رسائی کے لنکس

logo-print

ایل او سی پر گولہ باری سے ایک فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک


سرحد پار کی گولا باری سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 30 جولائی 2019

کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ دو روز میں پاکستان کے تین شہری جبکہ ہندوستان کا ایک فوجی اور ایک شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق، بدھ کی صبح بھارتی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ایک مارٹر گولہ گزشتہ روز زخمی ہونے والے محمد صدیق کی رہائش گاہ پر گرا جس سے ان کا چار سالہ بیٹا ایان ہلاک جبکہ تیمارداری کے لیے آئے ہوئے 10 افراد زخمی ہو گئے۔

ڈپٹی کمشنر وادی نیلم راجہ شاہد محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ سرحد پار سے فائر کیا گیا مارٹر گولہ چلہانہ گاؤں میں محمد صدیق کے مکان پر گرا۔

واضح رہے کہ فائرنگ کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی ٹریفک بھی جزوی طور پر معطل ہے۔

قبل ازیں، پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ سیاحتی مقام وادی نیلم کے قریب بھارتی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی۔

بیان کے مطابق، مارٹر گولوں کی زد میں آکر منگل کے روز ایک شخص ہلاک جبکہ نو زخمی ہوئے تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے وادی نیلم کے ڈپٹی کشمیر راجہ شاہد محمود نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ روز وادی نیلم میں کٹھ چوگلی میں بھارت کی گولہ باری سے ایک خاتون کی موت واقع ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر فائرنگ کے نتیجے میں وادی میں پھنس جانے والے سیاحوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے۔

وادی نیلم کے صدر مقام آٹھ مقام میں قائم ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کو بھی گولہ باری سے جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اسپتال کے ایک اہل کار نے وی او اے کو بتایا کہ منگل کے روز ہونے والی گولہ باری سے اسپتال کی لیبارٹری کو نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق، کافی عرصے کے بعد وادی نیلم میں اتنی شدید گولہ باری ہوئی ہے۔ گولہ باری کی وجہ سے آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نیلم نے بتایا کہ گولہ باری سے کئی گھر جل کر تباہ ہو گئے ہیں۔

سرحد پار سے فائر کیا جانے والا ایک مارٹر گولا۔
سرحد پار سے فائر کیا جانے والا ایک مارٹر گولا۔

حکام کے مطابق، پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان منگل کے روز دن بھر وادی لیپہ میں بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا جس میں وادی لیپہ کا ایک شہری زخمی ہوا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے ادارے، اسٹیٹ ڈزاسٹر میجنمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے مطابق، بھارت کی طرف سے منگل کے روز وادی نیلم میں ہونے والی گولہ باری کے دوران کھلونا بم پھینکے گئے ہیں۔ عوام ان کھلونا نما بموں کے قریب نہ جائیں۔

بھارتی کشمیر میں فوجی اور خاتون ہلاک

دوسری جانب، بھارتی کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فورسز کی گولہ باری سے ایک بھارتی فوجی نائک کرشنا لال ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں، گریز سیکٹر میں پاکستان سے ہونے والی گولہ باری سے محکمہ صحت کی ملازم خاتون 35 سالہ رحیمی بیگم ہلاک جبکہ ایک اہلکار عبدالاحد زخمی ہوئے۔

'فائر بندی کی خلاف ورزی بھارت کی مایوسی کا اظہار ہے'

ڈی جی آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت مسلسل فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ناکامی ہو رہی ہے، جس کا غصہ وہ فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر نکال رہا ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج بھارت کی ان اشتعال انگیز کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان مختلف اوقات میں فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ دونوں کی جانب سے یہ دعوے کیے جاتے ہیں کہ سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات رواں سال فروری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلواما میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی بس پر ہونے والے خود کش حملے میں 41 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے ہی کشیدہ ہیں۔

بھارت نے اس واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان نے بھی جواب میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کا ایک طیارہ مار گرایا تھا، جو پاکستانی علاقے میں گرا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG