رسائی کے لنکس

logo-print

ڈینئل پرل قتل کیس کے ملزمان تین ماہ کے لیے نظر بند، نوٹی فکیشن جاری


امریکہ کی نائب معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کے گھناؤنے اغوا اور قتل کے ذمہ داروں کو لازمی انصاف کی راہ سے گزرنا ہو گا۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے سندھ کی حکومت نے امریکی صحافی ڈینئل پرل قتل کیس کے چار ملزمان کو آئندہ تین ماہ کے لیے نظر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ڈینئل پرل قتل کیس میں ملزمان کی اپیلوں پر جمعرات کو اپنے فیصلے میں تین ملزمان کی بریت اور مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو سات سال قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

جمعے کو صوبائی محکمۂ داخلہ نے ہائی کورٹ سے رہائی پانے والے ملزمان کی نظر بندی سے متعلق ایک نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ احمد عمر شیخ، فہد نسیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو آئندہ تین ماہ کے لیے حراست میں رکھنے کی مناسب وجوہات ہیں اور ان کی حراست کا اطلاق دو اپریل سے ہو گا۔

سرکاری حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ چاروں ملزمان کی نظر بندی قومی مفاد میں ہے۔

اس سے قبل امریکہ نے صحافی ڈینئل پرل کے قتل سے متعلق عدالتی فیصلے کو دہشت گردی کے متاثرین کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا تھا۔

امریکہ کی نائب معاون وزیرِ خارجہ ایلس ویلز نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ امریکی صحافی ڈینئل پرل کے گھناؤنے اغوا اور قتل کے ذمہ داروں کو لازمی انصاف کی راہ سے گزرنا ہو گا۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ ڈاکٹر فیض شاہ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ اسے کس بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔

​ایلس ویلز نے ڈینئل کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان کی رہائی کے عدالتی حکم کو چیلنج کرنے کے پاکستانی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی مقامی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرے گی۔

انہوں نے ڈینئل پرل قتل کیس کا فیصلہ آنے کی ٹائمنگ پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

ڈاکٹر فیض شاہ کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے ملزمان کے خلاف اغوا کے الزامات برقرار رکھے ہیں لیکن قتل کے الزمات ثابت نہیں ہوئے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف یقیناً اپیل دائر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت ڈینئل پرل کیس پر دیے گئے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا قتل اور دیگر نکات کی بناء پر اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے؟

انہوں نےبتایا کہ ہائی کورٹ نے اسے صرف اغوا کا کیس قرار دیا ہے لیکن ڈینئیل پرل کی بیوہ کے مطابق اغوا کاروں نے تاوان کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اغوا برائے تاوان کا کیس تھا۔ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اغوا برائے تاوان اور قتل کا بھی کیس تھا۔ تو ہم اس قابل ہوں گے کہ کیس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر سکیں۔

پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے مطابق ملکی نظام انصاف میں یہ جرم ثابت کرنا پراسیکیوشن کا کام ہوتا ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ ہونے والے بیانات میں کچھ خامیاں موجود ہیں۔ خاص طور پر امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ایجنٹ کے بیان نے کیس کو کمزور کیا۔

ایف بی آئی کے ایجنٹ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چار فروری کو ہم نے اس کمپیوٹر کا فرانزک ٹیسٹ کیا ہے جس سے ڈینئیل پرل کی تصاویر پر مبنی ای میل بھیجی گئی تھیں۔ لیکن کیس میں درج حقائق بتاتے ہیں کہ ملزمان سے یہ کمپیوٹر 11 فروری کو برآمد کیا گیا تھا۔ اس طرح برآمدگی سے قبل ہی فرانزک کرنے کا بیان تضاد پر مبنی ہے۔ اور یہ خامی ہمارے کیس پر کافی بھاری گزری۔

ان کا کہنا تھا اس کیس میں تیکنیکی اور تحقیقات میں خامیاں موجود ہیں اور ملزمان کے شناخت کے عمل میں بھی کوتاہیاں کی گئیں۔

ڈاکٹر فیض کے بقول قانونی طریقہ کار کو پورا نہیں کیا گیا، تحقیقات میں بعض اوقات سنگین غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ اس میں ہوسکتا ہے کہ بدنیتی نہ ہو لیکن تفتیشی افسر کی جانب سے بعض چیزیں نظر انداز ہوجاتی ہیں جس کا فائدہ ملزمان کو پہنچتا ہے۔

بیرسٹر فیض شاہ کے مطابق یہ کیس کوئی براہ راست شواہد کا نہیں تھا، بلکہ یہ کیس محض واقعاتی شواہد یا بلواسطہ شواہد کا ہے۔

ان تمام شواہد کو جمع کر کے ان واقعات میں تسلسل ہونا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینئل پرل کیس میں کسی بھی میڈیکل افسر سے بھی کوئی ڈیتھ سرٹیفیکیٹ حاصل نہیں کیا گیا۔ جس کا فائدہ بہرحال ملزمان کو پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کن نکات پر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور جو اس فیصلے کو ہمارے حق میں تبدیل کرے۔

یاد رہے کہ امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' سے وابستہ صحافی ڈینئل پرل کو 2002ء کے اوائل میں کراچی سے اغوا کیا گیا تھا اور اسی سال مئی میں ان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔

اس کیس میں پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے ان میں سے تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو عمر قید جب کہ مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کو اغوا اور قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔

سزا کے خلاف ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ملزمان کے وکلا نہ ہونے کی وجہ سے اپیلوں کی سماعت تقریباً 10 برس تک بغیر کارروائی کے ملتوی ہوتی رہی اور اس طرح اس کیس کا فیصلہ آنے میں 18 سال کا عرصہ لگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG