رسائی کے لنکس

عمران خان، جہانگیر ترین نااہلی کیس کا فیصلہ محفوظ


فائل فوٹو

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 18 سچ تحریری جوابات میں بیان کیے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تمام چیزوں کودیکھ رہے ہیں، آپ کے کہنے پربہت سی باتیں نوٹ کرچکے ہیں ، آپ نے جہاں تضاد کی نشاندہی کی ہم نے نوٹ کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیرترین کی نااہلی کے حوالے سے مقدمات کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ میں منگل کو عمران خان نا اہلی کیس کی آخری سماعت ہوئی جس میں وکیلِ صفائی نعیم بخاری اور استغاثہ کے وکیل اکرم شیخ کے دلائل کے بعد بینچ نے فیصلہ محفوظ کرلیاگیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ایسی توقع نہ رکھیں کہ فیصلہ کل آجائے گا۔ کیس کے دوران اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا عمران خان بے ایمان آدمی ہیں کہ نہیں۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ہمارے کسی جواب میں بھی تضاد نہیں، عمران نے ایمنسٹی اسکیم کے بعد لندن فلیٹ کو ڈکلیئر کیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس میں کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ عمران نے لندن فلیٹ کو ڈکلیئر کیا لیکن آف شور کمپنی کو نہیں کیا۔

نعیم بخاری نے کہا کہ عمران خان نے کچھ چھپایا ہوتا توریٹرننگ آفیسر ان کی دستاویزات مسترد کرسکتا تھا،عمران خان کے کاغذات پر الیکشن کمیشن نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت ریٹرننگ افسرنے معاملہ نہیں دیکھا، تو کیا عدالت اب کاغذاتِ نامزدگی کونہیں دیکھ سکتی؟

اس پر نعیم بخاری نے موقف اختیار کیا کہ کاغذات میں اثاثے یاغلط بیانی کی بات 2002ء کی ہے، 2002ء کی غلط بیانی پر موجودہ الیکشن پر نااہلی مانگی گئی ہے ، عمران خان سے 2002ء کے اثاثے بتانے میں غلطی ہوسکتی ہے، غلط بیانی نہیں۔

بینچ میں شامل جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اثاثے چھپانے اور غلطی میں فرق ہے، عمران خان نے اپنا یورواکاونٹ ظاہر نہیں کیا جس پر وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ یہ اکاؤنٹ تب کھولاگیاجب وہ رکنِ قومی اسمبلی تھے۔

عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ اکاؤنٹ لندن فلیٹ کی عدالتی کارروائی کے دوران کھولاگیا، یورواکاؤنٹ کی رقم عمران خان پاکستان لائے، ایمانداری اور بے ایمانی میں عدالت نے فرق کرنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پاناما لیکس مقدمے کانظرِ ثانی فیصلہ بھی دیکھ لے، نعیم بخاری کہتے ہیں کہ اثاثے نہ بتاناغلطی ہوسکتی ہے، عمران خان نے جمائما خان کی بنی گالہ اراضی کاغذات میں بتائی، جمائما کے پاکستان کے باہرکے اثاثے نہیں بتائے گئے، نظرِ ثانی کے فیصلے کے بعد کاغذاتِ نامزدگی کے پیرامیٹرزسخت ہوچکے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بتائیں کہ ماضی کی غلط بیانی کا موجودہ الیکشن پرکیسے اثرپڑسکتا ہے؟ جس پروکیل اکرم شیخ نے کہا کہ جعلی ڈگری کے مقدمات میں عدالت ماضی کی غلط بیانی پرکامیاب امیدوارکا اگلا الیکشن اورانہیں نااہل کرچکی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کوشش ہے کہ آج ہرچیز ختم کردیں، اگر کوئی چیز رہ جاتی ہے تو فریقین تحریری صورت میں دے سکتے ہیں۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ این ایس ایل کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ پاؤنڈ رکھے گئے، جولائی 2007ء میں این ایس ایل اکاونٹ سے عمران خان کے اکاونٹ میں 20 ہزاریورو کی رقم آئی۔ مارچ 2008 میں اکاونٹ میں 22 ہزاریوروکی رقم آئی اور یہ رقوم 2012ء میں کیش کرائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ درخواست گزارکے مقدمے سے ہٹ کرعدالت نے سوالات پوچھے، جس کے لیے دستاویزات لائی گئیں۔

اس پرچیف جسٹس نے استفسارکیا کہ اگرسماعت کل تک ملتوی کردیں تو؟ جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ جوعدالت حکم دے اس کی پیروی کروں گا، عدالت کوانکار نہیں کرسکتا۔

وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے 18 سچ تحریری جوابات میں بیان کیے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تمام چیزوں کودیکھ رہے ہیں، آپ کے کہنے پربہت سی باتیں نوٹ کرچکے ہیں ، آپ نے جہاں تضاد کی نشاندہی کی ہم نے نوٹ کیا۔

اکرم شیخ نے کہا کہ میں عدالت کی معاونت کررہا ہوں، کیا بیانِ حلفی میں لکھے بیان کوری وزٹ کیا جاسکتا ہے، کاغذاتِ نامزدگی میں ہر قسم کا قرض ظاہر کرنا ضروری ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کو وارنٹو کے درخواست میں دیکھنا ہے کہ کون غاصب ہے اوربے ایمانی کا تعین مواد سے ہونا ہے۔

جہانگیر ترین نااہلی کیس میں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ٹرسٹ خود سے ایک قانونی ادارہ ہے جس پر وکیل سکندر بشیر کا کہنا تھا کہ ٹرسٹ کی کوئی آمدنی نہیں ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ ٹرسٹ ڈیڈ میں کہاں لکھا ہے کہ جائیداد کو کرایہ پر نہیں دیا جاسکتا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہانگیرترین کے تحریری جواب سے افسوس ہوا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ جہانگیرترین کے پاس اختیار ہے کہ وہ آمدنی کسی کو دینے کی ہدایت دیں، کیا جہانگیر ترین کا ٹرسٹ پر کنٹرول نہیں؟ ٹرسٹ کے بینی فیشری ہونے کے ناتے اسے بھی گوشواروں میں ظاہرکرناچاہیے تھا جب کہ جہانگیرترین نے ٹیکس اتھارٹی کو بتایا کہ ٹرسٹ کے بینیفیشل ان کے بچے میں۔ جہانگیرترین کے موقف میں تضاد ہے، کاغذاتِ نامزدگی میں کسی کوبینفیشل نہیں بنایاگیا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

پاکستان مسلم لیگ(ن) کے حنیف عباسی نے سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے آئینی درخواستیں دائر کررکھی ہیں جن کی سماعت گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG