رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیم یا فیڈریشن؟


پیمرا کی عمارت، فائل فوٹو

پاکستان میں الیکٹرونک میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے پیمرا نے نیوز چینلوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چیف جسٹس کے قائم کردہ دیامر بھاشا ڈیم فنڈ پر ’’توہین آمیز‘‘ تبصرے نشر کرنے سے باز رہیں۔ سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی میڈیا میں آزادانہ بات کرنے کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔

پیمرا کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ’’ایڈوائس‘‘ میں کہا گیا کہ نیوز چینل کسی ادارہ جاتی کنٹرول کے بغیر دیامر بھاشا ڈیم فنڈ سے متعلق سیاست دانوں، تجزیہ کاروں اور قانونی ماہرین کے توہین آمیز تجزیے نشر کر رہے ہیں۔ ایڈوائس میں کہا گیا ہے کہ ایسا مواد نشر کرنے سے اجتناب کیا جائے جو اعلیٰ عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف بہتان تراشی پر مبنی ہو ورنہ پیمرا کارروائی کرے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار ڈیم بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور ان کے حکم پر اسٹیٹ بینک نے اس کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کیا ہے۔ چیف جسٹس کہہ چکے ہیں کہ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے والے ’’ملک دشمن‘‘ ہیں اور انھوں نے عندیہ دیا تھا کہ ڈیم کے مخالفین کے خلاف آرٹیکل سکس(6) کے تحت غداری کا مقدمہ قائم کیا جاسکتا ہے۔

عائشہ بخش جیونیوز پر ایک ٹاک شو کی میزبان ہیں۔ پیر کو ڈیم اور آرٹیکل سکس کا ذکر بھی آیا۔ عائشہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پروگرام میں چھ سات تجزیہ کار اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور یہی پروگرام کی خوبصورتی ہے کہ کئی طرح کے نقطہ نظر سامنے آتے ہیں۔ ہر شخص کا سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ سب کی رائے سن لی جائے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔

عائشہ بخش کا پروگرام پہلے براہ راست نشر کیا جاتا تھا لیکن اب ریکارڈ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ سینئر صحافی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا پر کنٹرول سخت ہونے کے بعد کئی پروگرام اب لائیو نشر نہیں کیے جاتے۔

صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے اظہار کی آزادی کے لیے کوشاں رہی ہے۔ لیکن اب دھڑوں میں بٹ جانے کی وجہ سے اس کے نظریات اور جدوجہد متاثر ہوئی ہے۔ تنظیم کے ایک دھڑے کے عہدے دار پرویز شوکت نے کہا کہ کچھ اینکرز اور سیاست دان ٹی وی پر ڈیم کے بارے میں منفی تبصرے کر رہے تھے۔ اس بارے میں پیمرا نے سپریم کورٹ کے کہنے پر ایڈوائس جاری کی ہے اس لیے میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کچھ صحافیوں نے اظہار کی آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے۔

پرویز شوکت نے کہا کہ ڈیم قومی مفاد کا معاملہ ہے اور ملک میں ڈیموں کی ضرورت ہے۔ لوگ پانی کو ترس رہے ہیں اور پاکستان میں قحط پڑنے کا خدشہ ہے۔ اگر کسی نے ڈیم بنانے کا بیڑا ٹھایا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔

سندھی نیوز چینل کے ٹی این کے ڈائریکٹر نیوز اشفاق آزاد کہتے ہیں کہ ملک میں کئی معاملات پر بات کرنے پر غیر علانیہ پابندی عائد ہے اور ڈیم اس فہرست میں نیا اضافہ ہے۔ اس معاملے کو پتا نہیں کیوں اس قدر حساس بنادیا گیا ہے کہ آرٹیکل سکس کے تحت غداری کا مقدمہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ انتہائی نامناسب بات ہے۔

اشفاق آزاد نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اس میں صرف ایک علاقے کے لوگ نہیں بستے۔ یہاں مختلف قومیں آباد ہیں، ان کے تحفظات ہیں اور انھیں سننا چاہیے۔ جس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے اس سے فیڈریشن کو فائدہ نہیں ہو گا بلکہ نقصان ہو گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا متنازعہ معاملات کو اپنے وقار اور قومی مفاد سے جوڑنا مناسب نہیں۔ اس کا ناخوشگوار نتیجہ برآمد ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG