رسائی کے لنکس

logo-print

کیا کرونا اور احتجاج کے چیلنجز کا مقابلہ سیاست سے ممکن ہے؟


آکلینڈ، کیلی فورنیا (فائل)

امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں پولیس کی کارروائی میں ایک سیاہ فام شخص کی ہلاکت نے امریکہ بھر میں احتجاجی مظاہروں کا جو سلسلہ شروع کیا اس کے بارے میں امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کے لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔

وبا ہو یا احتجاج۔ سیاست کا کھیل جاری رہتا ہے۔
please wait

No media source currently available

0:00 0:09:25 0:00

ایک وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ سڑکوں پر نہ لایا جائے اور اسے پہلے جیسے پولیس کے ہاتھوں کسی شہری کی موت کے واقعے ہی کی طرح دیکھا جائے۔ دوسرے وہ ہیں جو ان لوگوں کی آواز میں آواز ملا رہے ہیں جو اسے نسلی امتیاز سمجھتے ہوئے پولیس کے ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال اور افریقی امریکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنا چاہتے ہیں۔

اور یہی وہ لوگ ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں امریکہ کے تقریباً ستر شہروں میں احتجاج میں شامل ہیں۔ جو اس نظام میں اصلاح چاہتے ہیں جس میں کوئی بھی امتیاز کی گنجائش نہ ہو۔

معاملہ انسانی حقوق کا ہو یا کرونا وائرس کی وبا کا، امریکہ میں اسے سیاست سے دور رکھنا مشکل ہے۔ مگر امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ہیوسٹن شہر میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے حامی اور سابق ڈیلیگیٹ، ظفر طاہر کا کہنا ہے کہ کسی بھی واقعے کی اہمیت اس وقت تک واضح نہیں ہوتی جب تک کہ اسے سیاست سے مربوط نہ کیا جائے۔ انہوں نےکہا کہ سیاست کو منفی معنوں میں نہیں لینا چاہئے، بلکہ سیاست کسی بھی اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

ہیوسٹن ہی میں ریپبلکن پارٹی کے حامی اور سابق رکن سٹی کونسل ایم جے خان کا کہنا ہے کہ اگر آپ یہ کہیں کہ موجودہ احتجاج خالصتاً سیاسی ہے تو وہ ایسا نہیں سمجھتے۔ لیکن، ان کا خیال ہے کہ ایسے معاملات کو سیاستدان اپنے فائدے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ ایک اسٹیٹس مین ملک کے فائدے کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔

پولیس کے رویے کے خلاف اب تک صرف افریقی امریکی آواز اٹھاتے رہے مگر اب اس تحریک میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل ہوگئے ہیں۔ آغا افضل خان نیو وارک، نیو جرسی میں ریپبلکن پارٹی کے سابقہ انتخابی امیدوار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس احتجاج میں سیاست نہیں ہے اور ان مظاہروں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا؛ مگر جب ان میں بعض عناصر نے توڑ پھوڑ کی اور لوٹ مار مچائی تو ظاہر ہے ان پر نکتہ چینی ہونا لازم تھی۔

احتجاجی مظاہروں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے، ظفر طاہر نے کہا کہ امریکہ میں نسلی امتیاز ساٹھ کی دہائی تک جاری رہا تھا۔ وہ دور سیاہ فام امریکیوں کے ذہنوں میں اب بھی تازہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ واقعے نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں احتجاج پر امن رہا وہاں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ انہوں نے اپنے شہر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مسلمان بھی بڑی تعداد میں مقیم ہیں اور سب نے اس کی حمایت کی ہے۔

ایم جے خان کہتے ہیں کہ موجودہ احتجاج نسلی امتیاز کے خلاف ہی ہے اور یہ امتیاز پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ اس امتیاز کو امریکہ کو ہی ختم کرنا ہوگا، کیونکہ امریکہ کی بات کی بہت اہمیت ہے۔

ظفر طاہر کے خیال میں شہری حقوق کا معاملہ ایک جاری عمل ہے اور اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔

انداز کچھ بھی ہو اور بات حق کی ہی سہی مگر اسے سیاست سے مربوط کرتے ہی اس کا تاثر منفی ہونے لگتا ہے۔ شاید سیاست کو مثبت سمجھنے والے بھی اس کا تاثر تبدیل کرنے سے قاصر ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG