رسائی کے لنکس

logo-print

ہوانا: پوپ کی آمد، امریکہ کیوبا تعلقات ’امید کی کرن‘ قرار


اپنے کلمات میں پوپ فرینسس نے طویل عرصے تک مخاصمانہ رویہ رکھنے کے بعد اِن ہمسایہ ملکوں کے درمیان دوستی کی تعریف کی۔ بقول اُن کے، ’یہ ساری دنیا کے لیے مفاہمت کی ایک مثال ہے، جس سے ہمارے اندر امید کی کرن جلوہ گر ہوتی ہے‘

اپنے تاریخی دورے پر، پوپ فرینسس ہفتے کو ہوانا پہنچے؛ وہ اپنے 10 روزہ دورے میں کیوبا کے بعد امریکہ کا دورہ کریں گے۔

اپنے کلمات میں پوپ فرینسس نے طویل عرصے تک مخاصمانہ رویہ رکھنے کے بعد اِن ہمسایہ ملکوں کے درمیان دوستی کی تعریف کی۔ بقول اُن کے، ’یہ ساری دنیا کے لیے مفاہمت کی ایک مثال ہے، جس سے ہمارے اندر امید کی کرن جلوہ گر ہوتی ہے‘۔

فرینسس نے دونوں ملکوں کے مابین دوستانہ تعلقات کو، جس ضمن میں ویٹیکن نے ایک مرکزی کردار ادا کیا، کہا کہ ’یہ حالات کا سامنا کرنے اور مکالمے کی ثقافت کی فتح کی ایک علامت ہے‘۔

ہوانا آمد پر کیوبا کے صدر رئول کاسترو نے پوپ فرینسس کا استقبال کیا، جنھوں نے اپنے کلمات میں پوپ کو یقین دلایا کہ ’کیوبا کے آئین میں آزادی مذہب کو مقدس مقام حاصل ہے‘۔
اتوار کے دِن، پوپ ہوانا کے وسیع و عریض انقلابی چوک پر منعقدہ ایک دعائیہ تقریب میں اجتماع سے خطاب کریں گے، جس کے بعد وہ کاسترو سے ایک نجی ملاقات کریں گے۔

کیوبا کے رہنما ارجنٹینا مین جنم لینے والے پوپ سے اتنا متاثر ہیں کہ اُنھوں نے اس سال کے اوائل میں عہد کرچکے ہیں کہ وہ رومن کیتھولک چرچ کی جانب لوٹ سکتے ہیں، حالانکہ سرکاری طور پر کیوبا لادینیت کو گلے لگا چکا ہے۔

کیوبا کے سہ روزہ دورے میں پوپ فرینسس ہوجن اور سنتیاگو کے شہروں کا سفر کریں گے، جہاں وہ عبادت کے اجتماعات سے خطاب اور دونوں شہروں میں کیتھولک مذہبی شخصیات سے ملاقات کریں گے، جس کے بعد وہ واشنگٹن کے لیے روانہ ہوں گے۔

ہوانا میں پوپ فرینسس کا ایک ہیرو کے طور پر خیرمقدم کیا گیا۔ وہ اُنھیں امریکہ اور کیوبا کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کرنے کے معترف ہیں۔


پوپ فرینسس اور ویٹیکن کے اہل کاروں نے 2014ء میں کیوبا اور امریکہ کے مابین کئی ماہ تک خفیہ بات چیت کی سہولت فراہم کی، جس کے نتیجے میں کاسترو اور امریکی صدر براک اوباما نے دسمبر میں سفارتی تعلقات بحال کرنے کا تاریخی اعلان کیا۔ اُس کے بعد، دونوں ملکوں نے واشنگٹن اور ہوانا میں سفارت خانے دوبارہ کھول لیے ہیں۔


XS
SM
MD
LG