رسائی کے لنکس

logo-print

آئی اسٹینڈ ود سیرل: صحافت جرم نہیں ہے


صحافی سرل المیڈا

کسی بھی صحافی کا سابقہ وزیراعظم کو انٹرویو کرنے پر حراست میں لینے یا بغاوت کا الزام لگانا کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، صحافت جرم نہیں ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سابقہ دو وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے ساتھ ساتھ ڈان سے منسلک صحافی، سیرل المیڈا کو بھی 8 اکتوبر کو بغاوت کے مقدمے میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے سیرل المیڈا کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئے ہیں۔

پاکستانی ٹویٹر پر آج سیرل امیڈا کے حق میں ٹرینڈ #IStandWithCyril پہلے نمبر پر رہا۔

پاکستان کے نامور صحافی، تجزیہ نگار، وکلا اور ایکٹوسٹ سیرل المیڈا کے حق میں اظہار خیال کرتے رہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے افراسیاب خٹک نے لکھا کہ آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی پر حملہ جمہوریت کو آہستہ آہستہ کنٹرول کرنے کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیاں اس سے صرف نظر تو کر سکتی ہیں مگر اس سے ان کا ہی نقصان ہو گا۔

عاصمہ شیرازی نے لکھا کہ ایک صحافی کو رپورٹ اور انٹرویو کرنے پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ قانون اور آئین کے ساتھ مذاق ہے۔

ماریانہ بابر نے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری کو لکھا کہ ایک سابقہ صحافی کے طور پر آپ سے امید ہے کہ سیرل کے حقوق پامال نہیں کئے جائیں گے۔ انہوں نے لکھا کہ آزادی اظہار کو دبانے کے خلاف شیریں مزاری کو آواز اٹھانی چاہئے۔

صحافی وینگس نے والٹئیر کا قول نقل کیا کہ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کا اصل حکمران کون ہے تو بس یہ دیکھ لیں کہ کس پر آپ کو تنقید کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے لکھا کہ نئے پاکستان میں پرانے پاکستان کی طرح ہی تقریر کی آزادی پر کچھ قدغنیں ہیں۔

ایکٹوسٹ سلیم نے لکھا کہ یورپ کے تاریک دنوں میں توہین مذہب اور غداری اختلافی آوازوں کو دبانے کے ہتھیار ہوا کرتے تھے۔ 2018 کے پاکستان میں یہ دونوں پوری شدت سے استعمال ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے لکھا کہ آئین آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی اور معلومات کے حصول کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔ صرف اس وجہ سے کہ صحافی کی دی گئی خبر سے کسی کو اتفاق نہیں ہے اسے نشانہ بنانا فاشزم ہے۔

قانون دان اور تجزیہ نگار ریما عمر نے لکھا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ سیاست دانوں، ججوں اور ٹی وی کے تجزیہ نگاروں پر غداری کے الزامات کو اظہار پر قدغنیں لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کی تضحیک بالکل بھی غداری میں شمار نہیں ہوتی بلکہ آئین کو جبراً معطل کرنا بغاوت ہے۔

نوجوان صحافی عمر علی نے لکھا کہ کسی بھی صحافی کا سابقہ وزیراعظم کو انٹرویو کرنے پر حراست میں لینے یا بغاوت کا الزام لگانا کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے، صحافت جرم نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG