قبلہ ایاز نے کہا کہ پرویز مشرف کی لاش ڈی چوک لانا عدالتی فیصلہ نہیں۔ یہ ایک جج کی رائے تھی۔

عدالتی فیصلے کے حوالسے سے ان کا کہنا تھا کہ لاش گھسیٹ کر ڈی چوک لانے کے معاملے کا ریسرچ ونگ جائزہ لے رہا ہے۔ ججز کی آرا فیصلے کا حصہ نہیں اس لیے اس کا اجلاس میں جائزہ نہیں لیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا ایک آئینی ادارہ ہے جس میں مختلف مسالک کے علما شامل ہیں۔ کونسل پاکستان یں مختلف آئینی معاملات کے حوالے سے سفارشات حکومت کو دیتی ہے جن کا جائزہ اسلامی قوانین کے مطابق لیا جاتا ہے۔

حکومتی ردعمل

اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین قبلہ ایاز کی پریس کانفرنس پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹ کیا کہ آج تک مذہبی طبقات کی سوچ کو نظریاتی کونسل سے کوئی رہنمائی نہیں ملی۔ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ، انتہائی جید لوگ اس ادارے کو سنبھالیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسے ادارے پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کا جواز میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات ہیں۔

'فواد چوہدری سفارشات پر شرعی دلیل دیں'

فواد چوہدری کی ٹوئٹ پر ڈاکٹر قبلہ ایاز کا بھی فور ردعمل سامنے آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کے پاس ہماری سفارشات پر شرعی دلیل دیں تو ہم غور کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان و چیئرمین کا تقرر وزیر اعظم کی سفارش پر صدر ‏مملکت کرتے ہیں۔

قبلہ ایاز نے مزید کہا کہ فواد چوہدری کا ٹوئٹ سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیب قوانین کے بارے میں حکومت خود بھی عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی نیب پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہیں۔ فواد چوہدری ہمارے ساتھ رابطہ کرتے تو ہم ان کو مطمئن کرتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG