رسائی کے لنکس

logo-print

شاہانہ سفر ڈراؤنے خواب میں تبدیل


تفریحی بحری جہاز ڈائمنڈ پرنسس میں دو ہفتے کے شاہانہ سفر کا خرچہ پانچ ہزار ڈالر ہے۔ اس کے لیے پیشگی بکنگ کروانی پڑتی ہے کیونکہ اس کی 2666 نشستیں تیزی سے بک ہوجاتی ہیں۔ عملے کے 1045 ارکان مہمانوں کی جی جان سے خدمت کرتے ہیں۔ ایک بار سفر کرنے والا زندگی بھر اسے یاد کرتا ہے اور جیب میں پیسے ہوں تو دوبارہ کی خواہش رکھتا ہے۔

لیکن اس بار ڈائمنڈ پرنسس کے مہمان بننے والے شاید دوبارہ ایسا سفر کرنے کی خواہش نہ کریں۔ انھیں یہ سفر ضرور یاد رہے گا لیکن کسی ڈراؤنے خواب کی طرح۔

20 جنوری کو یوکوہاما سے سفر شروع کرنے والے ڈائمنڈ پرنسس کو جاپان کے اطراف گھوم پھر کے 4 فروری کو واپس پہنچنا تھا۔ لیکن25 جنوری کو ایک مسافر بیمار ہونے کے بعد ہانگ کانگ اتر گیا اور چند دن بعد معلوم ہوا کہ وہ کروناوائرس کا شکار ہے۔ اس کے بعد جہاز واپس یوکوہاما پہنچا اور اسے سمندری قرنطینہ قرار دے دیا گیا۔

4 فروری کو جاپان کے محکمہ صحت نے مسافروں اور عملے کا معائنہ کرنا شروع کیا اور تب سے جمعرات تک 218 مسافروں اور عملے کے ارکان میں کروناوائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ چین سے باہر یہ کسی ایک مقام پر وائرس کے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بیمار مسافروں کو جاپان کے اسپتالوں کو منتقل کیا جاچکا ہے لیکن کسی اور شخص کو جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں۔ انھیں 19 فروری تک کا انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے خطرے کے شکار افراد کو دو ہفتے تک قرنطینہ میں رکھنا ضروری ہے۔

بیشتر مسافر اپنے کیبنوں میں بند تھے لیکن عملے کے ارکان بدستور ان کی خدمت میں مصروف رہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ جہاز پر اور کتنے مسافر بیمار ہیں۔ اگر کوئی اور ہے تو ان کا خیال رکھنے والے عملے کے ارکان سب سے زیادہ خطرے میں تھے۔ اب تک عملے کے کم از کم پندرہ ارکان وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔

ہزاروں ڈالر دے کر جہاز پر آنے والے مسافروں کو الگ الگ کیبنوں میں رکھا گیا لیکن عملے کو یہ سہولت میسر نہیں۔ ایک کیبن کو دو یا زیادہ ارکان شیئر کرتے ہیں اور ایک کے بیمار ہونے کی صورت میں دوسرے کے بچنے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔

عملے کی ایک بھارتی رکن سونالی ٹھکر نے سی این این سے اسکائپ پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دو دن پہلے وہ اور اس کی روم میٹ بخار، کھانسی اور سردرد میں مبتلا ہوئے۔ ان کی سوپروائزر نے انھیں آرام کرنے کو کہا اور تب سے وہ تنہائی میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کھاپی نہیں پارہیں اور سخت خوفزدہ ہیں۔ ان کا ٹیسٹ کیا جاچکا ہے لیکن نتیجہ آنے میں کئی دن لگتے ہیں۔

سونالی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھی تمام مسافروں کو کھانا پینا فراہم کررہے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں کچھ مسافر بیمار ہوں۔ عملے کا کوئی شخص وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دوسروں کو بیماری لگاسکتا ہے کیونکہ سب لوگ ایک مقام پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔

ڈائمنڈ پرنسس کے عملے میں بھارتی کارکنوں کی تعداد 160 ہے۔ ان میں سے کئی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ ان کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کریں تاکہ وہ وائرس سے بچ سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG