رسائی کے لنکس

کرونا کی وبا کب جان چھوڑے گی؟ منزل ابھی دور ہے!


کرونا وائرس کی عالمی وبا نے اب تک پانچ لاکھ لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، جب کہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہوچکی ہے۔ اس پس منظر میں مختلف ملکوں کے عہدیدار پس و پیش کا شکار نظر آتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے لگائی جانے والی بندشوں میں آخر کتنی نرمی کی جائے۔

بہت سے ملکوں میں جہاں نرمی کی گئی ہے وہاں یہ دیکھنے میں آیا کہ انفیکشن کے کیسز میں اضافہ ہوا۔ امریکہ کو ہی دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آئی کہ تیس سے زیادہ ریاستوں میں جب بندش کو نرم کرنے کے اقدامات کئے گئے تو وہاں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

اس پس منظر میں واشنگٹن ڈی سی سے متصل انتہائی نگہداشت کے ایک یونٹ سے منسلک اگلے محاذ پر کام کرنے والے طبی عملے کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کا اختتام ابھی دور کی بات ہے۔

وائس آف امریکہ کی نگامہ نگار مریامہ دیالو نے اپنی رپورٹ میں میری لینڈ کے اسپتال فورٹ واشنگٹن میڈیکل سنٹر کا احوال بیان کیا ہے جو وائرس کے حملے کے ابتدائی دنوں سے ہی ایک مرکز کی شکل اختیار کرگیا تھا۔

فورٹ واشنگٹن اسپتال میں کیون کول سانس کے مرض کے تھراپیسٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کو جب سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے تو انھیں کس اذیت سے گزرنا ہوتا ہے، اس کا انھیں بخوبی علم ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے لئے یہ سمجھنا نہایت دشوار ہے کہ ایسے میں جب سماجی فاصلے کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے، اچانک بھیڑ بھاڑ کی کیفیت سے آخر کس طرح بچا جاسکتا ہے۔

کیون نے اس جانب توجہ دلائی کہ بعض مقامات پر بندش میں نرمی کے بعد لوگوں نے ساحل سمندر پر جانا شروع کردیا اور ان کا خیال تھا وبا اب ختم ہوچکی ہے اور اب معمولات بحال ہورہے ہیں۔ لیکن، بدقسمتی سے ایسا نہیں تھا اور ابھی حالات کی بحالی بعید از قیاس ہے۔ انھوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ عالمگیر وبا چلتی رہے گی۔

طبی ماہرین کے مطابق، تیس سے زیادہ ایسی ریاستوں میں جہاں عوامی مقامات کو دوبارہ کھولنے کے لئے اقدامات کئے گئے، وہاں مریضوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہوگیا۔ ان ریاستوں میں ایریزونا، ٹیکساس اور فلوریڈا شامل ہیں۔

فلوریڈا کے گورنر راون ڈیسانتیس کا خیال ہے کہ نوجوان لوگوں میں باہمی رابطے کی وجہ سے انفکیشن کے مصدقہ کیس بلند ہورہے ہیں۔ پہلے مریضوں کی اوسط عمر ساٹھ کے پیٹے میں تھی۔ لیکن اب گزشتہ دس دنوں میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ مریضوں کی اوسط عمر تینتیس سے چھتیس برس ہے۔ نصف تعداد ایسے مریضوں کی ہے جن کی عمر تیس سے کم یا اس سے تھوڑی ہی زیادہ بتائی جاتی ہے۔

طبی عملے کے ارکان انتباہ کرتے ہیں کہ اسپتالوں کے مناظر اور مریضوں کی حالت کو دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کرونا کتنا ہولناک اور تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اسے مذاق نہیں سمجھنا چاہئے۔

طبی ماہرین اندیشہ ظاہر کرتے ہیں کہ فی الوقت تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے چھٹکارہ دور کی بات ہے اور اس سلسلے میں وقت کا تعین ابھی بہت مشکل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG