رسائی کے لنکس

logo-print

ایئر کینیڈا کا 20 ہزار ملازمین کی چھانٹی کا اعلان


ایئر کینیڈا ملک کے فضائی سفر کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ اس نے جمعے کے دن اعلان کیا کہ کرونا وائرس کی وبا کی صورت حال کے پیش نظر کم از کم 20،000 ملازمین کی چھانٹی کی جا رہی ہے۔

ایئر کینیڈا کے ملازمین کی کل تعداد 38،000 ہے۔

ایئرلائن نے بتایا ہے کہ وبا کے نتیجے میں فضائی کمپنی کی 95 فی صد پروازیں بند ہو چکی ہیں جب کہ صورت حال جلد معمول پر آنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اس لیے، ہم نے آج ایک انتہائی مشکل فیصلہ کیا ہے کہ درپیش صورت حال کے پیش نظر ملازمین کی تعداد کم کی جائے۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہم 50 سے 60 فی صد ملازمین کو نکالنے پر مجبور ہیں''۔

یہ فیصلہ 7 جون سے نافذ العمل ہو گا۔

ایئر کینیڈا نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ اخراجات میں کمی لانے کی حکمت عملی کے طور پر، ادارہ اپنے ملازمین کی تعداد تقریباً نصف تک کم کر دے گا۔

جب اپریل میں حکومت کینیڈا نے اجرت کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا، تو ادارے نے اسی ماہ ان فلائٹ اٹنڈینٹس، مکینکس اور کسٹمر سروس کے ملازمین کو دوبارہ ملازمت میں رکھا۔ تاہم، حکومت چھ جون کے بعد اس پروگرام کو جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

ایئر کینیڈا کے انتظامی سربراہ، کالن رونسکو نے جاری دور کو شہری ہوابازی کی تاریخ کا سیاہ ترین عہد قرار دیا ہے، جو 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں اور 2008 کے مالی بحران سے کہیں زیادہ بدتر دور ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کی سرحد تمام غیر ضروری سفر کے لیے بند ہے۔ ایئرلائن نے 200 سے زائد طیاروں کی پرواز روک دی ہے، جب کہ بین الااقوامی فضائی سفر کے لیے محض پانچ ہوائی اڈے کھلے ہوئے ہیں۔

ایئر کینیڈا نے بتایا ہے کہ رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران، 1.05 ارب کینیڈین ڈالر یعنی 748 ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا، ایسے میں جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد حکومت نے سفر پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG