رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیجیٹل کرنسی کاروباری خواتین کے لئے سرمایہ حاصل کرنے کا آسان ذریعہ


کاروبار کوئی بھی ہو کہیں بھی ہو اس کے لئے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں اگر کرنسی بھی ڈیجیٹل ہو تو شاید اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں۔

آپ نے بِٹ کوئن اور دیگر کرپٹو کرنسیز کے بارے میں تو سنا ہو گا۔ ویسے تو یہ سب بہت پُراسرار کرنسیز معلوم ہوتی ہیں لیکن ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کے لئے سرمائے میں تیزی سے اضافے کا یہ ایک متبادل ضرور ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں اگر کسی کے پاس کوئی نیا پروگرام کوئی نئی تھیوری ہوتی ہے تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور پھر سرمائے کی بھی کمی نہیں رہتی۔ لیکن ایسا عموماً مردوں کے لئے آسان ہے اور خواتین کے لئے کافی مشکل۔ مگر خواتین بھر پور انداز میں مشکلات کا مقابلہ کر رہی ہیں۔

لیزا وینگ، شی ورکس نامی کمپنی کی چیف ایگزیکیٹو ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ کسی منصوبے پر سرمایہ کاری کے شعبے میں 94 فی صد مرد چھائے ہوئے ہیں ۔ اور مردوں کی یہ اجارہ داری خواتین اور اقلیتوں کے لئے سرمائے کا حصول واقعتا مشکل بنا دیتی ہے۔

اب کاروباری خواتین سرمایہ حاصل کرنے کے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہیں اور ان کی نظر ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی اور انتہائی فعال کرنسیوں پر ہے اور یہ ہیں کرپٹو کرنسیز اور بلاک چین۔

کنسی نسز نامی کمپنی کی ڈائریکٹر آف آپریشنز کیرولین ریک ہاؤ کہتی ہیں کہ بلاک چین کی مجوزہ قدر اس لئے بہتر ہے کیونکہ اس میں کوئی درمیانی قوت نہیں ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی اور کو معاوضہ دینے کی ضرورت نہیں۔ اس سے فنڈز جمع کرنے میں بھی مدد ملتی ہے

کاسٹنگ کوئن کی چیف ایگزیکٹیو مشعل میکار میک کہتی ہیں کہ بلاک چین میں مردوں کی اجارہ داری نہیں ہے۔ پھر کیوں نہ اس میں طبع آزمائی کی جائے۔ ایک نئی تخلیق کی جائے۔

مشعل میکارمیک نے کاسٹنگ کوئن کے نام سے ایک نئی ڈیجیٹل کرنسی بنائی ہے اور وہ اسے اپنی کمپنی کے لئے استعمال کر رہی ہیں جو ماڈلز اور برینڈز کو رابطے میں رکھنے کا ایک پلیٹ فارم ہے۔

کیرولین ریک ہاؤ کہتی ہیں کہ ایسی جگہ جہاں لوگ سرمائے پر قابض ہیں آپ اسے ایک ایسی آزاد دنیا کے طور پر دیکھتے ہیں جہاں خواتین اپنی صلاحیتں منوا سکتی ہیں۔ اگرچہ کوئی بھی کامیابی دنوں میں حاصل نہیں ہوتی مگر ان کاروباری خواتین کا عزم ہے کہ داستان رہے داستانوں میں تو کامیابی دور نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG