رسائی کے لنکس

logo-print

خاندان کے چھ افراد کو ایک ایک کرکے ٹھکانے لگانے والی عورت


بھارت کے ایک خاندان میں چودہ سال کے دوران چھ افراد بظاہر طبعی موت کا شکار ہوئے۔ خاندان کی ایک خاتون نے شبہ ہونے پر پولیس سے شکایت کی جس کے بعد تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ان تمام افراد کو مبینہ طور پر ایک عورت نے زہر دے کر قتل کیا ہے۔

مقتولین میں اس کا پہلا شوہر، سسر اور ساس کے علاوہ دوسرے شوہر کی پہلی بیوی اور بیٹی بھی شامل ہیں۔

ریاست کیرالہ کے ایک گاؤں کوڈاتھائی کی رہائشی 47 سالہ جولی جوزف کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمہ نے پولیس کے سامنے قتل کی وارداتوں کا اعتراف کر لیا ہے۔ لیکن تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس نے عدالت میں اقبال جرم نہ کیا تو اسے سزا دلانا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے خلاف مضبوط شواہد نہیں ہیں۔

جولی جوزف کی ساس انما کا اگست 2002 میں سوپ پیتے ہوئے انتقال ہوگیا تھا۔ 2008 میں اس کے سسر ٹام کھانا کھاتے ہوئے چل بسے۔ ان دونوں اموات پر کسی کو شک نہیں ہوا۔ 2011 میں اس کے شوہر روئے کا بھی الٹیاں کرتے ہوئے انتقال ہوا۔ ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تو جسم میں سائنائیڈ زہر پایا گیا۔ چنانچہ ان کی موت کو خودکشی قرار دے دیا گیا۔

اس موقع پر جولی جوزف سے سب نے ہمدردی کا اظہار کیا کیونکہ دو بچوں کی پرورش کی ذمے داری اس بیوہ ماں پر تھی۔

2016 میں روئے کے کزن شاجو کی دو سالہ بیٹی ایک تقریب میں روٹی کا ٹکڑا کھاتے ہوئے پراسرار طور پر انتقال کر گئی۔ 2 سال بعد شاجو کی بیوی دانتوں کے ڈاکٹر کے کلینک میں اچانک چل بسی۔ تب تک کسی کو شک نہیں ہوا کہ ہر پراسرار موت کے مقام پر جولی جوزف کیوں موجود ہوتی ہے۔

لیکن جب جولی نے شاجو سے شادی کی تو اس کے پہلے شوہر روئے کی بہن رینجی پولیس کے پاس پہنچی اور اپنے شک کا اظہار کیا۔ پولیس نے تفتیش کی اور جولی جوزف کو گرفتار کرلیا جس نے اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا۔ اسے سائنائیڈ زہر فراہم کرنے کے الزام میں مزید دو افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے شوہر شاجو نے اس کے خلاف بیان دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG