رسائی کے لنکس

اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا حکم


فائل فوٹو

عدالت نے وزیرِ خزانہ کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے آغاز کا حکم دیتے ہوئے ان کے ضامن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 نومبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی حاضری سے استثنیٰ اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں منگل کو وفاقی وزیرِ خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے ریفرنس کی سماعت ہوئی جس میں اسحاق ڈار ایک بار پھر پیش نہ ہوئے۔

اسحاق ڈار کے وکیل قوسین فیصل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل علیل ہیں اور علاج کی غرض سے لندن میں ہیں جس کی وجہ سے سماعت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے اپنے مؤکل کی جانب سے اٹارنی مقرر کرنے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

عدالت نے وزیرِ خزانہ کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کے آغاز کا حکم دیتے ہوئے ان کے ضامن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 نومبر تک جواب طلب کرلیا ہے۔

عدالت نے ملزم کو اخبار میں اشتہار شائع کرکے طلب کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان کی 50 لاکھ روپے کی ضمانت ضبط کرلی جائے۔ ریفرنس کی آئندہ سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

سماعت کے دوران اسحاق ڈار کی تیسری نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق وزیرِ خزانہ کی دل کی ایک شریان درست کام نہیں کر رہی اور ڈاکٹروں نے انہیں 27 نومبر کو دوبارہ طبی معائنے کے لیے بلایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نے اسحاق ڈار کو بین الاقوامی سفر سے منع کیا ہے اور وزیرِ خزانہ کے وکیل کے مطابق اگر ضرورت ہو تو ان کے مؤکل آڈیو وڈیو لنک پر دستیاب ہو سکتے ہیں۔

وکیل قوسین فیصل نے کہا کہ عدالت نے 8 نومبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو اسحاق ڈار کے میڈیکل سرٹیفکیٹ کی برطانیہ سے تصدیق کرانے کا حکم دیا تھا جس پر عمل نہیں کیا گیا، جو نیب کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق نے میڈیکل رپورٹ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل رپورٹ تصدیق کے لیے بذریعہ دفترِ خارجہ لندن بھجوائی جا چکی ہے۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کے برطانوی ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ برطانوی قوانین کے مطابق بھی نہیں، ملزم مفرور ہے، لہذا اسے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

بدھ کو ہونے والی سماعت میں استغاثہ کے گواہ اور نیب پراسیکیوٹر بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چودہ نومبر کو ہونے والی پچھلی سماعت میں پیش نہ ہونے پر احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسحاق ڈار کے اثاثوں میں بہت کم عرصے کے دوران 91 گنا اضافہ ہوا اور وہ 90 لاکھ روپے سے بڑھ کر 83 کروڑ 10 لاکھ روپے تک جا پہنچے۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے نیب کو وزیرِ خزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے حکم دیا تھا جس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG