رسائی کے لنکس

آئین کے تحت عورت مارچ کو روکا نہیں جا سکتا: لاہور ہائی کورٹ


لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مامون رشید شیخ نے عورت مارچ روکنے کے خلاف دائر درخواست نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین مارچ کر سکتی ہیں لیکن مارچ میں غیر اخلاقی نعرے اور جملے نہیں ہونے چاہئیں۔

عورت مارچ کے خلاف متفرق درخواستوں کی سماعت منگل کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مامون رشید شیخ کی عدالت میں ہوئی۔

درخواست گزار اظہر صدیق نے خواتین کی جانب سے درخواست میں فریق بننے پر عدالت میں جواب داخل کراتے ہوئے کہا کہ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔ سول سوسائٹی نامی تنظیم نے اعتراض کیے ہیں کہ مارچ میں غیر اسلامی سرگرمیاں نہیں ہوں گی۔ ان اعتراضات پر ڈی آئی جی نے سماعت کر لی ہے۔

اظہر صدیق نے عدالت میں کہا کہ مارچ آئین کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ خواتین پر ظلم ہوتا ہے جب کہ مارچ میں "میرا جسم، میری مرضی" کی باتیں ہوتی ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر نے عدالت کو بتایا کہ عورت مارچ پر کچھ مذہبی تنظیموں اور درخواست گزار کو تحفظات ہیں۔ لیکن پولیس مارچ کے شرکا کو فول پروف سیکیورٹی دے گی۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ مال روڈ لاہور پر جلسے جلوس نکالنے کے حوالے سے پابندی ہے۔

سماعت کے دوران عورت مارچ کی جانب سے وکیل ثاقب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے پٹیشن میں مارچ کو غیر ریاستی سرگرمی لکھا ہے جو بہت خطرناک الزام ہے۔

خواتین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گارنٹی دینے کو تیار ہیں کہ قانون و آئین کے بر عکس کوئی اقدام نہیں ہو گا۔

چیف جسٹس نے خواتین کے وکیل سے استفسار کیا کہ عورت مارچ میں کتنے لوگ شریک ہو رہے ہیں اور کیا مارچ میں خواتین، مرد اور خواجہ سرا شرکت کریں گے۔ جس پر ثاقب جیلانی نے عدالت کو بتایا کہ مارچ میں تقریباً دو ہزار سے پانچ ہزار لوگ شرکت کریں گے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مامون رشید شیخ نے ریمارکس دیے کہ خواتین کے حقوق اس وقت مسئلہ نہیں ہیں، ایشو عورت مارچ ہے۔ درخواست گزار مارچ پر فوکس کریں۔

عدالت نے کہا کہ ہمیں سیکیورٹی کو دیکھنا تھا جس پر پولیس نے رپورٹ دے دی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ایسے پلے کارڈز نہ ہوں جس سے کسی کے جذبات مجروح ہوں۔ سمجھ سکتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہوں گے جنہیں آرگنائزرز کے لیے مینیج کرنا مشکل ہو گا۔

عدالت نے عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست نمٹاتے ہوئے پولیس کو مارچ کے شرکا کو مکمل سیکیورٹی دینے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مارچ کے دوران غیر اخلاقی نعرے، نفرت انگیز تقاریر اور جملے نہیں ہونے چاہئیں۔ عدالت نے ضلعی انتظامیہ کو عورت مارچ کی اجازت سے متعلق قانون کے تحت فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت کی۔

سماعت کے بعد درخواست گزار اظہر صدیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ عورت مارچ کو رکوانے کے حق میں نہیں ہیں۔ صرف آئین پاکستان میں اخلاقیات سے متعلق جو پابندیاں لگائی گئی ہیں اور اخلاقی اقدار سے متعلق جو کہا گیا ہے، اُس سے عدالت کو آگاہ کیا ہے۔

اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ عورت مارچ کی منتظمین نے خود عدالت کو بتا دیا ہے کہ کس طرح کے پوسٹرز اور بینرز سے متعلق بات ہو رہی تھی۔ اقوام متحدہ کے تحت خواتین کے حقوق کے حوالے سے جو مطالبات ہیں وہ بھی عدالت کو بتا دیے ہیں۔ قوانین میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جو کہا گیا ہے، اُس پر عمل ہونا چاہیے۔

عورت مارچ کی منتظمین اور شرکا میں سے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ مارچ میں بہت زیادہ لوگ آتے ہیں۔ وہ صرف اُنہیں بتا سکتی ہیں کہ مارچ سے متعلق یہ ہدایات ہیں اور فلاں فلاں آئینی پابندیاں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے نگہت داد نے کہا کہ ڈیجیٹل ایج میں نوجوان نسل کی خواہشات مختلف ہیں اور اُن کا اظہار کا طریقہ مختلف ہے۔ مارچ میں شرکت کرنے والے لوگوں کو ہدایات دے دی گئی ہیں۔

نگہت داد نے کہا کہ اِس ملک میں خواتین کے قتل ہوتے ہیں، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے، خواتین پر تیزاب پھینکا جاتا ہے تو اُس پر عدالتوں میں کیوں درخواستیں دائر نہیں کی جاتیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ پلے کارڈ کو کس طرح سے سمجھتے ہیں۔ مارچ میں آنے والوں پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ مارچ میں شریک مردوں، عورتوں یا خواجہ سراؤں کو پتا ہے کہ اس سلسلے میں قوانین کیا ہیں۔ وہ یہاں کے شہری ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اُنہیں ریاست مخالف کہا جائے۔

اِس موقع پر چند خواتین نے عورت مارچ کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ عورت مارچ کی مخالفت اس لیے کرتی ہیں کہ اِس سے معاشرے میں اشتعال پیدا ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے مستبشرہ نامی خاتون نے کہا کہ اُن کا تعلق کسی جماعت سے نہیں، بلکہ ہر اس شخص سے اُن کا تعلق ہے جو دین اور حق کی بات کرتا ہے۔

مستبشرہ سمجھتی ہیں کہ عورتیں اگر اپنے حقوق کے لیے احتجاج کریں گی تو اُن کے مقابلے میں مرد کھڑے ہوں گے اور اپنے مسائل بیان کریں گے۔اور یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ان کے بقول مسئلے کا حل یہ ہے کہ نئے قوانین بنائے جائیں اور جہاں خرابی ہے اُسے ٹھیک کیا جائے۔ یہ کوئی حل نہیں ہے کہ خواتین اُٹھ کر شور مچائیں کہ ہمیں حقوق نہیں مل رہے اور ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں عورت زیادتی کر رہی ہے وہاں عورت کا احتساب ہو اور جہاں مرد زیادتی کر رہا ہے وہاں مرد کا احتساب ہونا چاہیے۔ اسلام میں اِن سب کا حل موجود ہے اور اُس کو قانون کے مطابق نافذ کیا جائے تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال خواتین کے عالمی دن کے موقع پر آٹھ مارچ کو لاہور سمیت پاکستان کے کئی بڑے شہروں میں عورت مارچ کے عنوان سے ریلیاں نکالی گئی تھیں۔ مختلف حلقوں کی جانب سے ریلی میں اٹھائے گئے پلے کارڈز اور پوسٹرز کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG