رسائی کے لنکس

logo-print

لندن میں دہشت گرد منصوبہ تیار کرنے والا جوڑا قصوروار قرار


استغاثہ کے مطابق اس شخص نے ٹوئٹر پر سائلنٹ بومبر یعنی خاموش بمبار کے نام سے اکاونٹ بنا رکھا تھا اور اس پر داعش کے شدت پسند "جہادی جان" کی تصویر لکھا رکھی تھی

برطانیہ کی ایک عدالت نے لندن بم دھماکوں کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر دہشت گرد کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی پر ایک میاں بیوی کو قصور وار ٹھہرایا ہے۔

اس جوڑے کا نام 25 سالہ محمد رحمان اور ان کی 24 سالہ اہلیہ ثنا احمد خان بتایا گیا ہے۔

محمد رحمان کو رواں سال مئی میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس نے ٹوئٹر پر یہ پیغام درج کیا کہ "ویسٹ فیلڈ شاپنگ سینٹر یا لندن زیر زمین ریلوے؟ اس ضمن میں کسی بھی رائے کو سراہا جائے گا۔"

استغاثہ کے مطابق اس شخص نے ٹوئٹر پر سائلنٹ بومبر یعنی خاموش بمبار کے نام سے اکاونٹ بنا رکھا تھا اور اس پر داعش کے شدت پسند "جہادی جان" کی تصویر لگا رکھی تھی اور یہ داعش میں "بہت دلچسپی" رکھتا تھا۔

اس کی ٹوئٹ کے ساتھ القاعدہ کے ایک اخباری بیان کا لنک بھی لگایا گیا تھا جو کہ جولائی 2005ء میں لندن سے متعلق تھا۔ ان حملوں میں چار خودکش بمباروں نے لندن کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو نشانہ بنایا تھا اور اس میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس جوڑے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ رواں سال 28 مئی کو دہشت گرد حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

پولیس نے ان کے گھر سے دس کلوگرام سے زائد یوریا نائٹریٹ بھی برآمد کی جو کہ ایک طاقتور بم تیار کرنے میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ ملزم نے دھماکا خیز مواد کا اپنے عقبی باغیچے میں تجربہ کرتے ہوئے وڈیو بھی بنا رکھی تھی۔

XS
SM
MD
LG