رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کا خوف اور ذہنی دباؤ


ایک طالبہ (فائل)

کرونا وائرس نے امریکہ کی نصف آبادی کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ خوف اور بے یقینی کی فضا نے ایک عام شہری کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ صرف لمحہ موجود میں زندہ رہے۔ ہر دن اس انداز میں گزارے کہ کوئی ایسی بے احتیاطی نہ ہو کہ اسے کرونا وائرس کا شکار کر دے۔

وائرس کے اثرات 14 روز سے پہلے تو ظاہر ہی نہیں ہوتے۔ اور اگر گھر میں کسی کا کرونا کا ٹیسٹ پازیٹیو آ جائے تو آئندہ دنوں کا خوف پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟ کیا اس کی جان بچ جائے گی؟ کیا ہم سب اس کی لپیٹ میں آجائیں گے؟ یہ خوف، انجانے کا خوف اس وقت دنیا بھر کے لوگوں کو مطمئن اور پر سکون زندگی سے بہت دور لے گیا ہے۔

کرونا وائرس کا خوف اور ذہنی دباو
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:27 0:00

ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں سرٹیفائڈ سائکیٹرسٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا وائرس سے خوف کی بڑی وجہ اس سے ہونے والی اموات کی شرح ہے؛ کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ خوف موت کا ہی ہوتا ہے اور پھر ایسی بیماری جس کا علاج ہی موجود نہیں اور اس کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں۔ چناچہ، اسی وجہ سے لوگوں میں ایک سراسیمگی پائی جاتی ہے۔ اور لاک ڈاؤن نے اس میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، ایک تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث ذہنی امراض کی شدت میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

خوف کہ گھر سے باہر نکلے تو کیا ہوگا؟ یہ کب تک چلے گا؟ بوڑھے والدین کا کیا ہوگا؟ خوف کہ ملازمت چلی گئی اب گزارہ کیسے ہوگا؟ اور امتحان نہ ہوئے تو اگلی کلاس میں کیسے جائیں گے؟

زینب محمود کو میڈیسن سکول میں داخلے کیلئے ایم کیڈ کا امتحان دینا تھا۔ تیاری مکمل تھی مگر کرونا وائرس نے نیویارک میں وہ تباہی مچائی کہ سکول، کالج، کاروبار سب بند ہو گئے۔ اب یہ امتحان کب ہوگا؟ یہ سوال زینب کو ہر دم پریشان رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں یہ پریشانی سب طلبا کی ہے، کیونکہ ویب سائٹ پر کچھ نہیں کہا جا رہا کہ امتحان کب ہوگا۔

Dr. Sohail Chima
Dr. Sohail Chima

کرونا وائرس کا طوفان کم ہونے میں نہیں آرہا۔ 7 اپریل کی سہ پہر تک دنیا بھر میں تیرہ لاکھ اسی ہزار سے زیادہ افراد اس سے متاثر ہو چکے تھے اور 7800 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

امریکہ بھر میں تین لاکھ اٹھہتر ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہیں اور گیارہ ہزار آٹھ سو سے زیادہ موت کا شکار ہوئے ہیں۔ ان میں صبح کے اندازے کے مطابق، 5489 افراد نیویارک میں ہلاک ہوئے۔ 6 اپریل کو نیویارک میں 731 افراد ہلاک ہوئے، جو ایک روز میں موت کا شکار ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

یہ تمام اعداد و شمار انسان کو ذہنی طور پر پریشان کرنے کیلئے کافی ہیں۔ کائزر فیملی فاؤنڈیشن کی جانب سے 2 اپریل کے ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ 45 فیصد امریکی کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا نے انہیں نفسیاتی طور پر بہت متاثر کیا ہے۔

دنیا کی ایک تہائی آبادی کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور طویل تنہائی اور معاشرتی فاصلے یا سوشل ڈسٹینسنگ کا شکار ہے، جس نے ان کی اینگزائٹی، ڈیپریشن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔

اس کا احساس انتظامی سطح پر بھی ہے۔ نیویارک میں، جو کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، گورنر اینڈریو کومو نے فری مینٹل ہیلتھ ہاٹ لائن کا اعلان کیا ہے جس میں 6000 رضاکار لوگوں کو ذہنی پریشانی سے نکالنے کیلئے موجود رہیں گے اور بات کریں گے۔

ڈاکٹر سہیل چیمہ بھی یہ مشورہ دیتے ہیں کہ لوگوں کو لاک ڈاؤن میں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیئے۔

وہ کہتے ہیں، "امریکہ اور یورپ میں رہنے والوں کو بہت سی سہولتیں حاصل ہیں۔ وڈیو اور ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ٹیلی میڈیسن بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ ہم اپنے مریضوں سے وڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہیں''۔

ڈاکٹر چیمہ نے کہا کہ "بہت سے ایپس اور ویب سائٹس مدد کیلئے موجود ہیں اور اگر یہ سب نہ بھی ہوں تو اپنے عزیزوں اور رشتے داروں سے بات کریں۔ جتنا آپ بات کریں گے معلومات حاصل کریں گے تو آپ کے خوف میں کمی ہوگی۔ کیونکہ، بہت سا خوف لاعلمی اور چیزوں کی حقیقت نہ جاننے سے پیدا ہوتا ہے۔"

اور ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس وبا کے ذہنی اثرات وبا ختم ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG