رسائی کے لنکس

logo-print

2017 کی کرکٹ پر ایک نظر، پاکستان چیمپینز ٹرافی کا فاتح رہا


سنہ 2017 کے دوران مجموعی طور پر 92 ٹیسٹ، 250 ون ڈے اور 120 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گئے۔ ٹیسٹ میچوں کے شعبے میں افغانستان اور آئرلینڈ کو ٹیسٹ کا درجہ دے دیا گیا۔ تاہم یہ دیکھنا ہو گا کہ ان دو ٹیموں کے اضافے سے ٹیسٹ کرکٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اُدھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل یعنی آئی سی سی نے بلوں کی چوڑائی کی حد مقرر کر دی جس سے اس بارے میں ابھرنے والے تنازعات کا خاتمہ ہو گیا۔

اس سال کے دوران ہونے والی بڑی ٹیسٹ سیریز کا جائزہ لیا جائے تو آسٹریلہ اور انگلستان کے درمیان ہونے والی ایشز سیریز کے نتائج توقع کے مطابق ہی رہے۔ تاہم آسٹریلیہ کے کپتان اسٹیو اسمتھ بجا طور پر مطمئن ہوں گے کہ اُن کی ذاتی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم کی کارکردگی کی بنا پر وہ بھارت میں ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں ایک میچ جیتے اور دو ہارے حالانکہ کرکٹ کے مبصرین کا خیال تھا کہ یہ سیریز بھارت 4-0 سے جیت جائے گا۔

انگلستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز 3-1 سے جیتی اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔ اس سیریز میں بین سٹوکس کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی رہی۔ اُنہوں نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 228 رنز بنائے اور 9 وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم اس کے بعد ہونے والی ایشز سیریز کیلئے وہ دستیاب نہیں تھے کیونکہ برسٹل کے ایک نائٹ کلب میں جھگڑے کے نتیجے میں اُنہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پاکستان کو نیوزی لینڈ اور پھر آسٹریلیہ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ تاہم اس بات کی پہلے ہی سے توقع کی جا رہی تھی۔ لیکن پاکستان کو حقیقی معنوں میں اُس وقت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جب متحدہ عرب امارات کی جانی پہچانی وکٹوں پر اسے سری لنکا کے ہاتھوں 0-2 سے شکست ہو گئی۔ سیریز سے پہلے کرکٹ کے ماہرین پاکستان کو واضح طور پر فیورٹ قرار دے رہے تھے۔

سری لنکن ٹیم نے یہ سال بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ سیریز 1-1 کے ساتھ ڈرا پر ختم کی۔ اس کے بعد زمبابوے نے واحد ٹیسٹ میں سری لنکن ٹیم کو انتہائی مشکل میں ڈال دیا اور وہ بمشکل اس ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کر پائی۔ البتہ ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کی کارکردگی توقع سے بہتر رہی اور اُس نے جنوبی افرقی اور آسٹریلیہ کے خلاف 2-1 سے کامیابی حاصل کی۔

بنگلہ دیش نے سری لنکا اور آسٹریلیہ کے خلاف ہوم سیریز برابری پر ختم کی ۔ یوں بنگلہ دیش کی کارکردگی توقع سے کہیں بہتر رہی۔ لیکن پھر 2000 میں ٹیسٹ کا درجہ حاصل کرنے کے بعد اپنے پہلے مکمل بھارتی دورے میں اسے وراٹ کوہلی کی بھارتی ٹیم کے ہاتھوں بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔

متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے ہاتھوں غیر متوقع شکست کے باوجود سال 2017 پاکستان کیلئے یادگار ثابت ہوا جب اُس نے ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران 2-1 سے فتح حاصل کی۔ یہ پاکستان کیلئے ویسٹ انڈیز میں پہلی سیریز کی فتح تھی۔ لیکن یہ سیریز اس لئے بھی یادگار رہی کہ اس کے بعد پاکستانی ٹیم کے دو عظیم کھلاڑیوں مصبح الحق اور یونس خان نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کو اس سال ایک اور کامیابی حاصل ہوئی جب سری لنکن ٹیم سیریز کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی لاہور میں کھیلنے پر آمادہ ہو گئی اور یوں ایک عرصے کے بعد دنیائے کرکٹ کی ایک کلیدی ٹیم نے پاکستان میں ایک بین الاقوامی میچ کھیلا۔

پاکستانی ٹیم نے اپنی متلون مزاجی کی روایت برقرار رکھتے ہوئے چیمپینز ٹرافی کے ابتدائی میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد نہ صرف فائنل تک رسائی حاصل کی بلکہ فائنل میں بھارت ہی کو بری طرح ہرا کر چیمینز ٹرافی جیت لی۔ فخر زمان نے اس میچ میں جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 106 گیندوں پر 114 رنز بنا ڈالے۔ اس میچ میں محمد عامر نے وراٹ کوہلی کو صرف 5 رنز کے اسکور پر آؤٹ کر دیا۔

پاکستانی ٹیم میں چند نئے کھلاڑیوں نے اس سال شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقبل میں ٹیم کا اہم حصہ بننے کی نوید سنائی۔ ان میں سپن بالر شاداب خان، تیز بالر حسن علی اور جارحانہ بیٹنگ کرنے والے فخر زمان شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG