رسائی کے لنکس

PSL ڈرافٹ میں کھلاڑیوں کی اسٹار پاور  کے بجائے اُن کی دستیابی کو فوقیت رہی


PSL کے تیسرے ایڈیشن میں کھلاڑیوں کا انتخاب۔ فائل فوٹو

پی ایس ایل کے اس تیسرے ایڈیشن میں ملتان سلطان چھٹی ٹیم کی حیثیت سے شریک ہو رہی ہے۔ اس ٹیم نے بھی کھلاڑیوں کا انتخاب اُن کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت دانشمندی سے کیا ہے

اب جبکہ پی ایس ایل میں شامل تمام کی تمام چھ ٹیموں نے اپنے اپنے کھلاڑی منتخب کر لئے ہیں، کچھ حلقوں میں اس بارے میں بے چینی پائی جاتی ہے کہ مارچ میں جب پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کےمیچ کھیلے جا رہے ہوں گے تو اسی وقت آئی سی سی ورلڈ کپ کے کوالی فائینگ میچ بھی ہو رہے ہوں گے جن میں ویسٹ انڈیز اور افغانستان کے سرکردہ کھلاڑی مصروف ہوں گے۔ مثال کے طور پر لوئس دستیاب ہونے کی صورت میں پلاٹینم کیٹیگری میں شاید پہلی چوائس ہوتے۔ لیکن اُن کی دستیابی مشکوک ہونے کی بنا پر اُنہیں پشاور زلمے نے اضافی کیٹیگری میں منتخب کیا۔ اسی طرح افغانستان کے اہم کھلاڑی راشد خان کو بھی کوئٹہ نے اسی اضافی کیٹیگری میں چنا۔ لیکن کرس گیل کو کسی بھی ٹیم نے منتخب نہیں کیا۔

عین اسی وقت آسٹریلیہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کھیل رہا ہو گا جبکہ انگلستان کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہو رہا ہو گا۔ اس وجہ سے پی ایس ایل ڈرافٹ میں ان ممالک کے ایسے کھلاڑیوں کو ہی چنا گیا جن کی متعلقہ ممالک کی قومی ٹیموں میں منتخب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یوں پہلے راؤنڈ میں کراچی کنگز نے کولن انگرم کو منتخب کر لیا۔ ان کے علاوہ بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والے جانسن اور لوک رونچی میں بھی فرینچائزز نے دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

لاہور قلندر نے گزشتہ پی ایس ایل میں زوردار شاٹ لگا کر تیز رنز کرنے والے بیٹسمین برینڈن میکلن کو چنا تھا۔ اس بار بھی اُنہوں نے ایسے ہی ایک اور کھلاڑی کرس لِن کا انتخاب کیا ہے۔ کراچی کنگز نے مچل جانسن کو ترجیح دی جبکہ کوئٹہ گلیڈئیٹرز کی نظر انتخاب کالوس بریتھویٹ پر پڑی۔

یوں پی ایس ایل ڈرافٹ میں کھلاڑیوں کی دستیابی اُن کی اسٹار پاور کے مقابلے میں زیادہ اہم رہی۔

جہاں تک پاکستان کے کھلاڑیوں کا تعلق ہے تو اُن میں زیادہ حیرت انگیز چناؤ دیکھنے میں نہیں آیا۔ قریب قریب تمام ہی ٹیموں نے پاکستان کے نمایاں کھلاڑیوں کو منتخب کررکھا تھا۔ تاہم یہ بات دلچسپ حیرت کا باعث رہی کہ تمام فرینچائزز نے نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں میں پچھلے سال منتخب ہونے والے کھلاڑیوں کو برقرار رکھا۔ مثال کے طور پر 2016 میں نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑی کوئٹہ کے حسن خان اور اسلام آباد کے حسین طلعت ایک مرتبہ پھر اپنے اپنے فرینچائز کا اعتماد حاصل کرتے دکھائی دئے۔

نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے زمرے میں لیفٹ آرم سپنر رضا حسن کو لاہور قلندر نے پھر ڈرافٹ کر لیا۔ رضا حسن پر 2015 میں کوکین کے استعمال کے باعث دو سال کی پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس پابندی کے خاتمے کے بعد عاقب جاوید نے اُن کی مدد کرنے کا عزم کیا اور وہ اس کھلاڑی کو دوبارہ فعال زندگی کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پی ایس ایل کے اس تیسرے ایڈیشن میں ملتان سلطان چھٹی ٹیم کی حیثیت سے شریک ہو رہی ہے۔ اس ٹیم نے بھی کھلاڑیوں کا انتخاب اُن کی دستیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت دانشمندی سے کیا ہے۔ اس ٹیم کے چار غیر ملکی کھلاڑیوں میں سے تین ویسٹ انڈین کھلاڑی ہیں۔ اس ٹیم کی کپتانی تجربہ کار کھلاڑی شعیب ملک کو سونپی گئی ہے۔ ملکی کھلاڑیوں میں سے اس نے سہیل تنویر اور احمد شہزاد کوچنا ہے۔

کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کو توقع ہے کہ یہ تیسرا پی ایس ایل پہلے دونوں ایڈیشنز سے کہیں زیادہ دلچسپ اور کامیاب ہو گا۔ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اس مرتبہ اس ٹورنمنٹ کا فائنل میچ کراچی میں کھیلا جائے گا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور سیکورٹی حکام اُنہیں اس سلسلے میں بھرپور تعاون کا یقین دلا چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG