رسائی کے لنکس

کرونا وائرس نے پرہجوم جیلوں کا رخ کر لیا تو کیا ہوگا؟


رنگون کی جیل سے قیدی رہا کیے جانے کی ایک تقریب۔

کرونا وائرس کی عالمی وبا نے جہاں لوگوں کو ان کے گھروں کے اندر عملاً قید کردیا ہے، وہاں دوسرے مسائل کے علاوہ پرہجوم جیلوں کے اندر بند قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ بھی دن بدن تشویش کا سبب بنتا جا رہا ہے۔

مسئلہ یہ زیر بحث ہے کہ ایک ہی جگہ بہت بڑی تعداد میں قیدیوں کی موجودگی کا مطلب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو دعوت دینا ہے۔

اس مسئلے کے پیش نظر صحت کے ماہرین اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی رائے ہے کہ اگر ایک مرتبہ اس وبا نے جیلوں کا رخ کر لیا تو پھر ہزاروں کی تعداد میں قیدیوں کو اس آفت سے بچانا مشکل ہوجائے گا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ وقت سے پہلے اس کا منظم انداز میں تدارک نہ کیا گیا تو پھر کف افسوس ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا۔

یہ مسئلہ وائرس کی ہی مانند عالمگیر نوعیت کا ہے جس کی زد میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی جیلیں بھی ہیں جن کے بارے میں کوالالمپور سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار، سومبور پیٹر نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحت کے ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ علاقے میں بہت سے پرہجوم عقوبت خانے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا آسان ذریعہ بن سکتے ہیں۔

ییومن رائٹس واچ میں ایشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل روبرٹسن نے انتباہ کیا ہے کہ یہ تباہی گویا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں میانمار یعنی برما، انڈونشیا اور تھائی لینڈ کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ جیل کی کوٹھریوں سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کررہے ہیں تاہم بعض ممالک اب بھی پس وپیش میں مبتلا نظر آتے ہیں۔

انسانی حققوق کے لئے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نے تمام ملکوں پر زور دیا ہے کہ حالات کا تقاضا ہے کہ وہ خطرے سے دوچار، مثلاً بیمار اور عمر رسید قیدیوں کو جیلوں کی چہار دیواری سے آزاد کر دیں۔ ان میں ایسے قیدی بھی شامل کئے جا سکتے ہیں جن کی قید کی معیاد ختم ہونے والی ہے یا وہ قیدی جنھیں پرتشدد جرائم پر جیل کی سزائیں نہیں دی گئی تھیں۔

ایشیا اور بحرالکاحل کے علاقے میں ریڈ کراس کی بین الااقوامی کمیٹی کے ایک مشیر ڈاکٹر زیاد تومین نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ کولمبیا سے لے کر بھارت اور امریکہ تک بہت سے ملکوں نے خطرے کو بھانپ کر بعض قیدیوں کو رہا کرنا شروع کردیا ہے۔

انڈونیشیا میں تقریباً تیس ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ تھائی لینڈ کا کہنا ہے کہ اس نے بھی قیدیوں کی رہائی کے لئے کوششیں دو چند کر دی ہیں۔

دوسری جانب برما نے پچیس ہزار قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، علاقے کے ملکوں میں فلپائن کی جیلوں کے بارے میں بہت تشویش پائی جاتی ہے جہاں کے قید خانے دنیا میں سب سے پرہجوم قیدخانوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔

حال ہی میں اس اطلاع نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ فلپائین کی ایک پرہجوم جیل میں کرونا وائرس کے اٹھارہ کیسز کا پتا چلا ہے۔ فلپائین میں بھی قانون ساز اور جیل کے حکام قیدیوں کی رہائی کا مشورہ دے رے ہیں۔ تاہم، حکومت بظاہر حیل و حجت سے کام لے رہی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اب ٹال مٹول کا وقت نہیں رہا اور یہ ایک ایسی صورتحال ہے جیسے ٹائم بم کی سوئی رفتہ رفتہ آگے کی جانب جا رہی ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG