رسائی کے لنکس

غیر قانونی تارکین وطن کے تحفظ کے پروگرام کی منسوخی کے بعد


فلار اپنے پانچ چھوٹے بہن بھائیوں کو پالنے کے لیے، جو امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں اور اپنی پیدائش کی بنا پر امریکی شہری ہیں، تنہا اپنی والدہ کی مدد کر رہی تھی۔ اب اس اعلان سے اسے اچانک یہ پتا چلا ہے کہ اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

منگل کے روزامریکی اٹارنی جنرل جیف سیشن نے تارکین وطن کے پروگرام’ ڈاکا‘ کے خاتمے کا اعلان کیا ۔ سابق صدر براک أوباما نے ان لگ بھگ آٹھ لاکھ تارکین وطن کو روزگار کے مواقع اور ملک سے نکالے جانے سے بچانے کے لیے یہ پروگرام متعارف کرایا تھا جو امریکہ میں کسی ویزے یا رہائشی اجازت نامے کے بغیر اس وقت آئے تھے جب وہ بچے تھے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس کے باوجود اس پروگرام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا کہ متاثرہ افراد نے جگہ جگہ اپیلیں کیں۔

وائس آف امریکہ نے اس پروگرام سے استفادہ کرنے والوں سے بات کی جنہوں نے کہا کہ ان سے جہاں تک ہو سکا وہ امریکہ میں قیام کی اجازت کے لیے کوشش کریں گے۔

ڈاکا پروگرام سے مستفید ہونے والی 20 سالہ فلار ریس کا کہنا تھا کہ میں نہیں جانتی کہ میں آج بعد میں گھر کیسے جاؤں گی اور اپنی والدہ کو کیسے یہ وضاحت کروں گی کہ میں اب ان کی اس طرح مدد نہیں کر پاؤں گی جس طرح میں پہلے ان کی معاونت کرتی رہی ہوں۔

فلار اپنے پانچ چھوٹے بہن بھائیوں کو پالنے کے لیے، جو امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں اور اپنی پیدائش کی بنا پر امریکی شہری ہیں، تنہا اپنی والدہ کی مدد کر رہی تھی۔ اب اس اعلان سے اسے اچانک یہ پتا چلا ہے کہ اس کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہم مشکلات سے نکل کر تو اور بھی زیادہ خطرے میں پڑ گئے ہیں ۔

فلار ریس کے پاس وہی جواز ہے جو ا س جیسے لگ بھگ آٹھ لاکھ دوسرے تارکین وطن کا ہے ۔ فلار کی طرح وہ سب کسی اور ملک میں پیدا ہوئے تھے لیکن وہ امریکہ میں پلے بڑھے تھے ۔ بہت سے واقعات میں ان کا کسی بھی جگہ کوئی گھر نہیں ہے۔

منگل کے روز تک جب حکومت نے’ ڈاکا‘ نامی پروگرام کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا تھا وہ کام کے اجازت ناموں کی تجدید اور ملک سے بے دخلی سے بچ سکتے تھے۔

یہ پریشانی نیو یارک کے ٹرمپ ٹاور کے سامنے بڑے پیمانے کی سول نا فرمانی کی شکل اختیار کر گئی، جو انتظامیہ کی جانب سے اس پروگرام کو قانونی یا ممکنہ طور پر قانون پرستی کے جواز میں ختم کرنے کے فیصلے کا رد عمل تھا ۔ آئین کانگریس کو قانون سازی کا کردار سونپتا ہے ۔ ایکزیکٹو کا کام اس قانون پر عمل کرنا ہے۔

فیڈریشن فار امیریکن امیگریشن ریفارم کے ڈیو رے کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ ان لوگوں کو کوئی مستقل حل نہیں دے سکتے تھے ۔ کوئی صدر نہیں دے سکتا ۔ یہ صدر کے آئینی اختیار سے بالا تر ہے ۔ أوباما یہ جانتے تھے ٹرمپ کو یہ معلوم تھا ۔ اس لیے یہ مسئلہ کانگریس کو حل کرنا ہو گا۔ اور یہ وہ نکتہ ہے جس سے وہائٹ ہاؤس سے لے کر ٹرمپ کے آبائی شہر سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکن اور اس پروگرام کے حامی اتفاق نہیں کرتے، جن کا جواز ہے کہ یہ فیصلہ ایک منافقانہ اقدام ہے۔

نیویارک امیگریشن کولیشن نامی تنظیم کے ایکزیکٹو ڈائریکٹر ا سٹیون چھوئی کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے قانونی طور پر جائز ہونے کے بارے میں قانونی تجزیہ بالکل نہیں بدلا ہے ۔ یہ وہی قانونی تجزیہ ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کے بالکل آغاز سے موجود تھا جب صدر ٹرمپ نے خود کہا تھا کہ خواب دیکھنے والے آرام سے رہ سکتے ہیں ۔ قانونی تجزیے کے حوالے سے کچھ تبدیل نہیں ہوا ہے۔ جو چیز تبدیل ہوئی ہے وہ صرف سیاست ہے۔

اور اگر ایک منقسم کانگریس مارچ سے پہلے اس قانون کو نافذ نہیں کرتی تو یہ پروگرام مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

اس پروگرام سے استفادہ کرنے والے کیون ڈورٹ کہتے ہیں کہ سچ کہوں تو مجھے اس حکومت سے حتیٰ کہ اس ملک سے بھی کوئی امید نہیں ہے ۔ میری امید در حقیقت ان لوگوں سے بندھی ہے جنہیں آپ اس وقت ہمارے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے تحریک در حقیقت اپنی طاقت حاصل کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG