رسائی کے لنکس

logo-print

اچھی عورت، بری عورت: بات چل نکلی ہے


پاکستان میں نامور ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر کے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنے ڈرامے کے ایک کردار کو دو ٹکے کی عورت کہنے پر سخت ردعمل سامنے آرہا ہے۔ شوبز کے علاوہ دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مردو خواتین کی بڑی تعداد مصنف کے موقف پر تنقید کر رہی ہے تاہم اس پس منظر میں خواتین کی سماج میں برابری پر ایک بحث کم از کم سوشل میڈیا کی سطح پر ضرور چل نکلی ہے۔

خلیل الرحمن قمر کا موقف ہے کہ ان کی بات کو سمجھنے کے بجائے، محض تنقید اور گالی سے جواب دیا جارہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، میں نے گالی ایک ایکٹ کو دی ہے، عورت کو نہیں۔

دوسری طرف خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا کہنا ہے کہ مرد مصنفین کو ماضی کی روایات میں جکڑی عورت کو آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔

وائس آف امریکہ کے ریڈیو پروگرام میں اسد حسن نے اس موضوع پر خلیل الرحمان قمر، پاکستان کے قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی سابق چیئرپرسن انیس ہارون، خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن ڈاکٹر فوزیہ سعید اور معروف اسکرین پلے رائٹر اور ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم سے گفتگو کی۔ اس قضیے پر ان کا موقف من و عن آپ کے سامنے رکھتے ہیں اور اپنے قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ بھی اردو وی او اے کے فیس بک پیج اور ای میلز کے ذریعے اپنی رائے سے اگاہ کریں۔

خلیل الرحمن قمر، مصنف، ڈرامہ نگار

میرے انٹرویو کے بارے میں، دوسروں نے جس زبان میں تبصرے کئے، میں اس پر نالاں ہوں۔ مجھ سے کوئی اختلاف کرے، اس پر برا نہیں لگتا، لیکن کوئی اگر محض اس لیے مخالفت کرے کہ وہ خلیل الرحمان قمر کی مخالفت کررہا ہے، تو میں ’اللہ معاف کرے‘ اس چیز کو سستی شہرت کہوں گا۔ آپ مجھے دلیل دیجیے، میرے نظریے کے برعکس رائے دیجئے، میرا ریکارڈ اٹھائیے۔۔ میں نے جب بھی لکھا، عورت کے لیے لکھا ہے۔ میرے ڈراموں میں ساس بہو کا نام نہیں لکھا گیا۔ میرا ایمان ہے کہ عورت کسی بھی شکل میں قابل احترام ہے۔ میرے دل میں عورت کے لیے جو احترام ہے، وہ مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں مہوش (ڈرامے کی کردار) جیسی عورت کو عورت کے مقام پر لا کھڑا کروں۔ آپ اس بات پر مجھے گالی دے دیں گے، آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں؟ آپ مجھے دلیل سے قائل کریں، میں پڑھا لکھا آدمی ہوں اور اپنی غلطی ماننے کے لیے ایک دم تیار ہو جاتا ہوں۔ سخی آدمی ہوں غلطی ماننے میں۔ میں مرد کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ وہ معاشرہ چلا سکے۔ معاشرہ میرے ہاں کی اچھی عورت چلاتی ہے۔ اس اچھی عورت پر میری توجہ ہے اور رہے گی۔

اگرچہ چند خواتین نعرے لگاتی ہیں، میرا جسم میرا مرضی، اپنا کھانا خود گرم کرو تو یہ معاشرے میں بگاڑ کے لیے تعفن پھیلایا جا رہا ہے۔ اس کی علمبردار خواتین کے لیے معاشرے میں پہلے کوئی جگہ تھی، نہ ہے، نہ ہو گی۔ آپ ناخنوں سے دیوار چین کھرچنے کی کوشش کررہی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کمتر ہیں، آپ جیسا تو کوئی اعلیٰ نہیں میری نظر میں۔ مہوش کو اگر میں نے دو ٹکے کی کہا ہے تو میں ایسے کسی گھٹیا مرد کو ایک ٹکے کا بھی نہیں کہتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ معاشرہ اچھی عورت کی وجہ سے چلتا ہے، اچھے مرد کی وجہ سے نہیں۔ میں نے گالی ایک ایکٹ کو دی ہے، عورت کو نہیں۔

انیس ہارون، سابق چیئرپرسن قومی کمیشن برائے وقار نسواں

میرا سوال ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون اچھی عورت ہے، کون بری عورت ہے۔ یہ کہنا کہ معاشرہ صرف اچھی عورت سے چلتا ہے, یک طرفہ بات ہے۔ یہ ایسے ہے جیسے آپ کہیں کہ گاڑی صرف دو پہیوں سے چلتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ معاشرہ اچھی عورت اور اچھے مرد دونوں سے چلتا ہے۔ بری عورت اور برے مرد سے خراب ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے روایت بن گئی ہے کہ ہم فوراً کسی پر انگلی اٹھا دیتے ہیں، اس کے کردار پر باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے ہزاروں مرد ہماری نظر کے سامنے ہوتے ہیں، بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ ہم ان کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ اب طلاق کا معاملہ ہی لیجئے۔ عورت کو طلاق کا حق قانون اور معاشرے نے دیا ہے لیکن ہمیشہ کہا جائے گا، اس میں ضرور کچھ نہ کچھ خرابی ہوگی کہ مرد نے چھوڑ دیا۔ میں ایک عورت ہونے کی حیثیت سے، ماں اور بیوی ہونے کی حیثیت سے بتاسکتی ہوں کہ عورت اپنا گھر بڑی مشکل سے چھوڑتی ہے۔ استثنیٰ مردوں میں بھی ہے، خواتیں میں بھی۔ ہمیں اپنے مائنڈ سیٹ کو اور سوچ کو بدلنا چاہیے۔ عورت اور مرد معاشرے کے دو ستون ہیں۔ ان میں تفریق روا نہیں رکھ سکتے۔ ایک کے لیے تو حدیں مقرر کر دی ہیں، دوسرے کے لیے کوئی باؤنڈری نہیں ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ سعید، مصنفہ، حقوق نسواں کی علمبردار

جو انٹرویو دیا گیا، یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو ایک بہانے سے کھلا ہے۔ یعنی اس پر بحث کھلی ہے۔ میں اس کو فیمینسٹ (عورت کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی) مائنڈ سیٹ نہیں مان سکتی۔ میں اگر اس کو نام دوں تو یہ بہت قدامت پسندانہ سوچ ہے۔ ایک زمانے میں ہوتا تھا، جب عورت کے احترام کا دعویٰ بھی کیا جاتا تھا، دو تین جوتے بھی لگا دیےجاتے تھے۔ ایسا مائنڈ سیٹ رہا ہے اور ہمارے بہت سے ادیبوں میں رہا ہے۔ کئی فلمیں اس پر بنی ہیں اور آج کل کے ڈرامے بھی ایسے ہیں۔ آج 2019 میں بھی مائنڈ سیٹ وہی ہے جو پرانے زمانوں میں عورت کی اخلاقی قدروں پر کہانیاں لکھی جاتی تھیں۔ آج بھی یہ کسی ایک لکھاری کی بات نہیں، بہت بڑا گروپ ہے لکھاریوں کا اس مائنڈ سیٹ کے ساتھ۔ یہ دور ایسا نہیں ہے جب ہم کہیں کہ میرا جسم تمھاری مرضی۔ تمھاری مرضی سے اس کی عصمت دری ہوچکی، عورت بک بھی چکی، نو نو سال کی بچی ستر ستر سال کے بندوں کے ہاتھ بک گئی۔ تو میرا جسم میری مرضی کے سلوگن پر اتنا اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ رائٹرز کو وقت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ضرور کہوں گی کہ میں ایک شخص پر اتنی بری طرح حملہ کرنے کے حق میں بھی نہیں ہوں۔ سوچ پر حملہ ہونا چاہیے، فرد پر نہیں۔

خلیل الرحمن قمر

’مائنڈ سیٹ‘ کا لفظ استعمال کرکے مردوں کا گالی دی جاتی ہے۔ ایسا کوئی مائنڈ سیٹ نہیں۔ مرد برا ہے۔ بہت سارے مرد برے ہیں اور وہ عورتوں کی تعداد سے زیادہ ہیں۔ آپ کہتی ہیں کہ بارہ سال کی لڑکیوں کی ستر سال کے مردوں سے شادی کر دی جاتی ہے۔ کیا ہر جگہ ایسا ہوتا ہے؟ یہ ایک گناہ ہے، جو ہوتا رہا ہے۔ اس گناہ کے میں بھی خلاف ہوں۔ اس بات پر کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔ میں اچھل نہیں رہا، تہذیب میں رہ کر بات کرنے اور دلیل دینے کا مشورہ دے رہا ہوں۔

شاہد محمود ندیم، اسکرین پلے رائٹر، ڈائریکٹر

کیا عجب اتفاق ہے کہ جب خلیل الرحمن قمر کی فلم ریلیز ہورہی ہے، یہ تنازعہ بھی کھڑا ہوگیا ہے۔ میرے خیال میں تو ان کے لیے اچھی بات ہے۔ جتنا تنازعہ ہوگا، فلم اتنی کامیاب ہوگی۔ لیکن مجھے اس گفتگو پر بہت حیرت ہوئی جو ان سے منسوب کی گئی۔ غیرت، وفاداری اور شرم و حیا کے تصور کو صرف عورت کے جسم کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے، ایسا صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ اب ساری دنیا کے ساتھ ہم بھی مان رہے ہیں کہ یہ پیٹریارکل سوسائٹی (پدری سماج) ہے، مردانہ حاکمیت کی سوسائیٹی ہے۔ اس میں مرد بطور صنف حکمران ہے۔ اس میں تب تک مساوات نہیں ہوگی جب تک مرد تھوڑا سا پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ اپنے رویے اور سوچ میں نرمی پیدا کرے۔ میں مرد عورت کی برابری کے لیے سرگرداں ہوں۔ مجھے اعزازی فیمنسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ میرا تازہ ترین پلے اسی موضوع کے گرد ہے کہ غیرت کے نام پر قتل اور عورت سے منسلک دوسرے مسئلے کہاں کھڑے ہیں۔ کچھ خرابی میڈیا کی بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ عورت پر ظلم دکھانے، اس پر چلتے تھپڑوں کے سین سے ریٹنگ بڑھ جاتی ہے۔ میرے خیال میں میرے اور خلیل قمر صاحب جیسے مردوں کا کام ہے کہ اس رویے کو روکیں، پیچھے ہیٹیں، عورتوں کو آگے آنے دیں۔ ان کو صدیوں سے دبایا گیا ہے۔ کبھی کبھی عورت مارچ میں ایک دو نعرے یا کتبے غلط لکھے جا رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کی راہ میں، ان کے مارچ میں رکاوٹ بن جائیں۔

خلیل الرحمن قمر

شاہد ندیم صاحب کے لیے عرض ہے کہ مجھے فلم چلانے کے لیے کوئی متنازعہ انٹرویو دینے کی ضرورت نہیں۔ میں چھچھورے سہارے نہیں لیتا۔ شاہد مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ یہ اعزازی فیمنسٹ ہیں تو میں بھی اعزازی فیمنسٹ ہوں۔ میں نے زندگی میں اگر ایک دو ڈرامے دیکھے ہیں تو وہ شاہد ندیم کے ہیں۔ یہ عورت کے مسائل پر لکھتے ہیں اور میں ان کا داعی ہوں، ان کا ماننے والا ہوں۔ لیکن جو مجھ پر طنز کے جملے آئے ہیں، میں ان پر ردعمل دے رہا ہوں کہ دلیل دے کر مجھے قائل کرلیجیے۔ میں اپنے ڈرامے میں اس عورت کو گنجائش دے رہا ہوں جو بارہ اقساط میں گھر توڑ رہی ہے۔ میرے ڈرامے میں شوہر کے کردار نے اس لڑکی کو گالی نہیں دی، اس نے تھپڑ نہیں مارا، اس نے انتہائی دوستانہ ماحول میں اپنی شادی کی سالگرہ مناکر خود کو اس کے راستے سے ہٹالیا ہے۔ اس کے پیچھے نظریہ یہی تھا کہ عورت اگر آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو اس کو ماریے مت، غیرت کے نام پر قتل نہ کیجیے۔ لیکن چند ایک عورتیں اس کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

کیا آپ بھی اس موضوع پر رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں؟

آپ اپنی رائے سے ہمیں اردو وی او اے کے فیس بک پیج اور ٹویٹر ہینڈل کے ذریعے آگاہ کرسکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG