رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: امریکہ میں ڈاکٹروں نے کیا سبق سیکھا؟


فائل فوٹو

کرونا وائرس کی عالمی وبا اب بھی پراسراریت میں لپٹی ہوئی ہے اور دنیا بھر میں حکومتیں اور ماہرین اس ہولناک بیماری کا حل ڈھونڈنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں، یہاں امریکہ میں بھی ڈاکٹرز اس آفت کو زیر کرنے میں دن رات سرگرداں ہیں۔

تاہم، اس خوفناک بیماری کا مقابلہ کرتے ہوئے، جس نےصرف امریکہ میں اب تک 54 ہزار سے زیادہ لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، ڈاکٹروں نے بہت سے ایسے مشاہدات بتائے ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ کاش انھیں ان کا علم ہفتوں پہلے ہوجاتا۔

وائس آف امریکہ کے لئے نامہ نگار مریامہ دیالو نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی ہے کہ امریکہ میں ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد دنیا میں کرونا سے مرنے والے افراد کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔

بعض ڈاکٹر جو امریکہ میں اس بیماری کے خلاف گویا اگلے محاذوں پر جنگ کر رہے ہیں، کہتے ہیں کہ انھیں اس جدوجہد میں بہت سی معلومات حاصل ہوئی ہیں، مثلاً ایسے مریضوں کو طبی امداد مہیا کرنے کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل ہوئی ہے جن کے جسم میں اوکسیجن کی سطح میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

ماونٹ سینائی ہسپتال کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ سے منسلک میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر جولیون میک گریوی نے بتایا کہ ہم نے یہ مشاہدہ کیا کہ اگر بعض مریضوں کو پشت کے بل لٹادیا جائے تو اس سے آکسیجن کی سپلائی میں مدد ملتی ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سنٹر سے منسلک دل کے امراض کی ماہر ڈاکٹر جینیفر ہیتھ نے اس کی تشرح کرتے ہوئے بتایا کہ پھیپھڑے ایک اسفنج کی مانند ہوتے ہیں اور اس طرح وہ کھل جاتے ہیں اور مریض کو آکسیجن کی زیادہ مقدار دستیاب ہوتی ہے۔

ایک مسئلہ جس کی جانب انھوں نے توجہ دلائی وہ یہ ہے کہ ہستپالوں میں اچانک بنیادی ساز و سامان کی کمی کا سامنا ہو جاتا ہے جیسا کہ اٹلی، اسپین اور اس وائرس سے بہت زیادہ متاثرہ مقامات پر دیکھنے میں آیا۔ انھوں نے کہا کہ کاش ہمیں اس بات کا بروقت ادراک ہو جاتا کہ یہ وبا ہماری جانب رخ کر رہی ہے تو ہم پہلے ہی سے ہستپالوں کے نظام اور مریضوں کی دیکھ بھال کا مناسب بندوبست کر سکتے تھے۔

امریکن میڈیکل ویمن ایسوسی ایشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر اینجو گوائل نے اپنا مشاہدہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ بات بڑی حیران کن تھی کہ یہ وائرس عمر رسیدہ لوگوں پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ یہ بیماری بڑی عمر کے مریضوں پر کتنی شدت سے حملہ آور ہوتی ہے۔ اگر ہمیں اس کا پہلے سے پوری طرح اندازہ ہوتا تو بہت سی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا تھا، اور اس زمرے میں جو لوگ اتے ہیں ان کے لئےابتدائی ہی میں علاج معالجے کا موثر انتظام کیا جاسکتا تھا۔

ان کے تجربے کے مطابق، بعض لوگوں میں اس وائرس کی علامتیں معمولی ہوتی ہیں جبکہ بعض مریضوں کو یہ وائرس پوری شدت کے ساتھ جکڑ لیتا ہے، خاص کر پختنہ عمر کے لوگوں اور ایسے افراد کو جو پہلے ہی سے کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نمونیا سمیت دوسری سخت بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں، جن سے موت واقع ہوجاتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس کی ہییت کے بارے میں جب تک مکمل طور پر حقائق سامنے نہیں آتے، یہ بیماری پوری دنیا میں انسانی جانوں کو نگلتی رہے گی اور خوف و ہراس کے بادل چھائے رہیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG