رسائی کے لنکس

logo-print

'بچوں کی معمول کی ویکسینیشن کا کام جاری رہنا چاہیے'


پاکستانی بچوں کے لیے پولیو ویکسی نیشن کی مہم (فائل) بچوں کی معمول کی ویکسینیشن

کرونا وائرس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا تو سائنسدانوں اور محققین کی پوری توجہ اس کے خلاف کوئی ویکسین تیار کرنے کی جانب ہو گئی۔ امریکہ سمیت مختلف ممالک میں اس پر پوری تندہی سے کام ہو رہا ہے۔ اور مختلف ماہرین اس بارے میں مختلف پیش گوئیاں کر رہے ہیں۔ مگر سب کا یہی کہنا ہے کہ کوئی ویکسین چند ماہ میں مارکیٹ میں آنے کی توقع نہیں ہے۔

کرونا اور بچوں کے حفاظتی ٹیکے
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:56 0:00

اس پورے عمل کے دوران زندگی کا ہر شعبہ ہر معمول کرونا وائرس سے بچاؤ کی کوششوں سے متاثر ہوا ہے۔ ملکوں میں لاک ڈاؤن نے زندگی کی سب مصروفیات معطل کر کے رکھ دی ہیں۔ کرونا وائرس سے متاثرہ اتنے مریض ہسپتالوں میں پہنچے کہ معمول کا علاج معالجہ گویا رک سا گیا۔ اسی طرح، بچوں کو حفاظتی ویکسین دینے کی بھی پابندی نہ کی جا سکی۔

امریکہ میں سی ڈی سی (سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول) نے مارچ کے آخر میں بچوں کو حفاظتی ویکسین دینے کے معمول کی اہمیت کے بارے میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا، خاص طور پر ان بچوں کیلئے جن کی عمر دو سال کے لگ بھگ ہے۔

لیکن، بعد کے جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ بچوں کی معمول کی ویکسینیشن میں کمی ہوئی ہے۔ اور ایسا کرونا وائرس کی وبا سے پیدا شدہ صورتِ حال کی وجہ سے ہی ہوا ہے، کیونکہ والدین گھروں سے باہر نہ نکلنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو جن بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین بچوں کو وقت پر نہیں دی جا سکی ان کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس لئے، والدین کو یہ باور کروانا ضروری ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے دوران بھی ان کے بچے کو معمول کی ویکسین دلوانا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر خوشنود احمد یونیورسٹی آف ٹیکسس کے آ رجی وی سکول آف میڈیسن میں اسسٹنٹ پروفیسر آف کلینیکل پیڈیاٹرکس ہیں اور پلانو ٹیکسس میں چلڈرن میڈیکل سنٹر میں بچوں کے ایمرجنسی کے شعبے میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے وائس آف امیریکہ سے بات کرتے ہوئے خاص طور پر پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ میں تو پولیو کا آخری مریض غالباً 1979ء میں سامنے آیا تھا اور اس کے بعد سے اس پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے اور یہ صورت باقی دنیا کی بھی ہے، سوائے پاکستان اور افغانستان کے جہاں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

ڈاکٹر خوشنود نے بتایا کہ پاکستان میں پولیو کے خلاف بڑی مؤثر مہم چلائی جاتی ہے اور اگرچہ وہاں اس کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے خطرات بھی ہیں مگر پھر بھی ملک بھر میں بچوں کو پولیو سے محفوظ کرنے کی کوششیں رکتی نہیں ہیں۔ لیکن، انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث بہت سے دیگر معمولات کی طرح ویکسینیشن کا سلسلہ بھی متاثر ہوا ہے۔

بچوں کو ویکسین نہ دئے جانے کا کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں ڈاکٹر خوشنود نے کہا کہ بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے ایک مرتبہ ویکسین دینا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ، اس کی تمام خوراکیں اور وقت پر دینا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بچے کی ویکسینیشن میں رخنہ آ بھی گیا ہے تو بھی والدین کو چاہئے کہ وہ اسے کلینک پر ضرور لے جائیں، تاکہ اسے سپیشل خوراک دی جا سکے۔

Dr.Noor Sabah Rakhshani
Dr.Noor Sabah Rakhshani

پاکستان میں پولیو کے خلاف مہم بھرپور طریقے سے چلائی گئی اور اس کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ لیکن، کرونا وائرس کی وبا میں پولیو کی مہم بھی متاثر ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نور صبا رخشانی بچوں کی ویکسینیشن پر بہت تحقیق کر چکی ہیں اور اسی سلسلے میں انہیں بل گیٹس فاؤنڈیشن سے ایوارڈ بھی ملا۔ اب وہ پریسیژن ہیلتھ کنسلٹینٹس میں ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان میں پولیو کے چار مزید کیسز سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ای پی آئی نے جو اندازہ ظاہر کیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے بچوں کی امیونائیزیشن بیس سے تیس فیصد کم ہو گئی ہے اور ان بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے جن سے بچاؤ کیلئے یہ ویکسینز دی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق، پاکستان میں خسرہ کے کیسز دوبارہ آنے لگے ہیں، کیونکہ بچوں کو نو مہینے اور پندرہ مہینے کی عمر میں دی جانے والی ویکسین نہیں دی جا سکی۔

انہوں نے بتایا کہ امیونائیزیشن کی ہر مہم کو یکم جون تک روک دیا گیا ہے۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ جن مراکز میں بچوں کو ویکسینز دی جاتی ہیں، والدین اگر وہاں بچوں کو لے کر جائیں تو بچوں کو ضرور یہ ویکسین دی جائیں اور اگر عمر میں دو چار مہینے کا فرق بھی ہو تو بھی بچے کو ویکسین دئے بغیر نہ بھیجا جائے۔

انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ چونکہ کووڈ نائنٹین کی وجہ سے پولیو کی روک تھام کی مہم پوری طرح نہیں چلائی جا رہی، اس لئے پولیو کا خطرہ بھی اور بڑھ گیا ہے۔

پاکستان میں پولیو کی روک تھام کے لئے رابطہ کار رانا محمد صفدر نے ایک ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ اگرچہ معمول کی ویکسینیشن جاری ہے، تاہم ملک بھر میں امیونائیزیشن کی سپلائی فراہم کی جا رہی ہے۔ جولائی سے ان علاقوں پر توجہ دی جائے گی جہاں پولیو کے نئے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے اور اگست سے دسمبر تک ملکی سطح پر تواتر کے ساتھ پولیو کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔

بچوں کی صحت والدین کیلئے ہی نہیں بلکہ پورے ملک کیلئے اہمیت رکھتی ہے اور ان کی حفاظت کا عمل کسی وبا کے باعث رکنا نہیں چاہیئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG