رسائی کے لنکس

پی ایس ایل: اینٹی کرپشن یونٹ کی مزید تین کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ


محمد عرفان (فائ فوٹو)

جمعہ کو معطل کیے گئے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کا تعلق پی ایس ایل میں شامل اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم سے تھا جب کہ محمد عرفان بھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوسرے ایڈیشن میں شامل دو کھلاڑیوں کو ضابطہ انسداد بدعنوانی کے تحت معطل کیے جانے کے بعد مزید تین کھلاڑیوں سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور پی ایس ایل کے سربراہ نجم سیٹھی نے ہفتہ کو ٹوئٹر پر بتایا کہ محمد عرفان، شاہ زیب حسن اور ذوالفقار بابر سے بھی پی سی بی کے انسداد بدعنوانی یونٹ نے سوال و جواب کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کھلاڑیوں کو معطل نہیں کیا گیا۔

نجم سیٹھی نے مزید کہا کہ پی سی بی کا اینٹی کرپشن یونٹ چوکنا رہے گا اور پی ایس ایل کو بدعنوانی کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گا۔

جمعہ کو معطل کیے گئے کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کا تعلق پی ایس ایل میں شامل اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم سے تھا جب کہ محمد عرفان بھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔

شاہ زیب حسن کراچی کنگز جب کہ ذوالفقار بابر کوئٹہ گلیڈی ایٹر کی طرف سے کھیل رہے ہیں۔

معطل کیے جانے والے کھلاڑیوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں نے پی ایس ایل کی ساکھ کو متاثر کرنے والے ایک بین الاقوامی سینیڈیکیٹ سے مبینہ طور پر ملاقات کی تھی اور مبینہ طور میچ فکسنگ سے متعلق گفت و شنید بھی ہوئی۔

بلے باز شرجیل خان نے گزشتہ سال پی ایس ایل کے پہلے ایڈیشن میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی جس کے بعد انھیں قومی ٹیم کا حصہ بھی بنایا گیا تھا۔

دوسرا ایڈیشن جمعرات سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہوا تھا جس کے پہلے میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو شکست دی تھی۔

اس میچ میں شرجیل خان نے محض چار رنز ہی بنائے تھے جب کہ بلے باز خالد لطیف اس میچ میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔

دنیائے کرکٹ میں مختلف لیگز میں میچ فکسنگ کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں جب کہ بھارت کی مشہور زمانہ انڈین پریمیئر لیگ میں بڑے پیمانے پر سٹے بازی اور بدعنوانی کی تحقیقات کے بعد متعدد کھلاڑیوں اور ٹیم کے مالکان کو جرمانے اور پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان سپر لیگ میں مبینہ طور پر میچ فکسنگ کی کوشش منظر عام پر آئی ہے۔

کرکٹ کے معروف مبصر احتشام الحق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ خبریں کسی طور بھی پاکستانی کرکٹ کے لیے نیک شگون نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیائے کھیل کے سب ہی بڑے مقابلوں میں بدعنوانی اور سٹے بازی کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں اور کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ بدعنوانی میں کسی بھی طرح ملوث اپنے کھلاڑیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کر کے انھیں ایک مثال بنائے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی قومی ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف کو 2010ء میں اسپاٹ فکسنگ کا ارتکاب کرنے پر کرکٹ کی عالمی تنظیم نے پابندی کی سزائیں سنائی تھیں۔

فاسٹ باؤلر محمد عامر اپنی پابندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ سال سے قومی ٹیم کا حصہ ہیں جب کہ دیگر دو کھلاڑی ابھی تک ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے ہیں، تاہم وہ مقامی سطح پر کرکٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG