رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: پاکستان میں رضاکار ڈاکٹروں نے ٹیلی میڈیسن کی سہولت فراہم کر دی


فائل فوٹو

پاکستان میں کووڈ 19 کےبحران کے پیش نظر لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے اور صرف ایمرجینسی ہی کی صورت میں ہسپتال جانے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان بھر میں ڈاکٹر رضاکارانہ طور پر واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر ٹیلی میڈیسن کے لئے ڈاکٹرو ں کے پینلز پر مشتمل گروپس تشکیل دے رہے ہیں یا ان کا حصہ بن رہے ہیں۔

اور یوں، اپنے گھروں میں بیٹھے یہ ڈاکٹر لوگوں کو آڈیو یا ویڈیو کال کے ذریعے طبی مشورے اور علاج کے لیے اپنی خدمات کا عطیہ پیش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، اپنے ذاتی اور کرونا وائرس کے حوالےسے تشکیل دیے گئے فیس بک اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کرونا وائرس اور اس سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں ویڈیوز تیار کر کے پوسٹ کر رہے ہیں اور انہیں واٹس ایپ گروپس میں شئیر کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ نے ان پلیٹ فارمز کے فاؤنڈرز اور ان کے رضاکاروں سے انٹرویو کیے ہیں۔

ڈاکٹر اکمل رشید
ڈاکٹر اکمل رشید

فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے پبلک ہیلتھ اسپیشلسٹ، ڈاکٹر اکمل رشید نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انہوں نے پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے فیس بک اور واٹس ایپ پر 'ٹیلی ہیلپ' کے نام سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے، جس میں رضاکار ڈاکٹروں کا ایک پینل لوگوں کو ان کی صحت اور بیماری کے بارے میں مفت مشورہ دے رہا ہے۔

اس پلیٹ فارم پر تمام رضاکار ڈاکٹروں کےنام اور ٹیلی فون نمبر موجود ہیں جب کہ لوگوں کو ادویات ان کی دہلیز تک پہنچانےکا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب سے یہ گروپ قائم ہوا ہے سینکڑوں لوگوں نے اس گروپ کے رضاکار ڈاکٹروں سے استفادہ کیا ہے اور یہ سلسلہ بہت زور شور سے جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گروپ کا موٹو ہے Stay home , Stay healthy یعنی گھر میں رہیے صحت مند رہیے۔

اسلام آباد میں قائم پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن 'پیما' نے فیس بک اور واٹس ایپ پر 'پیما ہیلتھ لائن' کے نام سے ملک گیر سطح کی ٹیلی میڈیسن سروس شروع کر دی ہے، جس میں لوگوں کو ویڈیو اور آڈیو کے ذریعے طبی مشورے فراہم کئے جائیں گے۔

اس گروپ کے سر براہ ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پیما کا یہ گروپ، جس میں ذیابیطس، کارڈیالوجی، گائناکولوجی سمیت ہر شعبے کے طبی ماہرین موجود ہیں۔ لوگوں کو کرونا وائرس کے بارے میں مستند معلومات اور میڈیکل مشورے مفت فراہم کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ لوگ واٹس ایپ اور اس گروپ کے فیس بک پر دستیاب ڈاکٹروں کے فون نمبروں پر کال کرکے ان سے مشورے لے سکتے ہیں اور مریض اپنی رپورٹ اور ٹسٹ بھی بھیج سکتے ہیں اور یہ گروپس پہلے یہ جائزہ لیں گے کہ کہیں کال کرنے والا کسی ایمرجینسی کی حالت میں تو نہیں؛ پھر اس کے بعد انہیں مشورہ یا کوئی نسخہ تجویز کریں گے یا کسی متعلقہ اسپیشلسٹ کی جانب آن لائن ریفر کر دیں گے۔

ڈاکٹر ذکی الدین
ڈاکٹر ذکی الدین

چکوال میں ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ایڈمنسٹریشن، ڈاکٹر اشفاق احمد نے، جو پبلک ہیلتھ کے ایک سپیشلسٹ ہیں، بتایا کہ چکوال میں بھی ہیلتھ لائن کے نام سے ملک گیر سطح کی ایک ٹیلی میڈیسین سروس شروع کی گئی ہے جس میں ہر شعبے کے ماہر ڈاکٹروں کے نام اور ان کے فون نمبر فراہم کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق احمد چکوال
ڈاکٹر اشفاق احمد چکوال

اس گروپ کے فوکل پرسن ڈاکٹر اشفاق احمد نے بتایا کہ چکوال پبلک ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے چکوال کی تحصیل کٹاس کے کیڈٹ کالج کو مکمل طور پر خالی کرا لیا ہے، جب کہ اس مقصد کے لیے کمیونٹی سینٹر کو بھی استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نےکہا کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو اس سلسلے میں ایک جدید وینٹی لیشن مشین بھی فراہم کی جا چکی ہے، جسے ایک وقت میں تین مریضوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چکوال ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو فراہم کی گئی وینٹی لیشن مشین
چکوال ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کو فراہم کی گئی وینٹی لیشن مشین

گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل طالبعلموں یعنی اولڈ راوئینز کے گروپ یو بنٹو نے،(ubuntu)، جس کا مطلب ہے انسانیت، پاکستان اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے کویڈ وائرس کے بارے میں آگاہی اور طبی مشوروں کے لیے ایک ٹیلی میڈیسن واٹس ایپ گروپ قائم کیا ہے جس کے فوکل پرسن ڈاکٹر حبیب اللہ نے بتایا کہ یہ گروپ ایک سو سے زیادہ اولڈ راوئینز دوستوں پر مشتمل ہے جن میں ڈاکٹر، انجینیر، آئی ٹی اسپیشلسٹ اور زندگی کے ہر شعبے کے ماہرین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروپ کو پاکستان بھر سے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگوں کی کالیں موصول ہو رہی ہیں اور اس گروپ کے رضاکار ڈاکٹر انہیں طبی مشورے اور کرونا وائرس کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر حبیب اللہ
ڈاکٹر حبیب اللہ

ڈاکٹر حبیب اللہ نے بتایا کہ اس وقت کویڈ وائرس 19 سے نمٹنے کے لیے ہسپتالوں میں کام کرنے والے عملے کے پاس N95 ماسک کی بہت زیادہ کمی ہے جس کی وجہ سےوہ انتہائی خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کےپیش نظر ان کا گروپ لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں اس وائرس سے نمٹنے کے لیے درکار ایک ہزار خصوصی این 95 ماسک تقسیم کر رہا ہے۔

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا
ڈاکٹر احمد حسن رانجھا

ڈاکٹر احمد حسن رانجھا جناح اسپتال لاہور کے ایک میڈیکل ہیلتھ اسپیشلسٹ ہیں اور علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور سے وابستہ ہیں۔ وہ بھی واٹس ایپ پر قائم رضاکار ڈاکٹروں کے ایک گروپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ اس وقت اہسپتال سب سے زیادہ خطرناک جگہ ہیں جہاں کرونا کے مریضوں سے واسطہ پڑنے کا سب سے زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ہسپتال سے دور رکھنے کے لیے اور سوائے ایمرجنسی کے اسپتال آنے سے روکا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اب سوشل میڈیا پر بننے والے ٹیلی میڈیسن گروپس صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی ضروری اور موثر ہیں، خاص طور پر ایسے میں کہ جب حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے اور اس سے نمٹنے کا واحد موثر راستہ گھر تک محدود رہنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG